غزہ۔۔۔میرے منہ میں خاک
اشرف سراج گلتری


فلسطین کی حمایت میں سارےعرب ممالک کھڑے ہوجائیں گے۔مجھے ایک خوش فہمی سی تھی۔ شاید اسی امید کےسہارے فلسطینی زخمی بچے بھی عربوں کو مدد کےلئے پکار رہے تھے "این ابناءالعرب" لیکن المعمدانی ہسپتال پہ اسرائیل کی طرف سے کئے گئے حملے کے بعد تو یقین ہوگیا ہے کہ عربوں کی غیرت فلسطین میں المعمدانی ہسپتال کے ساتھ زمین بوس ہوگئی ہے۔ فلسطین میں بسائے گئے چند لاکھ صہیونیوں کی دہشت عرب ممالک کےذہن پرمکمل سوار ہے۔وہ غزوہ میں انسانی ضروریات کی اشیاء تک کوپہنچانے کےلئے امریکہ اور اسرائیل سے اجازت مانگتے دکھائی دےرہے ہیں۔
ایک طرف فلسطین کے حق میں بیانات دینے کی کوشش کرتے ہیں، تو دوسری طرف امریکہ کے ساتھ ٹیبل پہ بیٹھ کر اسرائیلیوں کوبتارہےہیں کہ ہماری طرف سے تمہیں کچھ نہیں ہوگا۔
تعجب یہ ہے کہ تمام عرب ممالک ایک بات پہ فلسطینیوں کے حامی دکھائی دیتے ہیں کہ فلسطین کی نہتی عوام پر بمباری نہ کی جائے۔لیکن امریکی جنگی طیاروں کےلئے ائیرپورٹ بھی خود دےچکےہیں، تاکہ فلسطین کے نہتے انسانوں پر ہزاروں ٹن میزائل داغے جا سکیں۔
میرے میں میں خاک ! حماس رہے یا نہ رہے لیکن عربوں کی اس بزدلانہ اور منافقانہ پالیسی کی سزا عرب ممالک ضرور بھگتیں گے۔
صہیونی اسرائیل میں کوئی آلو،پیاز کاشت کرنے کےلئے آباد نہیں ہوئے ہیں، اور نہ وہ صرف 22 ہزار مربع کلومیٹر کی زمین کی خاطر وہاں آباد ہوئے ہیں بلکہ یہودیوں کا پلان اس سے کہیں گنابڑا ہے۔ان کے پلان کے تحت اسرائیل صہیونی حکومت کا دارالخلافہ ضرور ہوگالیکن اس حکومت کے حدود میں تمام عرب اور مسلم ممالک شامل ہیں۔
صیہونیوں نے صدیوں پہلے یہ ٹھان لیا تھا کہ دنیامیں ایک عالمگیر حکومت کاخواب پوراکرکےرہناہے۔اس کا لازمہ یہ ہے کہ خدانخواستہ اگر اسرائیل کا وجود باقی رہاتو باری باری تمام عرب ممالک پہ صہیونیوں کی چڑھائی ضرور ہوگی۔مسلم ممالک خصوصا وہ ممالک کہ جو اسرائیل کے ہمسائے میں ہیں ان کےلئے طوفان الاقصی ایک بہترین بہانہ تھا کہ اسرائیل کے خاتمے کی جنگ خود اسرائیل کے اندر ہی لڑتے، تاکہ کل اسرائیل یہ جنگ ان ممالک کی گلی کوچوں تک نہ لاسکے۔یہ ہوسکتا تھا لیکن اس کیلئے ایمان، بصیرت ، شجاعت اور غیرت چاہیے جوکہ اب عربوں میں ناپید ہے۔

مقبول ترین

ترکی فلسطین کی کتنی مدد کرے گا؟

سعودی عرب فلسطین کی کتنی مدد کرے گا؟

JOIN US