سردار تنویر الیاس، گھر کا بھیدی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
✍️ رائے یُوسُف رضا دھنیالہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سردار تنویر الیاس نے پانچ ہزار مُربع میل پہ مُشتمل ایک چھوٹی سی زمینی پٹی کی وزارتِ اعلیٰ (جسے وزارتِ عُظمیٰ بھی کہا جاتا ہے) واقعی بہت مہنگے داموں عمران خان سے خریدی تھی تاہم یہ سودا اُس کی اپنی مرضی کا تھا لیکن اب وہ اِس پہ واویلا بھی کر رہا ہے۔

وہ ایک کامیاب کاروباری آدمی تھا جسے اپنا پورٹ فولیو اپنی ریاست کی سربراہی کے طور پہ سیاسی طرز کا بنانے کا شوق چُرایا تو تبھی اُس نے آزاد کشمیر کی وزارتِ عظمیٰ کا حلف اُٹھایا۔

اُسے اپنے نام کے ساتھ وزیراعظم لکھوانے کا ارمان تھا جبکہ اُسے وزیراعظم بنوانے والی سیاسی پارٹی؛ پاکستان تحریکِ انصاف اور اُس کے سربراہ عمران خان صاحب کو اپنی سیاست کے خرچے پُورے کرنے کے لئے پیسوں کی ضرورت تھی، لہذا دونوں نے اپنی اپنی ضرورتوں کو پورا کیا۔

لیکن ہر سرمایہ دار چونکہ اپنی سرمایہ کاری کا زیادہ بہتر اور بڑا منافع چاہتا ہے، لہذا اِقتدار سے محروم ہوتے ہی سردار تنویر الیاس کو محسوس ہوا کہ جتنے پیسے اُس نے خرچ کئے ہیں، اُن کے بدلے آزاد کشمیر کی وزارتِ عظمیٰ اُسے بہت مہنگی پڑی اور شائد گھاٹے کا سودا بھی۔
یہی وجہ ہے کہ تنویر الیاس نے سابق وزیراعظم ہوتے ہی عمران خان کی ذات اور اپنے اِستحصال کے بارے میں بیان بازی شروع کر دی تھی لیکن اب اُن کے بیانات گھر کے بھیدی کی طرف سے لنکا ڈھانے جیسے ثابت ہو رہے ہیں جن میں اُنہوں نے برملا طور پر کچھ یُوں بتایا ہے کہ:
◀️ میں نے عمران خان اور پی ٹی آئی پر اربوں روپے خرچ کئے۔
◀️ عمران خان پندرہ، بیس کروڑ تو ٹیلی فون کال پہ ہی مانگ لیا کرتا تھا۔ اور مسلسل کروڑوں روپے وہ مانگتا رہا اور میں اُسے دیتا بھی رہا۔
◀️ پیسے ملنے پر وقتی طور پر وہ خوش ہو جاتا لیکن جلد ہی اُس کا چہرہ پھر سے بگڑ جایا کرتا تھا۔ لہذا ایسے شخص کو میں مسلسل پیسے دے کر بھی خوش نہ رکھ سکا کیونکہ عمران خان کو کبھی بھی خوش رکھا جا سکتا ہی نہیں۔
◀️ عمران خان نے ٹکٹوں کی تقسیم میں بہت سے پیسے کمائے اور کروڑوں روپے لے کر اُمیدواروں کو ٹکٹ خود بیچے۔
◀️ مُجھے وزیراعظم بنوانے اور مجھے اعتماد کا ووٹ دِلوانے کے لئے آزاد کشمیر اسمبلی کے ممبران کے لئے عمران خان نے فی ممبر مُجھ سے ڈھائی کروڑ روپے پارٹی فنڈ لیا لیکن بعد میں پتہ چلا کہ کسی ممبر کو پچاس لاکھ روپے دئیے گئے جبکہ کسی ممبر کو کچھ بھی نہ دیا گیا۔
◀️ عمران خان کے لئے کوئی کچھ بھی کر لے لیکن وہ اتنا مطلبی ہے کہ اُسے کبھی بھی خوش نہیں رکھا جا سکتا۔
◀️ میں نے اپنی زندگی میں پہلی بار جس سیاسی جماعت کو جوائن کیا وہ پی ٹی آئی ہے لیکن پی ٹی آئی کو عمران خان کے بغیر بہتر طریقے سے چلایا جا سکتا ہے، ورنہ میں عمران خان کی سربراہی والی پی ٹی آئی کو چھوڑ دینے کے بارے میں سنجیدگی کے ساتھ سوچ رہا ہوں۔
◀️ عمران خان کی طرف سے افواجِ پاکستان کے خلاف نفرت انگیز سیاست اور اُس کے پیروکاروں کی طرف سے پُرتشدد کارروائیاں انتہائی قابل مذمت اور ناقابلِ قبول ہیں کیونکہ افواجِ پاکستان ہی ملک کی سلامتی کی ضامن ہیں۔
◀️ میں اگر عمران خان کے بارے میں مزید انکشافات کر دوں تو اُس کی شخصیت کا بُت پاش پاش اور اُس کی مقبولیت کا گراف بُری طرح گِر جائے گا۔
◀️ عمران خان کو مائنس کر کے پاکستان تحریکِ انصاف کو ملک کی ایک بڑی پارٹی کے طور پر قائم رکھا جانا چاہئیے۔
◀️ عمران خان والی پی ٹی آئی میں چھوٹے، بڑے کی تمیز ختم ہو چکی ہے۔ بس خان کی خوشنودی اور خان کی خواہش پوری کرنے والا ہی اس کا منظورِ نظر رہتا ہے لیکن ہر کوئی اس کا پیٹ پال کر بھی جلد اُس کے لئے خاص سے عام ہو جاتا ہے۔
◀️ میں نے پی ٹی آئی اور عمران خان کو اتنے پیسے دئیے کہ وہ خود مانتا رہا کہ آج تک اتنے پیسے اُسے اور اس کی پارٹی کو کسی اور نے کبھی نہیں دئیے۔
◀️ میں نے اربوں روپے اپنی جیب سے پارٹی اور خان پر اور سیاست میں آکر خرچ کئے لیکن سرکاری خزانے سے میں نے ایک روپے کا ناجائز استعمال نہیں کیا اور نہ ہی مجھ پہ کوئی کرپشن ثابت کی جا سکتی ہے۔
◀️ عمران خان کُرپٹ اور ملکی اداروں کا دشمن ہے جس کی تفصیلات بتا دوں تو وہ عوام کا ہیرو نہیں بلکہ زیرو بن کے رہ جائے۔
وغیرہ، وغیرہ۔

سردار تنویر الیاس مُغل نے تخت سے محروم ہوتے ہی اِس طرح کی بیان بازی شروع کر دی تھی لیکن اب وہ تواتر اور زیادہ تفصیل کے ساتھ عمران خان صاحب کے خلاف بیان بازی کر رہا ہے حالانکہ اُسے نااہل عمران خان نے نہیں بلکہ کسی ادارے نے قرار دے کر سیاست سے ہی آؤٹ کر دیا ہے جس کا سب سے زیادہ نقصان عمران خان کو ہی ہوا ہے کیونکہ تنویر الیاس کے نااہل ہوتے ہی اُس کی پارٹی کی آزاد ریاست جموں و کشمیر میں حکومت ختم ہو گئی ہے اور اس کی پارٹی سمٹ کر محض سات اراکینِ اسمبلی تک محدود ہو گئی ہے نیز اس کے ہاتھ سے ایک اور اے ٹی ایم کارڈ نکل گیا ہے۔

تاہم اِس ساری بیان بازی اور الزام تراشیوں کے تجزئیے کے بعد مجھے تو یوں لگ رہا ہے کہ اربوں روپے عمران خان کو دان کر کے آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننے والے کو جس کسی نے بھی نااہل قرار دیا یا دلوایا ہے، اُس نے اصل میں تنویر الیاس کے مزید اربوں روپے بچا کر اُس پہ ایک طرح کا مالی احسان کیا ہے کیونکہ وہ ایک کاروباری آدمی تھا جسے محض اُس کے سرمائے کی وجہ سے کٹھ پُتلی قسم کا ریاستی وزیراعظم بنا کر اُس سے اربوں روپوں کا فائدہ اُٹھایا گیا جس کی ابھی وہ کچھ کچھ تفصیل بتا رہا ہے جبکہ مستقبل میں مزید تفصیلات بتا کر وہ حیران کن انکشافات کرنے کا دعویٰ بھی کر رہا ہے۔

تنویر الیاس کے الزامات اور بیانات میں صداقت ہے یا نہیں لیکن مجھے پورا یقین ہے کہ عمران خان کی محبت میں گرفتار لوگ تنویر الیاس کی طرف سے پارٹی پر خرچ کئے گئے اربوں روپوں کو سیاست کے لوازمات سمجھ کر انہیں جائز قرار دیں گے کیونکہ برصغیر کے لوگوں کی پسند، ناپسند کا انحصار نظریات پر کم اور جذبات پر زیادہ ہوتا ہے۔

تاہم عمران خان صاحب کا وزارتِ عظمیٰ کے عِوض تنویر الیاس سے مانگ کر اربوں روپے لینا بہرحال قومی خزانے کو نقصان پہنچانے سے بہتر ہے کیونکہ تنویر الیاس نے بھی تو اپنی مرضی سے سودے بازی کر کے اربوں روپوں کے بدلے آزاد کشمیر کی وزارتِ عظمیٰ پرچیز کی تھی جس کے راز اب وہ انکشافات کی صورت میں کھول رہا ہے۔

دُنیا بھر کی سیاسی جماعتیں اپنے اخراجات پورے کرنے کے لئے سرمایہ داروں سے فنڈز لیتی اور بھاری اخراجات کے جمہوری انتخابی عمل سے گذر کر کامیابی حاصل کرتی ہیں۔ لہذا ایک رئیس ذادے کو آزاد کشمیر کی وزارتِ عظمیٰ کے بدلے اگر پارٹی یا پارٹی سربراہ نے اس سے اربوں روپے وصول کئے بھی ہیں تو بھی عمران خان میری نظر میں گندہ، نااہل، مجرم اور قابلِ نفرت تب ہوگا جب یہ بات ثابت ہو کہ اُس نے پاکستان یا آزاد کشمیر کے قومی خزانے کو لُوٹا یا ملکی وسائل کو اپنی ذات اور پارٹی مفاد کے لئے استعمال کیا ہو۔

عمران خان پر میرے ضلع جہلم میں بنائی گئی القادر یونیورسٹی سوہاوہ میں برطانیہ سے موصول شُدہ رقم استعمال کر کے زمین اپنی موجودہ بیگم بُشریٰ بی بی کے نام کروانے کا الزام ہے جس کی تحقیقات کرنے کے لئے نیب نے اُن کی گرفتاری بھی کی تھی لیکن وقتی طور پر اُنہیں عدالتِ عظمیٰ اور عالیہ نے نیب کے حوالے نہیں ہونے دیا ہے، تاہم میں سمجھتا ہوں کہ ہر جانے والے کا احتساب ہونا چاہئیے اور عمران خان اور اس کی حکومت کا حصہ رہنے والوں سمیت کسی کو بھی مقدس گائے کا درجہ ہرگز نہیں دیا جانا چاہئیے کیونکہ اسی وجہ سے تو ماضی اور حال کے مُسلمہ طور پہ کُرپٹ، خائن اور لُٹیرے سیاستدان قومی خزانہ لُوٹ اور ملکی وسائل کھا، پی کر بھی پھر سے ہم پہ مُسلط ہوتے رہے ہیں کیونکہ ایسے سیاستدانوں کے پجاری انہیں کرپٹ نہیں بلکہ دیوتا بنا کر پھر سے اپنے سروں کے تاج بنا لیتے ہیں۔

لہذا میں سمجھتا ہوں کہ تنویر الیاس کے اب تک کے بیانات اُس کے ذاتی مالی حساب کتاب اور مہنگے داموں عمران خان سے لی گئی وزارتِ عظمیٰ پہ پچھتاوے پہ مبنی ہیں جبکہ ہونا تو یہ چاہئیے کہ تنویر الیاس وہ انکشافات کرے جس سے ثابت ہوتا ہو کہ عمران خان نے اس کی ذات کو نہیں بلکہ اپنے ملک کے سرکاری وسائل کو لوٹا ہے۔ پھر ہی اصل میں عمران خان کی لنکا ڈھانے میں وہ کامیاب ہو پائیں گے۔

ذاتی جیب سے اربوں روپے دے کر وزارتِ عظمیٰ حاصل کرنے کی تفصیل تب تک کوئی معنے نہیں رکھے گی جب تک یہ ثابت نہ کر دیا جائے کہ عمران خان نے پاکستان کے قومی خزانے اور سرکاری وسائل کو لوٹا ہے۔


مولوی نگار عالم۔۔۔شہید یا ہلاک


افکار و نظریات: گھر کا بھیدی