الیکشن کب ہونگے؟
ایم اے راجپوت

پہلے اپنی بے گناہی ثابت کرنے کیلئے پریس کانفرنس کرنی اور آئی پی پی جوائن کرنا پڑتی تھی۔ اب بے گناہی قدرے سستی ہوگئی ہے صرف پی ٹی آئی اور سیاست چھوڑنے والے اور اسی طرح مذکورہ بالا جماعتوں میں سے کسی ایک جماعت کو جوائن کر لینے والے بھی بے گناہ اور ملک کے وفادار ثابت ہو جاتے ہیں۔
8 فروری کے دن انتخابات ہوں گے بھی یا نہیں؟ شکوک و شبہات موجود ہیں۔الیکشن شیڈول ابھی تک جاری نہیں ہوا ۔موجودہ نگران حکومت تقریبا پی ڈی ایم میں شامل تین بڑی جماعتوں ن لیگ ،پی پی اور جمعیت علمائے اسلام کے ارکان پر مشتمل ہے لہذا پی ٹی آئی کو دبانے بلکہ ختم کرنے پر پورا پورا زور لگا یا جا رہا ہے ۔پی ٹی آئی کے جن افراد پر کیس بنا سکتی ہے ان پر جھوٹے یا سچے کیس بنا کر انھیں جیل میں ڈالتی جا رہی ہے ۔جن کی ضمانت ہو جاتی ہے انھیں بھی نہیں چھوڑا جاتا۔حتی اگر عدلیہ بھی کہہ دے کہ اب فلاں کو گرفتار نہیں کرنا تو پھر بھی عدلیہ کا حکم ٹھکرا دیا جاتا ہے۔
ایک طرف سے حکومت نے یہ کام زور و شور سے جاری رکھا ہوا ہے جو رکنے کا نام نہیں لے رہا اور دوسری طرف سے لندن پلان کے تحت چونکہ ملک کا اگلا وزیر اعظم میاں نواز شریف صاحب نے ہونا ہے لہذا انھیں یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ پی ٹی آئی کے علاوہ باقی سب کو بھی اپنے ساتھ ملانا پڑے تو ملا لو ۔
اب چونکہ پی پی کے شریک چئرمین جناب آصف علی زرداری صاحب اپنی سابقہ خواہش کے مطابق اپنے فرزند ارجمند جناب بلاول بھٹو زرداری صاحب کو اپنی زندگی میں وزیراعظم دیکھنا چاہتے ہیں اور تازہ خواہش کے مطابق خود بھی وزیر اعظم بننا چاہتے ہیں لہذا وہ تو اس وجہ سے فی الحال لندن پلان سے ہٹ کر چل رہے ہیں لیکن پی ڈی ایم میں شامل باقی تمام جماعتیں اور کنگ پارٹی آئی پی پی سب کے سب لندن پلان سے متفق نظر آتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ وہ پی ٹی آئی جسے 16 ماہ تک پی ڈی ایم نے خوب دبایا ،جس کی قیادت جیل میں پڑی ہے، جس کے کارکنان روپوش ہیں،جس کے الیکٹ ایبلز سے پارٹی چھڑوائی جا چکی ،جس کو لیول پلانگ فیلڈ بھی دستیاب نہیں،جسے اس کا انتخابی نشان بھی الاٹ کرنے میں بہانے بنائے جا رہے ہیں جسے موجودہ نگران حکومت بھی مسلسل دبا رہی ہے ، کیا میاں نواز شریف صاحب اور ان کی پارٹی اس کے مقابل اتنی کمزور ہو چکی ہے کہ اب اکیلے اس بچی کھچی ٹوٹی پھوٹی پی ٹی آئی کا بھی مقابلہ نہیں کر سکتی؟بڑے میاں اور چھوٹے میاں بلکہ پوری پی ڈی ایم کی 16 ماہ کی حکومتی کارکردگی لوگوں کے سامنے ہے، لوگ اسے دیکھ کر ووٹ دینے یا نہ دینے کا فیصلہ کریں گے ۔
ہمارے خیال میں اگر لندن پلان کے تحت میاں صاحب کو پاکستان نہ بھیجا جاتا تو انھوں نے 4سال بعد کیا مزید 40 سال بعد بھی پاکستان کا رخ نہیں کرنا تھا ۔اور اب پاکستان آکر جو وہ کبھی کوئٹہ جاکر باپ پارٹی سے ،کراچی جا کر ایم کیو ایم سے ،پشاور جا کر مولانا فضل الرحمان کی جمعیت سے ،گجرات جاکر چوھدری شجاعت کی ق لیگ سے ،لاہور جا کر آئی پی پی سے اور جھنگ جاکر تکفیریوں سے اتحاد و الحاق کر رہے ہیں یہ سب لندن پلان کے تحت ہو رہا ہے۔جس کا ہدف صرف یہ ہے کہ کہیں دوبارہ پی ٹی آئی نہ جیت جائے۔
کہتے ہیں تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے ۔یہی کام 1988میں محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ کے خلاف بھی اسی میاں صاحب سے لیا گیا تھا ۔کہتے ہیں اس وقت کچھ جرنیل بی بی کے خلاف میاں صاحب کو ڈھونڈ لائے تھے۔آج 34 سال کے بعد دوبارہ میاں صاحب کو اسی کام پر لگا دیا گیا ہے اور میاں صاحب بھول گئے ہیں کہ اس وقت اتنے اتحاد کے باوجود ہم ہار گئے تھے اور بی بی جیت گئی تھیں ۔یہ علیحدہ بات ہے کہ عوام کی منتخب لیڈر بی بی کو 18 ماہ سے زیادہ برداشت نہ کیا گیا۔
اس وقت لوگوں نے میاں صاحب اور ان کے موجودہ ساتھیوں کو آزمایا ہوا بھی نہیں تھا ۔جبکہ اب تو بالکل تازہ تازہ آزما چکے ہیں۔ بہرحال میاں صاحب کو جو لائن دی گئی ہے وہ اس پر پرزور طریقے سے چل رہے ہیں لیکن لگتا ہے ابھی تک انھیں وہ نتائج نہیں مل رہے جو متوقع تھے یا کم از کم ابھی تک نگران حکومت مطمئن نہیں اور یا پھر لندن پلان کی پلاننگ کرنے والے ابھی تک مطمئن نہیں ہو سکے کہ ان کا منظور نظر میاں وزیر اعظم بننے میں کامیاب ہو جائے گا ۔یہی وجہ ہے کہ کچھ لوگوں سے الیکشن آگے لے جانے کی درخواستیں دلوا دی گئی ہیں۔کچھ لوگوں سے سردی کا بہانہ بنا کر الیکشن لیٹ کرنے کا بہانا پیش کرایا جا رہا ۔کچھ حالات کی ناامنی کے پیچھے چھپ رہے لیکن اصل ڈر وہی ہے جو پی ڈی ایم کو حکومت میں ہوتے ہوئے 16 ماہ لگا رہا بلکہ اب وہ ڈر بڑھ بھی چکا ہے ۔۔۔
حکومت کو خوف ہے اور میاں صاحب بھی ڈر رہے ہیں کہ اگر الیکشن والے دن پی ٹی آئی کے ووٹر نکل آئے تو پھر ؟!حتی بعض واقفان حال کے بقول حکومت بلکہ لندن پلان والے اس پہلو پر بھی غور کر رہے ہیں کہ الیکشن کے بعد پی ٹی آئی کے جیتنے کی صورت میں پی ٹی آئی کے جیتے ہوئے ارکان کو کیسے توڑا جائے گا؟
گویا سب کو ڈر ہے بلکہ یقین ہے کہ جیت پی ٹی آئی کی ہو جانی ہے ۔لیکن لندن پلان کے مطابق اب پی ٹی آئی کو جیت جانے کے باوجود بھی حکومت بنانے سے روکنے کے مختلف طریقوں پر غور ہو رہا اور جب تک وہ راستہ نہیں مل جاتا جس پر چل کر پی ٹی آئی کو حکومت سے باہر رکھا جا سکتا ہو اس وقت تک الیکشن نہیں ہوں گے اور جونہی وہ راستہ مل گیا الیکشن کا اعلان ہو جائے گا۔

پسندیدہ


افکار و نظریات: election, pakistan, political, party