غزہ اور مسلمان حکمران

ایم اے راجپوت


جب پورا یورپی و امریکی حکمران غاصب اسرائیل کی جنگ کو اپنی جنگ سمجھ رہا ہے اور پورا عالم اسلام غزہ پر حملے کو اپنے اوپر حملہ سمجھ کر قاتلوں اور غاصبوں کے خلاف بول اٹھا ہے تو پھر ہمارے اکثر اسلامی ممالک کے حکمران طبقے کے اپنی ملت سے جدا راستہ اپنانے کی وجہ کیا ہے؟
گزشتہ تین ہفتے قیامت کے گزرے ہیں۔ فلسطینی مسلمانوں کی مسلسل نسل کشی جاری ہے۔غزہ کے نہتے شہریوں پر بمبوں کی بارش ہو رہی ہے ۔ہزاروں معصوم بچے اور عورتیں شہید ہو چکی ہیں۔قاتل اکیلا نہیں ۔اس کے سرپرست،اس کے ہم مذہب اور یورپی ممالک کے حکمران سب اس کے ساتھ ہیں۔ بڑے بڑے لیڈر قاتلوں اور بم گرانے والوں کو حوصلہ دینے کیلئے ایک کے بعد دوسرا ان کے پاس آرہے ہیں۔ان کو ہر قسم کا اسلحہ دے رہے ہیں۔فوجیں بھیج رہے ہیں۔پیسہ بھیج رہے ہیں ۔فلسطینیوں پر مظالم کا دفاع کر رہے ہیں۔جنگ روکنے کی قرار دادوں کو ویٹو کر رہے ۔ فلسطینی معصوم بچوں کے قتل عام کو نسل کش صہیونی غاصب فوج کا حق قرار دے رہے ہیں۔ ان کا حوصلہ بڑھانے کیلئے وہاں آنے والے بعض لیڈر یہودی نہ ہوتے ہوئے بھی اپنے آپ کو یہودی ظاہر کر رہےہیں ۔
دوسری طرف غزہ کے مظلوموں ،مقتولوں ،معصوم بچوں اور عورتوں کی حمایت عوام کی سطح پر پورا عالم اسلام کر رہا پے۔ نہ صرف اسلامی ممالک میں رہنے والے عام مسلمان بلکہ کافر ممالک میں رہنے والے عام مسلمان بھی سڑکوں پر نکلے ہوئے ہیں اور ایک طرف غاصبوں قاتلوں کے مظالم کو محکوم کر رہے ہیں تو دوسری طرف فلسطینی مظلوموں کے دفاع اور حمایت کی بات کر رہے ہیں۔مختلف ممالک کے جوان فلسطینی مسلمان بہن بھائیوں اور قبلہ اول کے دفاع کیلئے غزہ جا کر جہاد کرنے کیلئے آمادہ نظر آتے ہیں۔ایران ،شام ،عراق اور یمن کی انقلابی حکومتیں فلسطینی بہن بھائیوں کے ساتھ ہیں۔حزب اللہ میدان میں اتر چکی ہے ۔حشد الشعبی اور انصارالاسلام آمادہ کھڑی ہیں۔یہی جنود اسلام ہیں۔اور ملت اسلامیہ ان کی پشت پر ہے۔
یہاں امت مسلمہ کے اندر پایا جانے والا ایک مخصوص طبقہ ظاہرا غیر جانبدار نظر آرہا ہے اور وہ ہے اکثر اسلامی ممالک کا حکمران طبقہ۔اس طبقے نے نہ ہی امریکہ اور یورپ کے حکمران طبقہ سے سبق سیکھا اور نہ ہی ملت اسلامیہ سے۔چونکہ اگر امریکہ و یورپ کے حکمرانوں کی پیروی کرتے تو جس طرح وہ اپنے قاتل و غاصب یہودیوں کا ساتھ دے رہے یہ اپنے مظلوم و مقتول مسلمان بہن بھائیوں کا ساتھ دیتے۔اگر ملت اسلامیہ سے سبق سیکھتے تو ملت کے کم از کم سڑکوں پر نکل کر ظلم اور ظالم کے خلاف آواز تو اٹھاتے۔
ہمیں تو یہ حکمران آغاز اسلام کے منافق یا ضعیف الایمان افراد کی طرح محسوس ہوتے ہیں ۔جب نبی اکرم صلي اللہ علیہ وآلہ انھیں کفار سے جنگ کیلئے دعوت دیتے تو سورہ برائت کی آیت نمبر 38 کے مطابق گھروں میں بیٹھ کر زمین سے چپک جاتے۔اسی سورت کی آیت نمبر 42 کے مطابق کبھی سفر طولانی ہونے کا بہانہ بناتے اور کبھی یہ کہ ہم میں کفار سے جہاد کرنے کی طاقت نہیں۔اور سورت احزاب کی آیت نمبر 13 کے مطابق کبھی یہ بہانہ بناتے کہ ہمارا اپنے گھروں میں رہنا اور آپ کے ساتھ جہاد کیلئے نہ جانا اس وجہ سے ضروری ہے کہ چونکہ ہماری عدم موجودگی میں ہمارے گھروں کی حفاظت ممکن نہیں ۔
اب اکثر اسلامی ممالک کی حکومتوں اور افواج کے بہانوں کی نوعیت بھی کچھ اسی قسم کی ہے۔حالات انھیں فیصلہ ساز موڑ پر لا چکے ہیں۔پوری ملت اسلامیہ ان سے میدان میں اترنے کا تقاضا کر رہی لیکن بعض ملکوں کے حکمران اور افواج کفار کے ڈر سے اپنے ملکوں کی سرزمین سے چمٹ گئے ہیں اور انھیں اتنی جرائت بھی نہیں ہو رہی کہ سفارتی کردار ہی ادا کردیں۔بعض بہانہ بنا رہے کہ یہ فلسطین یا عربوں کا مسئلہ ہے اور ہم تو فلسطینی یا عرب نہیں۔بعض عرب ہو کر بھی بہانہ بنا رہے کہ ہم میں غاصب اسرائیل سے لڑنے کی طاقت نہیں۔اور بعض اپنے عوام کو بھی ڈرانے کی کوشش کر رہے اور بہانہ یہ کہ ہمیں اپنے ملک کا سوچنا چاہئے۔ہمیں اس جنگ میں شرکت سے نقصان ہو گا۔امریکہ سے تعلقات خراب ہوں گے ۔وغیرہ وغیرہ
یاد رکھیں تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے ۔جیسے پیامبر اسلام صلي اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں ایسی باتیں کرنے والوں کو قرآن کریم نے سورت برائت اور سورت احزاب میں منافق کہا ہے آج کے دور کے ایسے مسلمان حکمران بھی منافق ہی ہیں ۔لہذا ان سے زیادہ توقع نہ رکھیں ۔یہ سورت احزاب کی 16 نمبر آیت کے مطابق چند روزہ مادی فوائد کی خاطر ایسی باتیں کرتے ہیں۔اور شاہ ایران،حسنی مبارک،قذافی،زین العابدین،ضیاء اور صدام جیسوں کا انجام بھول جاتے ہیں۔
ہمیں تو ایسے محسوس ہو رہا کہ منافق اور ضعیف الایمان ہونے کے علاوہ ان حکمرانوں کا اعتماد اپنی ملت کے بجائے غیروں پر ہے۔خدا کی بجائے امریکہ اور یورپ پر ہے۔ان کا قبلہ اول بیت المقدس نہیں واشنگٹن اور لندن ہے۔یہ فلسطینیوں کے ایمانی بھائی نہیں امریکہ اور یورپ کے غلام ہیں۔
ہم اب بھی ان حکمرانوں سے درخواست کرتے ہیں کہ ابھی دیر نہیں ہوئی۔ملت اسلامیہ کے فیصلہ میں اس کا ساتھ دیں۔آپ کی عزت بھی بچ جائے گی اور بے گناہ فلسطینیوں کا خون بھی مزید نہیں بہے گا۔وگرنہ یاد رکھو ایک دن خون نے تلوار پر فتح پالینی ہے لیکن اس وقت پھر آپ کیلئے دیر ہو چکی ہو گی ۔


ہمیں جوائن کیجئے

یوٹیوب چینل

ٹویٹر

وٹس ایپ

فیسبک


افکار و نظریات: google, blast, attack, season