زیرِ سوال انقلابیت
نذر حافی

nazarhaffi@gmail.com

ایران میں انقلاب کی نصف صدی ہونے کو ہے۔ بلاشبہ ان پچاس سالوں میں اس نصف صدی کے ثمرات بہت سارے لوگوں تک پہنچے۔ ویسے اپنے ہاں بھی قد آور انقلابیوں اور فلک شگاف انقلابی نعروں کی کوئی کمی نہیں۔ ہمارے ہاں کا انقلابی ٹھاٹھ باٹھ تو اپنی مثال آپ ہے۔ بسا اوقات ہمارے انقلابی طمطراق کو دیکھ کر ایرانی بھی ہم پر واری ہو جاتے ہیں۔ ملمع کاری میں تو ہمارا کوئی ثانی ہی نہیں۔ لیلی و مجنوں کی ایک حکایت شاید ہمارے لئے ہی ہے۔
ایک مرتبہ لیلی کو اطلاع ملی کہ جنابِ مجنوں اُس کے گاوں کے نزدیکی خرابے میں تشریف فرما ہیں۔ محترمہ نے اپنے ہاتھوں سے کوٹ کوٹ کر روزانہ بلاناغہ ، اپنے ہاتھوں سے حضرت مجنوں کیلئے چوری بھیجنا شروع کر دی۔ کچھ دِنوں کے بعد کسی ناصح نے لیلی کو بتایا کہ خرابے میں کوئی مجنوں وغیرہ نہیں بلکہ ایک ٹھگ مزے سے آپ کی کوٹی ہوئی چوری کے مزے اُڑا رہا ہے۔
لیلی کو کیسے یقین آتا!۔ اس نے حضرت ناصح سے راہِ حل پوچھا۔ ناصح نے کہا کہ حل تو بہت آسان ہے۔ آج جب چوری بھیجو تو قاصد سے کہو کہ واپسی پر مجنوں سے کہنا کہ لیلی اپنی انگلیوں سے چوری کوٹ کر بھیجتی ہے، آج اُس کا تقاضا ہے کہ چُوری والے اس برتن میں تم بھی اپنی انگلیوں کا خون بھر کر واپس پلٹاو۔

اُس روز چُوری کا لُطف اٹھانے کے بعد جب ٹھگ نے لیلی کا یہ پیغام سُنا تو وہ گھبرا گیا۔ اُس نے قاصد سے کہا کہ آج میرا بھی یہ پیغام لیلی کو دے دو کہ میں چُوری کھانے والا مجنوں ہوں ، خون دینے والا نہیں۔
ہمارے ہاں جتنی چُوری اسلامی انقلاب کے نام پر کھائی گئی شاید دنیا میں اس کی کوئی دوسری مثال نہ ملے۔ ابھی سے فون اٹھائیں اوراپنے کسی ہم وطن کو کال کریں۔ اس میں سُنّی، شیعہ، عیسائی، یہودی، قادیانی یا ہندو کی کوئی قید نہیں۔پرانی باتیں اور مُشکل سوالات نہیں بلکہ کسی سے آج کی اور آسان سی بات کر کے دیکھیں۔ کسی سے پوچھیں کہ وہ ایران کے اسلامی انقلاب کے موجودہ رہبر اور سُپریم لیڈر کے بارے میں کیا جانتا ہے؟
آپ کو آگے سے دندان شکن جوابات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ آپ اگر دندان شکن کا مطلب نہ سمجھے ہوں تو دانت کھٹے ہونے کا مطلب تو آپ سمجھتے ہی ہونگے۔

جی ہاں ! آپ کو ایسے ایسے جوابات ملیں گے کہ آپ کے دانت کھٹے ہو جائیں گے۔ اکثریت کو یقین دلایا گیا ہے کہ ایران میں کوئی جمہوریّت نہیں، لہذا بڑی تعداد میں لوگ ایران کے سُپریم لیڈر کو ایک آمر اور ڈکٹیٹر سمجھتے ہیں۔ اس کے بعد ایک نمایاں تعداد ایسی بھی ہے جو دیگر مجتہدوں کی طرح انہیں بھی ایک مجتہد کےطور پر جانتی ہے اور بس۔ مزید کُریدیں تو بہت سارے لوگ صرف اتنا جانتے ہیں کہ انہوں نے زنجیر زنی اور اہلِ سُنّت کے مقدسات کی توہین کے خلاف فتویٰ دیاہے ۔ اللہ اللہ اورخیر سلا۔۔۔!
اگر پاکستان میں رہبرِ معظم سید علی خامنہ ای کی قرآنی خدمات، حدیثی نکتہِ نظر، علمی جہات، تفسیری نظریات، فقہی ابعاد، کلامی زوایا، سیاسی ابتکار، فنی و ہُنری معلومات، پالیسیز کی انفرادیّت، حکمتِ عملی کی جامعیّت، معاشرتی نگاہ ، عسکری نوآوری ، جمہوری افکار ، شعروشاعری کا باریکیوں، تاریخی نزاکتوں اور انسانی علوم پر دسترس کے بارے میں کوئی جاننے والا مل جائے تو اُس کی خدمت میں ہمارا سلام بھی پہنچا دیجئے گا۔
یہ آج کا مسئلہ نہیں۔ لوگ شروع سے ہی اس انقلاب کو آمریت اور تھیوکریسی کہتے چلے آ رہے ہیں۔ ہمارے ہاں تحقیق کا رُجحان تو ہے ہی نہیں۔ بینڈ ویگن تھیوری کی بدولت جو مخالفین نے چاہا وہ سب کچھ اس انقلاب کے کھاتے میں ڈال دیا گیا ۔ کوئی حقیقت جاننا چاہے تو اس کیلئے عرض ہے کہ اِس انقلاب کی رو سے کوئی بھی شخص عمامہ و پگڑی پہن کر، ہتھیار اٹھا کر، جہاد کا نعرہ لگا کر، اپنی داڑھی کے سائز، شلوار کے پائنچوں کی اونچائی اور قرآن مجید کے حفظ کے بل بوتے پر زبردستی حکومت کرنے کا ڈھونگ نہیں رچا سکتا۔ بلکہ ایوانِ اقتدار میں پہنچنے کیلئے اسے دینداری کے ہمراہ لوگوں میں اچھی شہرت، انتہا درجے کی مقبولیّت اور عوامی تائید کی ضرورت ہے ۔
حضرت امام خمینیؒ نے صرف اپنے اجتہاد اور تقوی ٰ کی بنیاد پر حکومت قائم نہیں کی۔ آپ کو اجتہاد و تقوی کے ساتھ انتہا درجے کی عوامی مقبولیّت حاصل تھی۔ اگر عوامی مقبولیّت اور تائید نہ ہو اور فقط دین کے نام پر لوگوں پر زبردستی حکومت کی جائے تو یہ تھیوکریسی ہے، جسے حضرت امام خمینی ؒ نے بھی رد کیا ہے۔

حضرت امام خمینی ؒ نے جو نظام حکومت یعنی اسلامی جمہوریّت کا جو نظام متعارف کرایا ہے اُس میں بھی یہی دوچیزیں ہیں، ایک دینداری اور دوسرے عوامی تائید۔
اکثریت میں لوگ آج بھی یہ نہیں جانتے کہ ایران کے موجودہ سُپریم لیڈر یا ولی فقیہ کو بھی جو شوریٰ منتخب کرتی ہے وہ بھی ولی فقیہ کے انتخاب میں ان دونوں شرائط کو ملحوظِ خاطر رکھتی ہے۔ ۱یک دینی دانش، تقوی، بصیرت اوردوسرے عوام میں مقبولیّت۔


بقولِ اقبال:
نگاہ بلند، سخن دل نواز،جاں پرسوز
یہی ہے رخت سفر،میر کارواں کے لئے

گزشتہ دنوں قم المقدس ایران میں ڈاکٹر بشوی صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے رہبرِ معظم سید علی خامنہ ای کے قرآنی افکار کے حوالے سے مقالہ نویسی کی ضرورت پر بات کی۔ اُن کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاں انقلابیوں کی بہتات ہے لیکن رہبرِ معظم کے حوالے سے علمی مقالات نہیں لکھے جا رہے۔

مجھے ایک دم خیال آیا کہ علمی مقالات لکھنے کیلئے تو انگلیاں لہولہان کرنی پڑتی ہیں اور پھر لیلی و مجنوں کی حکایت بھی یاد آ گئی۔۔۔چُوری کھانے والے مجنوں کبھی خون نہیں دیا کرتے۔

ہمیں وٹس ایپ پر جوائن کیجئے


افکار و نظریات: daily, weekly, news, monthly