22 رجب کے کونڈے اور

8 فروری کے ووٹ

تبرید حسین
(لندن)

ماشاءاللہ سوشل میڈیا پر نظر دوڑائی تو 22 رجب کے کونڈوں کی شرعی حیثیت پر اس سال بننے والے کونڈوں سے زیادہ پوسٹس نظر آئیں۔ تو سکھ کا سانس لیا کہ اتنے اہم موضوع پر ہمارے اہل علم اور دانشور حضرات نے بھرپور توجہ مرکوز رکھی ہوئی ہے :)
میں اپنے ادارہ (مسجد و امام بارگاہ) میں کہ جہاں میرے پاس ذمہ داری ہے وہاں بھی دیکھتا ہوں تو ایک کثیر تعداد نیاز پر ہی فیڈبیک دیتی نظر آتی ہے کہ ڈبے چھوٹے تھے۔ نیاز پوری طرح گرم نہیں تھی، مرچ اور آئیل زیادہ تھا ساتھ چائے نہیں دی گئی وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ مگر بہت کم لوگ ہیں جو پروگرام کے کونٹینٹ، لیکچر، کمیونٹی کی ضروریات یا اپنی خدمات پیش کرنے کے حوالے سے بات کرتے نظر آئیں گے۔
بھئی اللہ کے بندو جس نے کونڈے کھانے ہیں کھا لو جس کا ایمان خطرہ میں ہے وہ سٹوڈنٹ بریانی، جاوید نہاری، کوزی حلیم یا سردار مچھلی والے سے جا کر کھانا کھائے اور اپنا ایمان بچائے۔
اب آتے ہیں دوسرے موضوع یعنی 8 فروری کے ووٹوں کی طرف۔ یہ واقعا ایک اہم اور سنجیدہ موضوع ہے۔
اس حوالے سے میں دیکھتا ہوں کہ سوشل میڈیا کی حد تک اور کچھ علما کی سپورٹ کیساتھ دو طبقات موجود ہیں۔ ایک وہ جو سرے سے ووٹ اور جمہوریت اور حکومتی نظام کو ہی باطل نظریہ سمجھتے ہیں۔ وہ لوگ شاید یہاں موضوع بحث ہی نہ ہوں کیونکہ موجودہ اور گزشتہ صدی کے میرے نظریاتی و فکری رہنما آیت اللہ روح اللہ خمینی و سید خامنہ ای کا قول و نظریہ میرے لئے حجت بھی ہے اور ان کی کامیابیاں میری راہنما بھی سو میں اس حوالے سے اسلامی و قرآنی نظریہ لینے کیلئے کسے اور کی طرف نہیں دیکھوں گا اور فی الحال اسی دلیل پر اکتفا کر کے آگے گزروں گا۔
میں اس سلسلے میں بہت واضح ہوں کہ مجھے پاکستان کے سیاسی ارینا میں اسوقت کسی بھی سیاسی جماعت سے امید وابستہ نہیں ہے۔ مگر ہم پاکستان میں رہتے ہیں اور ہمیں پاکستان میں انفرادی نہیں بلکہ شیعہ قوم کے اجتماعی حقوق کی جنگ لڑنا ہے تو پھر دو ہی کام کئے جا سکتے ہیں
1- اس رائج سسٹم میں سے اپنے قوم کے مظلوم، پسماندہ، پریشان حال اور استحصال زدہ شیعہ قوم کے افراد کیلئے زیادہ سے زیادہ حقوق حاصل کرنے اور ان مظلوموں کیلئے حصہ لینے کی کوشش کرنا۔
2- پاکستانی میں موجود روائیتی سسٹم کو مظلوم طبقات کا حامی اور اسلامی اصولوں کے تابع بنانے کیلئے جدوجہد کرنا۔
اب آتے ہیں ان قومی زعما کی طرف جو اس نظام میں رہتے ہوئے اس کی بہتری کی کوشش کرنا چاہتے ہیں اور اپنی مظلوم قوم کے حقوق کی جنگ لڑ کر اسکا حصہ لینے کی تگ و دو کر رہے ہیں۔ اور جیسے اوپر عرض کیا میری نظر میں یہی درست روش ہے۔ اگرچہ بات یہ ذہن میں رہے کہ وہ دانشور و علما وغیرہ ہونے کے باوجود انسان ہیں اور ان کے فیصلوں میں غلطی کا احتمال موجود ہے۔ لیکن اولین شرط قوم سے مخلص ہونا ہے۔
اسوقت شیعہ مذہبی جماعتوں کی طرف دیکھیں تو دو ہی بڑی جماعتیں نظر آتی ہیں، مجلس وحدت مسلمین اور اسلامی تحریک۔
ماضی میں ایم ڈبلیو ایم اور اسلامی تحریک بالخصوص گلگت بلتستان اور بالعموم باقی ماندہ پاکستان میں بہت بڑی کامیابی تو حاصل نہ کرسکے مگر کسی حد کامیابیاں حاصل کیں جو یقینا مشکل حالات میں پہلا بہترین قدم قرار دیا جا سکتا ہے۔ اور میں سمجھتا ہوں اس سے ہماری قومی طاقت میں اضافہ ہی ہوا۔

موجودہ انتخابات میں آئیڈیل صورتحال تو یہ ہوتی کہ دونوں بڑی شیعہ مذہبی جماعتیں جن کو علما ہی چلا رہے ہیں، اس اہم موقع پر قوم کو کئی اجتماعی حکمت عملی دینے اور رہنمائی میں کامیاب ہوتے مگر متاسفانہ ماضی کی طرح ایک دفعہ پھر ہم ملت کے ادنی کارکنوں/ ہمدردوں کی یہ خوش گمانی ہی رہے۔
موجودہ صورتحال یہ ہے کہ مجلس وحدت مسلمین نے قدرے بہتر حکمت عملی اپنا کر مین سٹریم سیاسی جماعت پی ٹی آئی کیساتھ الحاق کر کے قریب قریب 6 این اے سے 10 پی پی کے حلقوں بشمول کوئٹہ، کرم- پارہ چنار، بھکر، کراچی، راولپنڈی، اوکاڑہ اور شکار پور وغیرہ سے امیدوار کھڑے کئے ہیں جو یقینا ابتدائی طور پر کامیابی ہے۔
مگر اسلامی تحریک کی حکمت عملی ابھی بہت واضح نہیں اور بظاہر مرکزی آفس کی طرف سے ایک اعلامیہ سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کچھ حلقوں میں انہوں نے اپنے امیدوار کھڑے کئے ہیں اور مومنین ان حلقوں میں ان کی حمایت کریں جبکہ باقی حلقوں میں خود ہی بہتر آدمی کا انتخاب کر کے اسے ووٹ ڈالیں۔ جو بہرحال کنفیوژن کا باعث ہے۔
مگر اچھی بات یہ ہے کہ تمام قومی جماعتوں کا اتفاق ہے کہ تکفیریوں کے مقابل متحد رہتے ہوئے مدمقابل سب سے مضبوط امیدوار چاہے کسی بھی جماعت سے ہو اسکی حمایت کی جائے گی۔ ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی رہنماؤں سے میری بات ہوئی اور وہ اس حوالے سے بہت واضح اور دوٹوک موقف رکھتے ہیں جو بطور قوم ہم سب کیلئے بہت خوشگوار ہے۔

اس ملت کے ادنی فرد کے طور پر اب ایک اہم بات گزارش کرنا چاہتا ہوں
ملت تشیع کے حقیقی مربی شھید علامہ عارف حسینی شھید نے فرمایا تھا کہ:
نجانے کیوں پاکستانی شیعوں کے ذہن میں یہ بات ڈالی گئی کہ سیاست میں مداخلت کرنا شیعوں کے لئے شجر ممنوعہ ہے اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہمیشہ دوسروں کے دست نگر اور محتاج ہو گئے ،چاہیے تو یہ تھا کہ ہم سیاست میں ایسا مقام بناتے کہ ہر سیاسی فیصلے پر شیعہ اثر انداز ہوتےشیعوں کا عمل دخل ہوتا لیکن افسوس کہ اس وقت ہم ایسی پوزیشن میں نہیں ہیں ۔ ( شھید حسینی)
خدارا آج وقت ہے کہ ملت تشیع متحد ہو اور اپنے تمامتر اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے آپ اپنے علماء اور مذہبی سیاسی تنظیموں کے ہاتھ مضبوط کیجئے۔

خود بھی ووٹ دیجئے اور اپنے دوستوں، عزیزوں، رشتہ داروں کو بھی آمادہ کیجئے کہ وہ ملت کے حقوق کے حصول کیلئے باہر نکلیں۔ یہ وہ کم ازکم جہاد ہے جو ہم کر سکتے ہی۔
تاکہ خدانخواستہ پھر کوئی تکفیری ملت تشیع کیخلاف بل اٹھائے اداروں میں دندناتا آئے، یا سلیبس کو تشیع نظریات کیخلاف ڈھالنے کی مذموم کوشش ہو یا ملت کے افراد پر بے گناہ ایف آئی آرز کا مسئلہ ہو تو نہ صرف تکفیریوں اور ان کے ہمدردوں کو مزاحمت ملے بلکہ منہ کی کھانی پڑے۔
ہم پرامید ہیں انشاءاللہ آپ کے درست فیصلے اور حکمت و دانش سے ملت سرخرو یو گی۔
آخری دو باتیں:
1- جو لوگ ووٹ کو حرام قرار دے رہے ہیں ان کا حق نہیں کہ وہ پوچھیں کہ کہ راجہ ناصر صاحب، ساجد نقوی صاحب یا دیگر نے قوم کی حقوق کی جنگ پارلیمنٹ میں کیوں نہیں لڑی۔
لیکن دوسری طرف جو لوگ قیادتوں کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اپنا ووٹ دے رہے ہیں ان کا پورا حق ہے کہ اپنے حقوق کے دفاع کے حوالے سے اپنے قائدین کو کٹہرے میں کھڑا کریں اور ان سے سوال کر سکیں۔
2- دوسری جانب ہمارے سپر انقلابی دوستوں سے بھی گزارش ہے کہ جب آپ لوگوں کے اپنے اپنے ممدوح مذہبی سیاسی رہنما سیاسی اکھاڑے میں اتر چکے تو اب حوصلہ رکھیں ان کے اچھی فیصلوں کی جہاں توصیف ہو گی وہیں غلط فیصلوں پر تنقید بھی۔ تو اس تنقید کو بھی ٹھنڈے پیٹوں برداشت کریں کہ یہ بھی نظام میں اصلاح اور بہتری کی جانب ایک قدم ہوتی ہے بشرطیکہ تنقید کرنے والا گروہ خود سازشی، بکاو اور قوم سے غیر مخلص نہ ہو۔
اسی طرح جب قومی تنظیمیں سیاست میں وارد ہوں تو سیاست مفادات کا بے رحم کھیل بھی ہوتا ہے۔ ان تنظیموں کے اندر خود احتسابی اور چیک اینڈ بیلنس کا ایسا کھلا ڈلا نظام موجود ہونا چاہئے کہ کوئی اگر قومی مفادات کو ذاتی مفادات کے عوض بیچنا چاہے تو فوری خودکار احتسابی نظام حرکت میں آئے۔ اور ایسے لوگوں کا احتساب ہو تاکہ کوئی اپنی ذاتی خواہشات اور مفادات کیلئے قومی مفادات کو بھینٹ نہ چڑھا سکے۔
دعاگو ہوں کہ مالک بحق محمد و آل محمد اس قوم کو کامیابی سے سرفراز کرے اور ملی رہنماؤں کے جان و مال کی محافظت فرمائے۔
خدا ہم سب کا حامی و ناصر ہو
5 فروری 2025 بروز منگل
10:00 بجے صبح

نوٹ:
(پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال، سیاسی تنظیموں، جوڈیشری اور اسٹیبلشمنٹ کے کردار اور موجودہ متنازعہ الیکشن کے حوالے سے ذکر اگلی پوسٹ میں انشاءاللہ)

مقبول ترین


افکار و نظریات: daily, weekly, news, monthly