۸اکتوبر ۲۰۰۵کا زلزلہ
علامہ سیداشتیاق کاظمی
کھٹ پورہ سیداں، مظفرآباد آزاد کشمیر


۸اکتوبر ۲۰۰۵ رمضان المبارک کا مقدس مہینہ تمام مسلمان روزہ رکھ کر اپنے روز مرہ کاموں میں مصروف ہو گے کچھ آرام کرنے کی غرض سے بستروں میں چلے گے۔کچھ بچوں کو تیار کر کے سکول روانہ کر چکے۔میں بھی اپنے مدرسے کی دوسری منزل پر دنیا وما فیہا سے غافل سو چکا ہوں۔مگر یہ کیا جوں ہی گھڑی کی بڑی سوئی نے 8 بجائے اور منٹوں والی سوئی بیاون منٹ پر پہنچی زمین پر زلزلہ نہیں گویا قیامت آگئی۔
استغفراللہ
! ھوڑی دیر پہلے بلکہ چند سیکنڈ پہلے جو انسان خوش تھا اس کی آنکھوں میں نہ رکنے والے آنسووں کا سیلاب جو کروڑ پتی تھا اب بھکاری بن گیا، ہر گھر سے آہ وبکا، چیخ و پکار، نکالو بچاو،ٴ پکڑو اٹھاو کی آوازیں آ رہی ہیں۔دیکھتے ہی دیکھتے لاکھوں انسان لقمہ اجل بن گے۔
آنکھوں دیکھا منظر اس سے بھی دلخراش تر تھا۔ کہیں بوڑھا باپ جوان بیٹے کی لاش اٹھاے بیٹھا ہے کہیں، کہیں مائیں اپنی کلیوں کو مٹی کے ڈھیر میں تلاش کرتی نظر آرہی ہیں، تو کہیں سکولوں اور کالجوں میں لوگوں کو زندہ دفن ہوتے دیکھ رہا ہوں۔آفٹر شاکس ۔۔۔مزید ہزاروں دیوے بجانے میں مصروف ہے، میڈیا سے مسلسل خبروں پہ خبریں۔۔۔ لوگ جو لاکھوں کی تعداد میں زخمی تھے وہ کسی مسیحا کے انتظار میں رات بھر طوفانی بارش سے زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا رہے۔
مظفر آباد آزاد کشمیر کی کوئی اہم عمارت باقی بچی اور نہ اس کا عملہ ۔آسمان پہ چھائے کالے بادل اور زمین سے بلڈنگ گرتے وقت اٹھنے والی گرد نے ہر زندہ شخص کو حالات کی جیتی جاگتی تصویر بنا رکھا تھا ۔جس سے بخوبی ان کی بے بسی کا اندازہ لگایا جا سکتا تھا۔گرے ہوئے گھروں کے ملبے اور کے انبار پر بیٹھے بھوکے بچے دو دن سے کھانا تو کھانا پانی کو بھی ترس رہے تھے۔ہر طرف اللہ اللہ اور کلمہ طیبہ کا ورد ہورہا تھا ،ہر کوئی اپنے پیاروں کو ڈھونڈ رہا تھا ،کسی کو کچھ سجھائی نہیں دیتا تھا ، ایسا لگ رہا تھا کہ اب اس نقصان کی تلافی بھی ممکن نہیں ۔ شاید صدیاں بیت جائیں پر میرا اللہ تو کتنا کریم ہے ۔۔۔دیکتھے ہی دیکھتے صدیاں نہیں ایک ہی سال میں نہ صرف میرا گاؤں بلکہ زمانے کا رنگ بدل گیا۔
میرا کشمیر پھر سے جنت نظیر بن گیا ۔پھر سے خوشحالی پھر سے ہریالی۔۔۔ کیا کہنے میرے اللہ کی شان دیکھئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے نت نئی اور دور جدید کی خوبصورت بلڈنگوں کا نیا دور شروع ہو گیا ۔ لوگ پہلے کی نسبت زیادہ خوشحال اور امیر تر ہوگے۔ مگر یہ کیا آج جب 18 سال کے بعد میں زلزلے کی کیفیت لکھ رہا ہوں تو وہ منظر یاد کرتے ہی میرے ہاتھ کانپنے لگ جاتے ہیں ۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ تعالی تمام مرحومین خصوصاً آفات و بلیات کی زد میں آکر اِس دارِ فانی سے کوچ کرنے والوں کی اور تحریکِ آزادی کے تمام شہدائے کشمیر کی مغفرت فرمائے اور تمام ارضی و سماوی آفات و بلیات سے اہلِ زمین کو محفوظ رکھے۔

خصوصی مضامین


افکار و نظریات: https, twitter, com, HaffiNazar