قلیل لوگوں کا کثیر پر غلبہ
ایم اے راجپوت


سکوت کا مطلب رضایت ہوتا ہے ۔57 مسلم ممالک میں سے صرف چار ملکوں نے کھل کر غزہ کی حمایت اور مدد شروع کی ہے۔ غزہ کی کل آبادی 23 لاکھ ہے۔ ہمارے کراچی سے تو قابل مقایسہ بھی نہیں۔یہ لاہور کی نسبت بھی بہت چھوٹا شہر ہے ۔2021 میں لاہور کی کل آبادی تقریبا ایک کروڑ تھی ۔اب اگر آپ نے لاہور دیکھا ہوا ہے تو آپ کے لئے غزہ کو سمجھنا آسان ہو جائے گا ۔چونکہ غزہ کی آبادی لاہور کی آبادی کا چوتھا حصہ بھی نہیں بنتی ۔دنیا میں اس جھوٹی سی آبادی کے دشمن بہت زیادہ ہیں۔ دشمن کے پاس تمام ضروریات زندگی ہونے کے ساتھ ساتھ جدید جنگی وسائل کی بھرمار ہے ۔اور آئے دن اس کے سرپرست مزید جدید اسلحہ اسے پہنچا رہے ہیں۔ایٹم بم پہلے سے دشمن کے پاس ہے۔اطلاعات کیلئے امریکی ڈراؤن بھی غزہ پر پرواز کر کے دشمن کو سب کچھ بتا رہے۔امریکی صدر ،وزیر خارجہ اور بعض دیگر یورپی ممالک کے راہنما دشمن کے سفیر بن کر پوری دنیا میں اس کی سفارت کاری کر رہے ۔امریکی طیارے ،بحری بیڑے اور فوجی دستے بھی دشمن کی مدد کیلئے پہنچ چکے ۔جبکہ مقابل میں غزہ والوں کا پانی بند ہے ۔بجلی بند ہے ۔کھانے کی اشیاء کی ترسیل رکی ہوئی ہے۔گھر کھنڈرات بن چکے ہیں۔
غزہ والوں کے حامی ،ساتھی اور مددگار بھی بہت تھوڑے ہیں ۔دشمن کے ساتھی ،حامی اور مددگار بھی بہت زیادہ ہیں۔غیر مسلم تو ایک طرف بعض مسلم ممالک بھی دشمن کے ساتھ کھڑے ہیں۔ان مسلم ممالک کاآزاد فلسطین میں تو سفارت خانہ معلوم نہیں لیکن مقبوضہ فلسطین (اسرائیل)میں سفارت خانہ ہے۔اس کے ساتھ تجارت جاری ہے ۔دشمن کی ضروریات زندگی بعض مسلم ممالک سے پہنچائی جارہی ہیں ۔مطلب یہ کہ سارے مسلم ممالک بھی غزہ کے ساتھ نہیں۔
بمبار طیارے نہ غزہ والوں کے اپنے پاس ہیں نہ کوئی دے رہا ہے۔ حتی مسلم ممالک نے بھی غزہ کو کسی قسم کا اسلحہ نہیں دیا۔کسی مسلمان ملک کی فوجیں غزہ کے دفاع کیلئے نہیں پہنچیں۔ سعودی عرب کی قیادت میں 40 ملکوں پر مشتمل فوجی اتحاد نے بھی کوئی دستہ غزہ کیلئے روانہ نہیں کیا۔غزہ کے پاس ایٹم بم بھی نہیں۔بس معمولی اسلحہ ہے جو ایران کے تعاون سے انھوں نے خود بنایا ہے لیکن یہ اسلحہ دشمن کے اسلحہ سے قابل قیاس نہیں۔
پھر قابل دقت ہے یہ نکتہ بھی کہ غزہ یہ معمولی اسلحہ آنے سے پہلے بھی دشمن کے مقابل میں نہیں جھکا۔غزہ کے مجاہد تو غلیل سے بھی دشمن کے ٹینکوں کا مقابلہ کرتے رہے۔
اب 20 سالوں سے یہ غزہ مکمل محاصرے میں ہے ۔کلمہ گو ہمسائے بھی اس محاصرہ کو توڑ کر پانی کی بوند بھی غزہ کے معصوم بچوں تک نہیں پہنچا رہے۔معلوم نہیں ان مشرکین مکہ کی انسانیت ان کلمہ گو مسلمانوں سے کتنی بہتر تھی جو شعب ابی طالب میں محاصرہ کے سالوں میں مشرک ہو کر بھی رات کی تاریکی میں کبھی کبھار کچھ نہ کچھ کھانا پانی پہنچا جاتے تھے۔اب تو نہ مسلمانوں میں اسلام نظر آرہا اور نہ ہی انسانیت۔ہمسایہ کافر بھی ہو تو اسلام نے اس کے کچھ حقوق بتائے ہیں غزہ والے تو مسلمان ہیں۔پھر عرب بھی ہیں لیکن مسلم عرب ہمسائے بھی غزہ کے ساتھ نہیں ۔
غزہ تنہا ہے ۔غزہ اکیلا ہے۔اس کے پاس دشمن کے مقابل اتنا ہی اسلحہ ہے جتنا جنگ بدر میں دشمن کے مقابل لشکر اسلام کے پاس تھا۔ہر دو چار سال کے بعد اس پر ایک نہ ایک جنگ مسلط کردی جاتی ہے۔دشمن ہر روز اس کے جوانوں کو شہید کرتا ۔مسلمانوں کی غیرت کا امتحان لینے کیلئے مسجد اقصی کی بدترین توہین کرتا لیکن جواب صرف غزہ ہی دیتا۔اب ایک ماہ ہو چکا ۔غزہ پر صبح و شام ہر وقت ممنوعہ بم برسائے جارہے۔غزہ کے بازار ،سکول ،ہسپتال اور مساجد محفوظ نہیں۔صحافی محفوظ نہیں۔بوڑھے ،عورتیں اور بچے محفوظ نہیں۔غزہ والوں کی نسل کشی ہو رہی ۔
دشمن وہی سفاک دشمن ہے جس نے 1967 میں اسرائیل عرب جنگ میں 6 دنوں کے اندر ہمسایہ ممالک پر قبضہ کر لیا تھا اور ان کے بعض علاقے ابھی تک واپس نہیں کئے ۔اور نہ ہی وہ واپس لے سکے ۔سوائے جنوب لبنان کے جو حزب اللہ نے اپنے زور بازو سے آزاد کروایا۔ غزہ کے اصل دشمن وہ ہیں جنھوں نے ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم گرانے والا سب سے بڑا جرم بھی کیا۔چند دنوں میں افغانستان کو تباہ و برباد کردیا۔عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ۔غزہ کے دشمن سفاک،سنگدل اور بے رحم بھی ہیں ۔مجھے امام حسین علیہ السلام کے 6 ماھے شہید کربلا کی والدہ کا وہ جملہ بار بار یاد آتا جس میں انھوں نے اپنے بچے کا کٹا ہوا گلہ دیکھ کر کہا تھا ۔اے میرے بچے !کیا تجھے تیر مارنے والے کی اپنی اولاد نہ تھی۔
آج غزہ ایک ایک دن میں کئی کئی شیرخوار قربان کر رہا ہے۔لیکن ان شہید بچوں کی مائیں،شہید ماوں کے عزیز،شہید جوانوں کی بہنیں اور زندہ بچ جانے والے دیگر اہل غزہ کھنڈرات پر کھڑے ہو کر قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔سید مقاومت حسن نصراللہ کی تقریر سننے کیلئے پھر جمع ہو گئے ۔غزہ سے فرار نہیں کیا بلکہ "کم من فئة قليلة غلبت فئة کثیرة" کا قرآنی پیغام اپنے دشمن کو بھی دیا اور بے شرم مسلم حکمرانوں کو بھی کہ صاحبان ایمان بہت تھوڑے بھی ہوں تو بہت سارے بے ایمان دشمنوں پر غالب آ جاتے ہیں۔

ہمیں جوائن کیجئے

مقبول ترین


افکار و نظریات: pakistan, kashmir, ghaza, parachinar