محبوب ترین صدر
مقدر عباس


سید ابراہیم رئیسی پانچ سال کے تھے کہ درد یتیمی سے آشنا ہوئے۔حکمت پروردگار تھی کہ یتیموں اور بے سہارا لوگوں کے درد کا احساس کریں اور ان کا حق ادا کریں۔انہوں نے اس ذمہ داری کو بڑے اچھے طریقے سے نبھایا۔ اسلامی انقلاب کی خصوصیات میں سے ایک یہ ہے کہ معاشرے کے پسے ہوئے اور محروم ،مگر باصلاحیت لوگوں کو نکھار عطا کیا۔انہیں آگے آنے کا موقع فراہم کیا۔موروثی سیاست کی بجائے استعداد کی بناپر ذمہ داری سونپی۔

چاہے وہ قاسم سلیمانی ہوں،ابراہیم رئیسی ہوں یا موجودہ سپریم لیڈر حفظہ اللہ۔سب نے ثابت کیا کہ ہم کرسکتے ہیں۔محنت مزدوری کے ساتھ ساتھ اپنی تعلیم کو جاری رکھا۔ جب دینی تعلیم کاآغاز کیا تو گرمیوں کی چھٹیوں میں بھی کام کاج کیا کرتے تھے۔
انقلاب کی کامیابی کے بعد بیس سال کی عمر کرج شہر کی عدالتی شعبے کی ذمہ داری سنبھالی اور جج بنے۔ انقلاب مخالف عناصر کی بیخ کنی کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا اور بغیر کسی خوف کے دلیرانہ اقدامات کئے۔ان کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے اس وقت کے چیف جسٹس نے انہیں کرج شہر کے ساتھ ساتھ ہمدان شہر کی بھی ذمہ داری سونپ دی۔صدر(بنی صدر) کے سیکرٹری کی کال آتی ہے اور بیس سالہ جوان فون سنتا ہے۔

تم نے فلاں شخص کو جیل میں ڈالا ہے۔صدر کا حکم اسے فالفور رہا کردو۔انہیں یاد آیا کہ اس کا جرم تو بہت بڑا ہے۔ سیکرٹری سے کہا صدر محترم کو ہمارا سلام پہنچائیے گا، اور کہئے گا یہ عدالت کے قاضی کا فیصلہ ہے اور کسی کو بھی حق حاصل نہیں کہ وہ عدالتی فیصلوں پر اثر انداز ہو۔ سیکرٹری سخت ناراض ہوا! تمہیں معلوم ہے تم کیا کہہ رہے ہو۔؟
یہ صدر صاحب کا حکم ہے۔ بڑے آرام سے جواب دیا صدر صاحب کی یہ خواہش عدالتی امور میں مداخلت ہے اور قانون انہیں اس بات کی اجازت نہیں دیتا۔ سیکرٹری نے جب دوٹوک جواب سنا تو غصے سے بغیر خداحافظی کئے فون بند کردیا اور صدر صاحب کی طرف سے بھی پھر اس مجرم کی دادرسی کی اپیل نہ آئی۔اگرچہ عدالتی ماحول تھا لیکن سب کے ساتھ اخلاقی اقدار کے ساتھ برادرانہ رویہ تھا۔

عدالتی امور کی انجام دہی میں کوئی ان کا ثانی نہیں تھا۔ صبح سویرے اپنے ڈیوٹی پر پہنچ جاتے تھے۔ ان کے کام کرنے کا دورانیہ اٹھارہ گھنٹے تھا۔ایک دوست کے بقول "کام کی زیادتی کی وجہ سے بعض اوقات رات دفتر میں ہی گزار دیتے۔ دل کیساتھ کام کرتے تھے اور مشکل کام اپنے ذمے لیتے تھے۔ قانون کے سائے میں مدعی و ملزم و مجرم سے رویہ رکھتے تھے۔

جس طرح مولا علی علیہ السلام کے عدل کی وجہ سے بہت سارے لوگ مخالف ہوگئے اسی طرح ان کے قانونی فیصلوں کی چیخیں آج بھی دشمنوں کی طرف سے سنائی دے رہی ہیں۔ جو کرپٹ اور بدعنوانیوں میں شامل تھے وہ ان کے فیصلوں سے شدید نالاں تھے۔ جس نے اپنے ہاتھوں کو اس ملک کی خیانت سے رنگا تھا اس کے لئے قانون کے سائے میں عمل کرتے۔
جب اسپیشلسٹ ڈاکٹر کسی موذی مرض کی وجہ سے مریض کا ہاتھ کاٹتا ہے تو وہ ظلم نہیں ہوتا بلکہ عین عدل ہے۔ اگر اس عضو کو نہیں کاٹیں گے تو وہ بیماری پورے جسم میں سرایت کرے گی۔ امام حسین علیہ السلام کے فرمان کے مطابق امام وہ ہوتا ہے کتاب خدا کے مطابق حکومت کرے، عدل و انصاف کا احیاء کرے، دین حق کا پابند ہو، اور اپنے آپ کو خدا کی راہ میں وقف کردے۔

کسی کو قانون سے ماوراء نہیں سمجھتے تھے۔منشّیات کی روک تھام کے لئے جب اقدامات کئے تو بہت سے حکومتی اراکین جب منشیات کے سمگلروں کی حمایت کرتے تھے تو کہتے تھے سب کیساتھ قانونی برتاؤ ہوگا۔ جو افراد غیر قانونی اسلحہ سے لیس تھے ان کے خلاف کاروائی کی۔ بڑے عہدہ دار کا فون آیا کہ بڑے بڑے یہ کام نہیں کرسکے تو کہا کہ میں اس کام کا ذمہ دار ہوں اور اس کی انجام دہی میرے ذمہ ہے۔ میں کوئی بھی غیر قانونی کام نہیں ہونے دوں گا۔
اس کیساتھ ساتھ جب جنگ کے زمانے میں کچھ لوگ بے گھر ہوئے اور کرج شھر میں کسمپرسی کی حالت میں رہنے لگے تو شہید رئیسی نے ان کے لئے گھر مہیا کرنے کا بندوبست کیا۔ اگرچہ اس وقت لوگوں کو ایک نوجوان قاضی سے اس کی بالکل توقع نہیں تھی۔ وہ سمجھتے تھے ان کے لئے مشکل ہے لیکن وہ اس علاقے کے مسئول تھے اور انہوں نے یہ کام کر دکھایا۔ لوگوں کی خدمت کرنا، لوگوں کے کام آنا ، ان کے لئے تکلیفیں اٹھانا، امانت و دیانت داری کی حفاظت کرنا، سچ بات کرنا، یہ تمام باتیں علی مولا علیہ السلام کے ایک سچے پیروکار کی نشانی ہے۔
یہی رستہ علی مولا کا رستہ ہے۔جب کوئی شخص کسی بھی رستے کا انتخاب کرتا ہے تو اس کے انتخاب میں اس کی فکر، شناخت اور نظریے کا عمل دخل ہوتا ہے۔ تمام اعمال اسی تفکر کے گرد گھومتے ہیں۔شہید ابراہیم رئیسی اپنے فیصلوں میں قرآن و اہل بیت علیہم السلام کی آئیڈیالوجی کو فالو کرتے تھے۔
اس آیت کے مطابق "کسی قوم کی دشمنی تمہاری بے انصافی کا سبب نہ بنے، (ہر حال میں) عدل کرو! یہی تقویٰ کے قریب ترین ہے اور اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے۔"بعض مخالفین کی طرف سے انہیں برے القابات بھی دیئے گئے لیکن انہوں نے اپنے ملک و نظام کی بقاء کی خاطر قانون کا احیاء کیا۔ صرف اتنی بات عرض خدمت ہے کہ جب ہم شہید کی زندگی کو دیکھتے ہیں تو معلوم یہی ہوتا ہے کہ اگر شہید بدعنوان اور کرپٹ ہوتے تو تیس سال ان کی والدہ ایک سادہ مکان میں گمنامی کی زندگی بسر نہ کرتیں۔ ہمیں معلوم ہے ہمارے معاشرے میں کسی ایک کو بھی وزارت مل جائے تو سارا خاندان اس سے بہرہ مند ہوتا ہے۔ لیکن ان کی والدہ نے بیت المال کو استعمال نہیں کیا۔ شہید نے اپنی شہادت کے بعد دنیا کو یہ بھی دکھا دیا کہ عدالت علوی کا عکس یہی ہے۔
جب قاضی تھے تو ایک کارخانے کے مالک کے خلاف پروپیگنڈہ کیا گیا اور مزدور اس کے خلاف سراپا احتجاج ہوئے کہ یہ شاہ کا ایجنٹ ہے۔ اس کے کارخانے کو خراب کرنا چاہتے تھے۔ ملک میں باقی جگہوں پر بھی ایسے واقعات پیش آئے لیکن شہید نے عدالتی پراسیس کے بعد کارخانہ اس کے مالک کو واپس دلوایا۔ لوگوں کے حقوق کےلئے ڈٹ جایا کیا کرتے تھے۔ کرپٹ عناصر کے خلاف تھے اسی لئے آج وہ عناصر مختلف انداز میں ان کی کردارکشی میں مصروف نظر آتے ہیں۔
بہت سے لوگ عہدہ ملنے سے پہلے عاجز و انکسار ہوتے لیکن عہدہ ملتے ہی ان کی اصلیت ظاہر ہونے لگتی ہے۔ لیکن شہید رئیسی نے زندگی میں جتنے بھی عہدے حاصل کئے اپنا معیار زندگی تبدیل نہیں کیا۔حرم امام رضا علیہ السلام کے متولی ہوں یا چیف جسٹس یا پھر ملک کے منتخب صدر۔ ہر دور میں عوام کی خدمت کی۔
بعض لوگوں کا زہد خشک ہوتا ہے کیونکہ کہیں ہاتھ نہیں پڑتا اس لئے اپنے آپ کو متقی کا لباس پہنا لیتے ہیں۔ لیکن جونہی طاقت و قدرت ملتی ہے اقدار کو بھول جاتے ہیں۔ لیکن شہید نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہ زہد کسی چیز کا نہ ہونا نہیں بلکہ حقیقی زہد یہ ہے کہ آپ کے پاس قدرت ہو لیکن فقیرانہ زندگی گزاریں۔
دارا و سکندر سے وہ مردِ فقیر اَولیٰ
ہو جس کی فقیری میں بُوئے اسَد اللّٰہی
جس زمانے میں وہ کرج شہر میں جج کے عہدے پر فائز تھے۔ان کے پاس ایک شخص آیا اور شھر میں موجود اپنے کچھ پلاٹس میں سے ایک پلاٹ وقف کرنے کی خواہش کی۔ اگر چاہیں تو اس کے پیسے ضرورت مند لوگوں میں تقسیم کردیں۔ بہت اصرار کیا۔ کسی ریفرنس سے بھی بات چلانے کی کوشش کی لیکن سید بالکل راضی نہیں ہوئے اور کہا میرے بھائی اگر وقف کرنا چاہتے تو امداد کی کمیٹی بنائی گئی ہے اسی کے حوالے کرو۔ میری اس شہر کو کوئی ملکیت نہیں ہے۔ حتی کہ رات بھی اسی عدالت میں سوتا ہوں۔ اگر میں اس پلاٹ کو اپنی ملکیت میں لے لوں تو لوگوں کے درمیان اعتماد کی فضا ختم ہو جائے گی۔
مولا علی علیہ السلام نے چند سال حکومت کی۔ اپنے گھر میں ایک اینٹ کا بھی اضافہ نہیں۔ بیت المال سے قرض نہیں لیا اور نہ ہی اپنے پیچھے سونا چاندی چھوڑ گئے۔ جب بصرہ کے بیت المال سے نکل رہے تھے تو کہہ رہے تھے اے لوگو گواہ رہنا میں جس لباس کے ساتھ آیا تھا اسی سے واپس جارہا ہوں ،کسی چیز کا اضافہ نہیں اور اگر میری حکومت سے پہلے موجود اثاثوں میں اضافہ ہوا ہو تو سمجھ لینا خیانت کی ہے۔
ان کے جنازے میں ہر صنف کے لوگ موجود تھے۔ مولا علی علیہ السلام کے فرمان کے مطابق کہ لوگوں میں اس طرح رہو کہ اگر تم زندہ رہو تو وہ تمہارے ملنے کے مشتاق ہوں، اور اگر تم اس دنیا سے چلے جاؤ تو تمہیں یاد کرکے گریہ کریں۔" جی ہاں!نعمت کی قدر اسی وقت ہوتی ہے جب وہ ہاتھوں سے چلی جاتی ہے. وہ کون سی فکر ہے، وہ کونسا مکتب ہے جس نے ایسے سپوت کو پروان چڑھایا ہے۔ اس سوال کا جواب ہر اہل فکر تلاش کررہا ہے۔ جہاں ان کے فراق میں ایک ملت نوحہ کناں تھی وہاں پر کچھ ایسے لوگ بھی تھی جو ان کے جانے پر خوشیاں منا رہے تھے۔
دنیا کی کسی بھی عظیم شخصیت کی (انبیاء سے لیکر آج تک) تاریخ دیکھیں تو سب لوگ ان کے دوست نہیں تھے۔ جو عدل کا پرچم بلند کئے ہوئے تھے ان کی محبت کرنے والے ایسے بھی تھے جنہوں نے انگاروں پر لیٹ کر بھی احد احد کہا، دار پر بھی لٹکے، عشق میں زبانیں بھی کٹوائیں، محبوب کے سامنے کھڑے ہوکر اپنے سینے پر تیر بھی لئے اور بجھے ہوئے چراغوں میں بھی ظلمت و تاریکی کے راستے کا انتخاب نہیں کیا۔
جو اُن کے دشمن تھے وہ بھی اتنے شدید تھے کہ جنہوں نے انہیں ساحر، مجنون اور ابتر کہا، انہیں ہجرت کرنے پر مجبور کیا، ان پر کفر کے فتوے لگائے، دشمنی اتنی زیادہ تھی کہ ان کی قبر کو ایک عرصے تک مخفی رکھا گیا، ان کے جنازوں کو پامال کیا گیا۔ اگر کوئی یہ سوچتا ہے کہ انسان سعادت کا رستہ اختیار کرے اور سب اس کے دوست ہونگے یہ درست سوچ نہیں ہے۔ ہر وقت کے موسی ؑسے فرعون خوف زدہ رہا ہے اور ہر وقت کے حسینؑ سے یزید نے دشمنی کی ہے۔جب ان کی شہادت کی خبر پر کچھ بدخواہوں نے جھوٹی خبریں پھیلانا شروع کی تو قرآن کی آیات سامنے آئیں۔ سورہ نور کی آیات تھیں۔
"جو لوگ بہتان باندھ لائے وہ یقینا تمہارا ہی ایک دھڑا ہے، اسے اپنے لیے برا نہ سمجھنا بلکہ وہ تمہارے لیے اچھا ہے، ان میں سے جس نے جتنا گناہ کمایا اس کے لیے اتنا ہی حصہ ہے اور ان میں سے جس نے بڑا حصہ لیا ہے اس کے لیے بڑا عذاب ہے۔" جب تم اس جھوٹی خبر کو اپنی زبانوں پر لیتے جا رہے تھے اور تم اپنے منہ سے وہ کچھ کہ رہے تھے جس کا تمہیں کوئی علم نہ تھا اور تم اسے ایک معمولی بات خیال کر رہے تھے جب کہ اللہ کے نزدیک وہ بڑی بات ہے۔(نور آیہ 11,15)گذشتہ تحریر میں زہد و فقر کے بارے عرض کیا ہے۔ مولا علی علیہ السلام نے اپنے خطبات میں دنیا کو تین طلاقیں دینے کی بات کی تو بعض لوگوں نے یہ سمجھا کہ یہی زہد ہے کہ انسان دنیا سے کنارہ کش ہوکر بیٹھ جائے۔ نہیں بلکل ایسا نہیں ہے۔
اگر ہم تاریخ پر نگاہ دوڑائیں تو مولا علی علیہ السلام نے یہ جملات اس وقت فرمائے ہیں جب بیت المال کے سکوں کی چمک پڑ رہی تھی اور سب کچھ ان کے ہاتھ میں تھا لیکن ایک درہم و دینار کو کبھی ناحق استعمال نہیں کیا۔ مولا ایسے نہیں تھے کہ وہ دنیا کے امور کو چھوڑ کر جا کر خانقاہ میں رہنے لگے تھے نہیں! ایسا نہیں ہے وہ اسی دنیا کی آباد کاری میں مصروف رہے۔ باغات لگائے، پانی کے لئے کنویں کھودے، لوگوں کی معیشت کی گرہیں کھولیں، اقتصادی مشکلات کو حل کیا۔جو کام ایک اسلامی سربراہ کو کرنے چاہئیں سب امور انجام دیئے۔ حکومت و خلافت ہونے کے باوجود خشک روٹی اور ایک لباس پر گذارہ کیا۔
آیت اللہ شہید رئیسی کو عدلیہ کے انسپکشن ادارے کا سربراہ بنایا گیا۔ دفتر میں داخل ہوتے ہوئے قالین سے پاؤں الجھنے کی وجہ سے گر گئے، اپنے آپ کو سنبھالا ،کھڑے ہوئے اور کہا یہ عوام کے آنے کی جگہ ہے اس قالین کو یہاں سے اٹھوا دو تاکہ آنے والوں کو مشکل پیش نہ آئے۔ ساتھیوں میں سے ایک نے کہا! بہتر ہے انہیں کہتے ہیں کہ قالین کی جگہ نیا قالین رکھوا دیں اور کمرے کی بھی مرمت کروا دیں۔ جھکی ہوئی نگاہوں سے نہایت سنجیدہ لہجے میں بولے" جن لوگوں کا سربراہ ہوں وہ ایک وقت کی روٹی کے منتظر ہیں اور میں یہاں اپنے کمرے کی maintenance کرواتا رہوں۔" دس سال بعد جب اس دفتر کو چھوڑا تو باقی عمارت کی تزئین کی گئی تھی لیکن ان کا دفتر اسی طرح بالکل سادہ اور قالین کے بغیر تھا۔شہید کی زندگی کا دارومدار جس تفکر اور آئیڈیالوجی پر تھا وہ قرآن و اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات تھیں۔
ان کی کوشش ہوتی تھی کہ عوامی رابطہ برقرار رہے۔ عوام سے دوری کسی صورت بھی قبول نہیں تھی۔ ان کے سامنے مالک اشتر کے نام مولا علی علیہ السلام کی وہ نصیحت ہوتی کہ جس میں فرمایا۔"رعایا سے عرصے تک روپوشی نہ کرنا کیونکہ حکمرانوں کا رعایا سے چھپ کر رہنا ایک طرح کی تنگ دلی اور معاملات سے بے خبر رہنے کا سبب ہے اور یہ روپوشی انہیں ان امور کے بارے مطلع ہونے سے روکتی ہے جن سے وہ ناواقف ہیں۔۔" وہ جس عہدے پر بھی رہے اپنی عوام سے رابطہ برقرار رکھا۔
قوم و ملت کے مسائل حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے۔ انہوں نے لوگوں کی مشکلات کو حل کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ جب انسان اخلاص کیساتھ کام کرتا ہے تو دلوں کا خالق اس کی محبت لوگوں کے دلوں میں ڈال دیتا ہے۔ اس کا اظہار ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں۔
ابھی ملکی انسپکشن ادارے کے سربراہ کی ذمہ سنبھالی ہی تھی کہ خبر ملی سابقہ دفتر میں کوئی حادثہ پیش آیا ہے۔ اطلاع تھی کچھ لوگ زخمی اور شہید بھی ہوئے ہیں۔ ان زخمیوں میں سے ایک حاج عباس شیرازی بھی تھے۔ جو اس وقت ان کے دفتر کے مدیر تھے۔جب ان کی ملاقات کو پہنچے تو درد دل بیان کرنے لگے کہ جب آپ کا دور تھا! آپ ہفتے میں تین بار ہمارے ساتھ بیٹھ کر ناشتہ کیا کرتے تھے اور پھر اپنے کمرے میں جاتے تھے۔ لیکن جب سے آپ گئے ہیں ابھی تو اسسٹنٹ بھی ہمیں نظر نہیں آتا۔انسپکشن کی ذمہ داری کے دوران نزاع و باہمی چپقلش کی فضا کو ختم کیا۔ آپس میں باہمی الفت و محبت اور تعاون کی فضا ایجاد کی۔ جب بھی کوئی رپورٹ عدلیہ کو ارسال کی جاتی تو اس کی ہر پہلو سے چھان بین کی جاتی۔
مُرتضوی مقدّم، آقای رئیسی کی خدمات کے سلسلے میں بیان کرتے ہیں۔ ایک دفعہ ایک شخص کی فائل پیش کی گئی جس میں مجرم کی پھانسی کا حکم ذکر تھا۔ آقای رئیسی کو فائل دی گئی جب انہیں معلوم ہوا کہ اس حکم میں نقائص ہیں۔ اگرچہ پھانسی کا حکم عملی نہیں ہوا تھا۔ جس شخص نے اس حکم کو صادر کیا تھا اس کو بلوا کر سرزنش کی۔ کیوں ان نقائص کے ہوتے ہوئے اس حکم کو جاری کیا.؟ عدلیہ میں اگر کوئی مالی یا اخلاقی کرپٹ عنصر ہوتا اسے ذرا بھر بھی برداشت نہیں کرتے تھے۔
انہوں نے اپنی پوری کوشش کی کہ عدلیہ کو ایسے افراد سے پاک کیا جائے۔ ان کی کوشش تھی کہ ایسے ججز آئیں جو بغیر کسی خوف وہراس کے قانون پر عملدرآمد کروا سکیں۔ ان کو ملکی خدمت کا جہاں بھی موقع ملا چاہے وہ عدلیہ ہو یا دوسرے عہدے! ان تمام عہدوں پر انہوں نے جہاں بھی کرپٹ عناصر کو پایا، ان سے ایسی جگہوں کو پاک کیا۔ابھی تھوڑا عرصہ ہوا تھا۔ خبر ملی کہ انسپکشن کمیٹی کے ایک رکن کو محکمہ صحت کی رپورٹ تیاری میں زد و کوب کیا گیا ہے جس کی وجہ سے وہ زخمی ہوا ہے۔
سید رئیسی نے فوراً وزیر صحت سے رابطہ کیا اور انہیں طلب کیا۔ ان سے وضاحت طلب کی اور انہیں اپنے ادارے کے سٹیٹس سے آگاہ کیا۔ وزیر نے وعدہ کیا کہ آئندہ ایسا کوئی عمل تکرار نہیں ہوگا اور ایسا ہی ہوا۔جب سپریم لیڈر کی جانب سے معاشی بد عنوانی سے نبٹنے کا حکم دیا گیا۔ اس کے بعد شہید رئیسی نے مسلسل تین سال تک نمائش کا انعقاد کیا اور ملک کے تمام انتظامی نظام کو دکھایا۔ انہوں نے اسے ملک کے "انتظامی ڈھانچے کے نقائص کی شناخت" کا نام دیا۔
ہر وزارت کو ایک بڑے ہال میں دکھایا گیا۔ سب سے پہلے انہوں نے خود وزیر کو مدعو کیا کہ وہ اپنی وزارت کو معائنہ کرنے والے ادارے کے نقطہ نظر سے دیکھیں۔ تمام سینئر اور اسٹنٹس اور سینئر ماہرین نمائش دیکھنے آئے۔ سب نے کہا کہ ہمیں معلوم نہیں تھا کہ معائنہ کرنے والی تنظیم اداروں اور وزارتوں کو اتنی گہری نظر سے دیکھتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی معائنہ کرنے والی تنظیم کے بارے میں بہت سے لوگوں کا نظریہ بدل گیا۔ وہ سمجھ گئے کہ معائنہ کرنے والی تنظیم کسی گرفتاری کی تلاش میں نہیں ہے بلکہ وہ غلطی کی نشاندہی کر رہی ہے تاکہ وہ اسے ٹھیک کرنے کی کوشش کر سکیں۔
مولا علی علیہ السلام نے جناب مالک اشتر رضکو نصیحت فرمائی کہ اپنے ماتحت کام کرنے والوں پر نگرانی رکھو۔ ایسا نہ ہو وہ تمہارے نزدیک ہونے کا غلط فائدہ اٹھائیں۔ عوام اور رعایا کے حق میں ظلم و کرپشن کا ارتکاب کریں۔ سید ابراہیم رئیسی اپنے زیر انتظام ادارے میں ہونے والی بدعنوانی کے بارے میں بہت حساس تھے۔ ان کا انتظامی انداز ایسا تھا کہ ادارے کے اندر نگرانی کے لیے ایک شعبہ فعال کر دیا۔ انقلاب کے آغاز میں، انقلاب کے ججوں اور پراسیکیوٹرز کی ٹھوس اور غیر محسوس نگرانی کے لیے ایک خاص طریقہ کار فراہم کیا گیا تھا۔
انسپکشن ادارے میں داخل ہوتے ہی انہوں نے داخلی نگرانی کے عنوان سے ایک گروپ بنایا۔ اس اختراعی کام کو بعد میں سپریم لیڈر نے بھی سراہا۔ جب عدلیہ کے پہلے نائب کے عہدے پر فائز ہوئے، انہوں نے عدلیہ کے منصوبوں اور ہدایات کی نگرانی کے لیے جنرل آفس قائم کیا۔انسپکشن ادارے کو سپریم لیڈر کی تاکید تھی کہ اپنے منتخب مامورین پر نظر رکھیں۔ مسلسل نگرانی کریں۔ ان سے غفلت مت برتیں۔ جس طرح رات کے وقت پہرے دار مسلسل اپنی سرچ لائٹس کو گھماتے رہتے ہیں اور ہر کونے کھدرے پر ان کی مسلسل نگاہ ہوتی ہے۔ اسی طرح منتظم کو ہر چیز پر نظر رکھنی چاہیئے؛ لہذا اپنے کارکنان کے کاموں کو نظر انداز نہ کریں۔ دیکھتے رہیں وہ کام کررہے ہیں یا نہیں۔ درست کام انجام دے رہے ہیں یا غلط۔ اپنے امور میں کوئی خلاف ورزی تو نہیں کررہے۔
مالک اشتر کو نصیحت تھی کہ اپنے عہدیداروں کے کاموں کو بھالتے رہنا اور سچے اور وفادار مخبروں کو ان پر چھوڑ دینا، کیونکہ خفیہ طور پر ان کے امور کی نگرانی انہیں امانت کے برتنے اور رعیت کے ساتھ نرم رویہ رکھنے کا باعث ہوگی۔ سید رئیسی جب انسپکشن ادارے کے سربراہ تھے اس وقت پھر ایک نمائش کا انعقاد کیا۔ صرف مرکزی سربراہان کو وزٹ کرنے کی دعوت دی گئی۔ یہ نمائش فقط خاص منصب پر فائز عہدیداروں کے لئے تھی اور باقی لوگوں سے اسے خفیہ رکھا گیا تھا۔
اس وقت کے صدر جناب ہاشمی رفسنجانی جب نمائش دیکھنے آئے تو کہا! میں خسارے میں رہا کہ آج دوسرے دن آیا ہوں۔ کاش میں پہلے دن آتا اور وزٹ کرتا" سید ابراہیم رئیسی نے ملک کے کرپٹ عناصر کی اصلاح کی کوشش کی، لیکن ہونا تو یہ چاہئے کہ اس کام کا آغاز (ایگزیکٹو برانچ) یعنی صدر اور اس کی کابینہ ہو۔
عوام سے رابطہ ایک منتخب عوامی نمائندے کے لئے ضروری امر ہے۔ مکّہ کے گورنر کو مولا علی علیہ السلام کی نصیحت تھی "دیکھو لوگوں تک پیغام پہنچانے کے لئے تُمہاری زبان کے سوا کوئی سفیر نہیں ہونا چاہیئے اور تمہارے چہرے کے سوا کوئی تمہارا دربان نہیں ہونا چاہئے اور کسی ضرورت مند کو اپنی ملاقات سے محروم نہ کرنا اس لئے کہ پہلی دفعہ اگر حاجت تمہارے دروازوں سے ناکام واپس کردی گئی تو بعد میں اسے پورا کردینے سے بھی تمہاری تعریف نہیں ہوگی۔"
بہت سارے ملکی سربراہ ایک جمہوری عمل سے گزر کر منتخب تو ہو جاتے ہیں لیکن ان کا عوام سے رابطہ یا تو سرے سے ہوتا ہی نہیں یا پھر بہت ہی کم ہوتا ہے۔ سید ابراہیم رئیسی حقیقی معنوں میں ایک عوامی نمائندے تھے۔دور افتادہ ایک دیہات کے وزٹ پر جب عوام کے رش میں ڈرائیور گاڑی نہیں روک رہا تھا اور لوگ صدر سے بات کرنا چاہ رہے تھے۔ سید رئیسی نے ڈرائیور کو نہایت سختی سے کہا کہ لوگوں کو بات کرنے دو، اور اگر آئندہ ایسا کام کیا تو میں خود گاڑی ڈرائیو کروں گا۔ ہم یہاں انہی لوگوں کے لئے آئے ہیں۔ ان کو تکلیف نہیں ہونی چاہئے۔
بعض اوقات جب حفاظتی ٹیم انہیں کہتی کہ عوامی اجتماع میں گاڑی سے نکلتے ہوئےاحتیاط کیا کریں تو کہتے تھے میری جان سے زیادہ میری عوام مجھے عزیز ہے۔ ہفتے میں منگل کا دن عوام سے ملاقات کے لئے مخصوص تھا۔ عوامی بیٹھک ہوتی۔ رات تک بیٹھتے تاکہ لوگ آئیں اور اپنی مشکلات اور مسائل کو بیان کریں۔ بڑے صبر اور حوصلے کے ساتھ لوگوں کے مسائل کو سنتے اور یقین دلاتے کہ ان شاءاللہ مسائل حل ہوں گے۔ باقی دنوں میں لوگوں کے مسائل کو حل کرنے کے لئے فالو اپ بھی کرتے تھے۔ سینکڑوں لوگوں کے مسائل دن بھر سنتے اور کھلے دل سے عوام مسائل بیان کرتے اور وہ خنداں پیشانی سے برتاؤ کرتے۔
مولا علی علیہ السلام اپنےعہدیداروں کو عدالت کے قیام کی تاکید کیا کرتے تھے۔ وہ قوم جو طاقتور سے کمزوروں کا حق کھلے عام اور بے خوف و خطر نہ لے سکے، کبھی سعادت مند نہیں ہوسکتی۔ آج کی دنیا عدالت کے قیام کے لئے تشنہ ہے۔ لوگ ملکی اور بین الاقوامی مسائل میں عدل اور انصاف کے طلبگار ہیں۔ عوامی ملاقات تھی لوگوں نے شہید رئیسی کو اطلاع دی ! انسپیکشن ادارے کے انسپکٹر کی غلط رپورٹ کی وجہ سے ایک ایجوکیشن منیجر کو بغیر کسی جرم کے برطرف کردیا گیا ہے۔ انہوں نے اس مسئلے کو فالو اپ کیا جب تک واضح نہ ہوا۔
معلوم ہوا کہ ایجوکیشن منیجر حق پر تھا اور اسے ناجائز عہدے سے بر طرف کیا گیا ہے۔ انہوں نے انسپیکٹر کو عہدے سے ہٹا دیا اور تعلیم کے منیجر کو عہدے پر بحال کردیا۔ سید ابراہیم رئیسی جس منصب پر بھی ہوتے ان کا ہمیشہ یہی رویہ رہا۔ چاہے انسپکشن کا ادارہ ہو یا ملک کے اٹارنی جنرل کا منصب یا پھر چیف جسٹس کے نائب ہونے عہدہ۔ وہ حق دار کو اس کا حق دلوا کر رہتے۔
رسولِ خدا ﷺ کا فرمان ہے اگر کوئی بھی بغیر علم کے کسی کام کو انجام دے گا، وہ درست کرنے کی بجائے زیادہ خراب کرے گا۔ دین اسلام نے آغاز ہی سے علم و دانش کی اہمیّت کو بیان کیا ہے۔ جہاں اسلام میں شریعت کے مختلف احکامات صادر ہوئے ہیں وہیں پر علم کو بھی ہر مومن مرد اور عورت کے لئے فریضہ قرار دیا گیا ہے۔ علم کے حصول کے لئے دور دراز کے سفر کرنے کی بھی تاکید کی گئی ہے۔ یہ اسی لئے ہے کوئی بھی معاشرہ اپنی امنگوں اور آرزوؤں کو بغیر علم کے پورا نہیں کرسکتا۔ علم ہی ہے جو رستے کو نورانی کرتا ہے اور انسان ترقی کی منازل کو طے کرتا ہے۔ اسی سے فرد، قومیں اور ریاستی نظام بلند مقام حاصل کرتے ہیں۔ علم کا فروغ ضروری امر ہے کہ جس کا اہتمام ہونا ضروری ہے۔
سید رئیسی ہمیشہ کوشش کرتے تھے کہ جو کام بھی انجام دیا جائے اس سے متعلق تمام معلومات اور مکمل شناخت حاصل ہو۔ اسی لئے انہوں نے جتنی بھی ملکی مشینری میں خدمات انجام دیں، حیران کن ہیں۔ جب انسپکشن ادارے کے سربراہ تھے اور انہیں حکومتی کابینہ کی میٹنگ میں شرکت کا موقع ملتا تو تسلط کیساتھ وزارتوں میں پائے جانے والے نقائص اور مسائل کو اجاگر کرتے۔ ایسا محسوس ہوتا جیسے وہ وزارت کا حصہ ہیں۔
ان کی معلومات حقایق پر مبنی ہوتی تھیں۔ اگرچہ اس وقت کے صدر کا مزاج ان سے مختلف تھا لیکن ان کا بھرپور تعاون ہوتا۔ ان کی آراء و تجاویز کو وزارت خانوں تک منتقل کیا جاتا۔ اس وقت کے تمام ماہرین اور اکابرین اس بات کے معترف تھے کہ سید ابراہیم رئیسی کا (عدلیہ) دور ایک سنہری دور تھا۔
مولا علی علیہ السلام فرماتے ہیں خداوند متعال نے عادل حکمرانوں پر یہ واجب قرار دیا ہے کہ وہ اپنا معیار زندگی معاشرے کے ناتواں لوگوں کے برابر قرار دیں تاکہ فقیر لوگ اپنے فقر کی وجہ سے پریشان نہ ہوں۔ ہمارے معاشرے کی سب سے بڑی آفت اشرافیہ اور رکھ رکھاؤ ہے۔ عوام اور حکمران دکھاوے ،برتری اور پروٹوکول کے چکر میں افراط کا شکار ہوئے ہیں۔ معاشرے میں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ جو بھی سیاسی منصب پر فائز ہیں وہ اس ماحول کو توڑنے میں اپنی پوری کوشش کریں۔ جس عوام کے خادم بننے کا دعویٰ کرتے ہیں وہ خادم تو مخدوم بن جاتے ہیں لیکن عوام کی حالت بد سے بدتر ہو جاتی ہے۔
عوام کو بھی چاہئے کہ ایسے لوگوں کا انتخاب کرے جو فضول خرچ نہ ہوں، جو عیاشیوں میں ملکی سرمایہ نہ لوٹاتے ہوں، جو ذاتی فائدے اور اقربا پروری کے چکر میں ملکی خزانہ داؤ پر نہ لگاتے ہوں۔ سادہ زندگی بسر کرنیوالے، عوام کے درد کا مداوا کرنے والے اور لوگوں کی خوشی غمی میں شریک ہونے والے ہوں۔ یہ وہ معیارات ہیں کہ جن کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک نمائندے کا انتخاب ہونا چاہئے۔ ایسے انتخابات بھی عبادت ہیں کہ جن کی بدولت نیک اور صالح لوگ برسر اقتدار آئیں۔
سید ابراہیم رئیسی کو مشورہ دیا گیا کہ جمشید آموز گار (شاہ کا وزیراعظم) کے ڈرائیور کا گھر جس میں باغ بھی ہے۔ آٹھ سو میٹر پر محیط ہے۔ سستی قیمت میں آپ خرید سکتے ہیں۔ لیکن انہوں نے قبول نہ کیا۔ ان کا عقیدہ تھا کہ لوگوں نے انقلاب اس لئے برپا نہیں کیا کہ ملکی سربراہ اور نمائندگان عالیشان محلوں میں زندگی بسر کریں۔ وہ ایک عام شہری کی طرح جب اپنے کام سے فارغ ہوتے مکان کی تلاش میں پراپرٹی ڈیلروں کے پاس جاتے تاکہ اپنی اہل وعیال کے لئے گھر ڈھونڈ سکیں۔
کافی زحمتوں کے بعد اپنے پیسوں سے ایک گھر خریدا ، اس کے لئے کچھ رقم قرض بھی لینا پڑی۔ جلد ہی اپنے قرض کی ادائیگی کی۔ یہ اس وقت کی بات جب وہ عدلیہ میں اہم مقام اور عہدے پر فائز تھے۔قوموں کی تقدیر کے فیصلے شجاع اور دلیر رہبروں کے ہاتھ میں ہوتے ہیں۔ جنہوں نے عظیم کام کرنے ہوں ان میں خوف، لالچ اور ڈگمگانے کی کیفیت نہیں ہوتی۔ شجاعت کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ انسان اندھا دھند کام سر انجام دے۔ انسان صحیح فکر کے ساتھ اپنے کام کو انجام دے اور جب وہ کام انجام دینے کا فیصلہ کرلے تو پھر کسی بھی قدم پر لڑکھڑاتا ہوا نظر نہ آئے۔؁۱۹۹۹میں جب یونیورسٹی کے سٹوڈنٹس احتجاج کی حالت میں تھے۔ اسی اثنا میں سید ابراہیم رئیسی کو شریف یونیورسٹی میں تقریر کی دعوت دی گئی۔
مشورہ دیا گیا کہ ساتھ سکیورٹی والوں کو بھی لے جائیں۔ جواب دیا کہ یونیورسٹی میں علمی ماحول ہے۔ کوئی بدمزگی اور سکیورٹی مسئلہ پیش نہیں آئے گا۔ حالات اس طرح کے تھے کہ کوئی بھی حکومتی سربراہ یونیورسٹیوں میں جانے کی جرات نہیں کررہا تھا۔ جب یونیورسٹی پہنچے ، ہال بھر چکا تھا۔ اگرچہ مخالفت میں نعرے نہیں لگ رہے تھے لیکن ٹینشن والا ماحول تھا۔ اسٹیج پر پہنچے، سٹوڈنٹس نے مسلسل سوالات کئے اور سید رئیسی نے مدبرانہ انداز میں جواب دیئے۔ تقریباً نشست دو گھنٹے برقرار رہی۔ سید رئیسی نے اچھے انداز میں جواب دے کر ماحول سازگار بنادیا۔
مولا علی علیہ السلام نے مالک اشتر رض کو فرمایا! تم اپنی خواہشوں پر قابو رکھو اور جو مشاغل تمہارے لئے حلال نہیں ہیں ان میں سے خرچ کرنے میں اپنے نفس کیساتھ بخل کرو، کیونکہ نفس کے ساتھ بخل کرنا ہی اس کے حق کو ادا کرنا ہے۔چاہے وہ خود اسے پسند کرے یا ناپسند۔ کسی بھی نظام میں سب سے بڑی آفت یہ ہے کہ حکومتی منصب پر بیٹھنے والے، جب عوامی خدمت کو چھوڑ کر اپنی عیاشیوں میں لگ جاتے ہیں، ملکی خزانے کو پر کرنے کی بجائے اپنی تجوریاں اور بینک بیلنس کو بھرتے ہیں؛ ملکی وسائل کو اپنی خواہشوں کی تکمیل کے لئے بے دریغ استعمال کرتے ہیں۔ (تب عوام اور حکمرانوں میں فاصلہ ایجاد ہوتا ہے) امام خمینی (رح) نے اپنے آپ کو بھی اس آفت سے محفوظ رکھا اور ملکی عہدیداروں کو بھی نصیحت کی کہ محلوں میں عیاشی کی زندگی سے اجتناب کریں۔
مال ذخیرہ کرنے کی بجائے عوام سے اپنی قربت کو زیادہ کریں(سید علی خامنہ ای)۔یونیورسٹی کے سٹوڈنٹس کے سوال و جواب کے بعد باہر نکلے۔ کچھ سٹوڈنٹس بھی ساتھ نکلے اور آقای رئیسی کی گاڑی کا انتظار کررہے تھے۔ انہوں نے پوچھا ان کی گاڑی کہاں ہے؟ بتایا گیا یہی سادہ گاڑی ان کی ہے۔ سٹوڈنٹس تعجب سے پوچھ رہے تھے واقعا یہ ان کی گاڑی ہے۔ اس وقت ایک عام افسر کے پاس بھی اچھی گاڑی ہوتی تھی لیکن وہ اسی سادہ(پیکان) گاڑی میں سفر کرتے۔ جب لوگوں نے آقای رئیسی کی سادگی دیکھی تو ان کی تعظیم و تکریم کرنے لگے۔بہترین حاکم وہ ہے جس کی نیت اور کام دونوں اچھے ہوں۔
حکمرانی کے اسلامی اصولوں میں ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ انسان ہر کام کو خدا کی رضا کے لئے انجام دے۔ جب کام خالص نیت کے ساتھ ہو تو خدا حاکم کی محبت لوگوں کے دلوں میں ڈال دیتا ہے۔ اس بات کا ہم نے اپنی آنکھوں سے آقای رئیسی کے جنازے میں مشاہدہ کیا۔ سب ان کے لئے گریہ کناں تھے۔یونیورسٹی کے سٹوڈنٹس سے ملاقات کے اگلے دن ہی ایک اخبار نے سرخی لگائی کہ انسپکشن ادارے کے سربراہ نے جب یونیورسٹی کا دورہ کیا تو مخالفت میں نعرے لگائے گئے۔ البتہ یہ اخبار والوں نے شرارت کی تھی۔ لکھا کہ آقای رئیسی یونیورسٹی سوال جواب کی نشست میں گئے تو "سربراہان مملکت حیا کرو، بیت المال کو رہا کرو" ان نعروں کے ساتھ ان کو رخصت کیا گیا۔
میں (راوی)اس کے بعد جب اخبار کے منیجر کے پاس گیا۔ اس سے کہا کم ازکم انصاف سے تو کام لو۔ امام حسین علیہ السلام کے فرمان کے مطابق اگر تمہارا کوئی دین مذہب نہیں تو آزاد لوگوں کی طرح رہو۔ میں خود وہاں تھا۔ سٹوڈنٹس نے جب آقای رئیسی کی سادہ سی گاڑی دیکھی تو ان کی حمایت میں نعرے لگائے۔ وہ کہنے لگے یہ ہمارے ایک لڑکے کی شرارت کی وجہ سے ہوا ہے۔ پھر معذرت کی۔ اس کے بعد میں آقای رئیسی کے پاس گیا، ساری بات ان کو بیان کی۔
اطمینان سے مجھے کہنے لگے! اگر تمہاری منزل خانہ خدا ہے اور اس کی زیارت کے شوق میں بیابانوں کا سفر کررہے ہو تو پھر رستے کے کانٹوں کی تکلیفوں سے پریشان نہ ہو۔ حق کے رستے میں آنیوالی رکاوٹوں اور تکلیفوں سے پریشان مت ہو۔مزید کہا ہم تو کچھ بھی نہیں ہیں ہمارے شھداء نے اس رستے میں سینہ سپر ہو کر جانیں دی ہیں۔ ہم ایک عام سپاہی سے زیادہ کچھ نہیں ہیں۔ یہ جو کہتے رہیں انہیں ان کے حال پر چھوڑ دو۔
تندی باد مخالف سے نہ گبھرا اے عقاب!
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لئے
آقای ہاشمی شاہرودی جب چیف جسٹس تھے۔ ان پانچ سالوں میں آقای رئیسی مسلسل ملکی اور غیر ملکی سربراہوں سے مسائل ڈسکس کرتے۔ اگر کہیں تقریر کا موقع ملتا تو انٹرنیشنل ریلیشنز کے افراد بھی جو اپنے آپ کو بڑا سمجھدار اور اہل علم سمجھتے تھے، جب آقای رئیسی کی گفتگو اور مسائل سے آشنائی اور راہ حل کو سنتے تو کہتے کہ ان کو ان باتوں کا کہاں سے پتہ چلا ہے۔انسان جب بھی کوئی سیاسی اور سماجی اور عبادتی عمل انجام دیتا ہے تو کسی بنیاد پر استوار ہوتا ہے۔
آقای رئیسی مکتب امام صادق علیہ السلام کے پروردہ تھے۔ امام علیہ السلام نے زید بن حشام سے فرمایا کہ اے زید! لوگوں (اہل سنت)کے ساتھ اخلاق والی زندگی بسر کرو۔ ان کی مساجد میں نماز پڑھا کرو اور ان کے مریضوں کی تیمارداری کیا کرو۔ ان کے جنازوں میں شرکت کیا کرو، اور اگر ممکن ہوتو جماعت بھی کروایا کرو اور اذان بھی دیا کرو۔ اگر اس طرح کا کردار ادا کروگے تو کہیں گے یہ جعفری ہے۔ خدا رحمت کرے اس (امام) پر جس نے کتنی اچھی اپنے اصحاب کی تربیت کی ہے۔
اگر ان کاموں کو چھوڑ دو گے تو پھر یہی کہیں گے یہ دیکھو جعفری ہیں؛ اللہ انہیں اس کا بدلا دے کتنے برے اصحاب کی تربیت کی ہے۔ سپریم لیڈر بھی اس بات کی تاکید کرتے ہیں کہ شیعہ اور سنی اپنے تمام تر اختلافات کے باوجود ایک جسم ہیں۔ یہی وحدت سبب بنے گی کہ ہم اپنے بدترین دشمن کو خدایی نصرت کے ساتھ گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیں گے۔ آقای رئیسی صرف ایک مسلک یا گروہ کے نمایندے نہیں تھے۔ شیعہ ہو یا سنی! وہ کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے تھے۔
خراسان جنوبی میں تمام گاؤں کا سفر کرتے۔ لوگوں کے ساتھ بیٹھتے ان کے مسائل سنتے۔ یہی وجہ ہے کہ اس صوبے سے لوگوں کی حمایت سے خبرگان کمیٹی کے نمائندے منتخب ہوتے۔ کئی دفعہ ایسا ہوا کہ جب وہ خراسان جنوبی کے دیہی علاقوں کا دورہ کرتے تو اہل سنت سید ابراہیم رئیسی کی اقتداء میں نماز جماعت ادا کرتے۔ اگر پہنچنے میں کبھی تاخیر ہو جاتی تو اہل سنت امام کے پیچھے بغیر کسی تردید کے نماز جماعت میں شریک ہو جاتے۔ یہی وجہ تھی ان کے فراق میں ہر مذہب اور رنگ ونسل کے لوگ آنسوؤں کے ساتھ انہیں الوداع کہہ رہے تھے۔ سلام ہو تم پر اے ابراہیم رئیسی تو نے کتنی اچھی زندگی گذاری۔
مولا علی علیہ السلام نے بصرہ کے قائم مقام گورنر کو خط لکھا فرمایا! میں اللہ کی سچی قسم کھاتا ہوں کہ اگر مجھے یہ پتہ چل گیا کہ تم نے مسلمانوں کے مال میں خیانت کرتے ہوئے کسی چھوٹی یا بڑی چیز میں ہیر پھیر کی ہے، تو یاد رکھو کہ میں ایسی مار ماروں گا کہ جو تمہیں تہی دست، بوجھل پیٹھ والا اور بے آبرو کر کے چھوڑے گی۔(مکتوب 20)۔ مملکت کے سربراہ کو چاہئے کہ اگر کوئی بھی ماتحت افسر اپنے امور میں غلطی یا کوتاہی کرے تو چشم پوشی نہ کرے بلکہ اس کا نوٹس لے۔
آقای رئیسی جب حرم امام رضا علیہ السلام کے متولی تھے تو کہیں کمی کوتاہی دیکھی تو مربوط عہدیدار کو بلا بھیجا۔ کچھ مہینے تحقیق کرنے والی ٹیم کو مہلت دی کہ اچھی طرح چھان بین کریں، معلومات اور ڈاکومنٹس مستند ہو۔ آقای رئیسی نہیں چاہتے تھے بغیر تحقیق اور ثبوت کے کیس میں ہاتھ ڈالیں تاکہ اپنے سے پہلے والے ذمہ داروں کی حرمت پامال نہ ہو۔
کچھ مہینے انتظار کیا۔ انٹیلی جنس والوں نے معلومات اکٹھی کی ، کمپنی میں جو موجود کارکنوں نے بھی تحقیقات میں ساتھ دیا اور کسی کی عزت نفس کو پامال نہیں ہونے دیا۔ لیکن جب انہیں یہ بتایا کہ اس تمام کاروائی اور تذکر دینے کے بعد بھی کوئی نتیجہ نہیں ملا پس اب خلاف ورزی کرنے شخص کو ضرور سزا ملی چاہئے۔ پھر انہوں نے مزید انتظار نہ کیا۔ فیصلہ کرنے سے پہلے خوب چھان بین اور تحقیق کرتے لیکن جب فیصلہ کرتے تو محکم انداز میں فیصلہ صادر کرتے۔ وہ شخص جو کئی سالوں سے آستان قدس (حرم) کے بڑے عہدے پر کام کررہا تھا، جب اس کے حوالے سے واضح ثبوت ملے تو اسے عدالت کے سپرد کردیا۔
ایک اور مکتوب نمبر 45 میں مولا علی علیہ السلام فرماتے ہیں۔" اگر میں چاہتا تو صاف ستھرے شہد، عمدہ گیہوں، اور ریشم کے بنے ہوئے کپڑوں کے لئے ذرائع مہیا کرسکتا تھا لیکن ایسا کہاں ہوسکتا تھا کہ خواہشیں مجھے مغلوب بنالیں، اور حرص مجھے اچھے اچھے کھانوں کے چن لینے کی دعوت دے جبکہ حجاز ویمامہ میں شاید ایسے لوگ ہوں کہ جنہیں ایک روٹی کے ملنے کی بھی آس نہ ہو، اور پیٹ بھر کھانا کبھی نصیب نہ ہوا ہو۔
امام خمینی کی برسی پر ایک خطاب میں آیت اللہ خامنہ ای نے تقریر کرتے ہوئے کہا" ہم بھی محبوبیت کے حصول میں نہ لگے رہیں، دنیاوی مفادات کے پیچھے نہ بھاگیں اور نہ ہی دنیا کے زرق و برق اور ٹھاٹھ باٹھ کا شکار ہوں۔ اپنی حفاظت کریں۔ بالکل ویسے ہی جیسے امام خمینی رح نے کی۔ اگر ہم غلطی سے دو چار ہوئے تو تو اسی آیہ مجیدہ کے مصداق قرار پائیں گے۔" کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہوں نے اللہ کی نعمت کو کفر سے بدل ڈالا اور اپنی قوم کو ہلاکت میں ڈال دیا۔یعنی دوزخ میں ڈالے جائیں گے کہ جو بدترین ٹھکانہ ہے۔آقای رئیسی کسی خلاف سازش یا منفی ڈیل کرنے والے آدمی نہیں تھے۔
ہمیشہ کوشش کرتے کہ وہ کام کریں کہ بروز محشر جواب دے سکیں۔ جو ان کا عہدہ تھا اگر چاہتے تو ملکی وسائل کا بے دریغ استعمال کرسکتے تھے۔ قانون کے دائرے میں رہ کر بھی بہت سا مال بنا سکتے تھے، لیکن کبھی بھی ایسا کام نہیں کیا۔ ممکن تھا انہیں اس دنیا میں کوئی بھی ان کے لئے رکاوٹ کھڑی نہ کرتا لیکن انہیں ہمیشہ آخرت کی فکر ہوتی۔ عدلیہ کے سربراہ بھی تھے تب بھی کرائے کے گھر میں زندگی بسر کرتے رہے۔ شادی کے بعد قم میں گھر خریدا اور اپنی فیملی کو قم لے گئے۔ جب اوین (شھر) میں انقلاب عدالت کے سربراہ مقرر ہوئے۔ اپنی فیملی کو تھران کے آئے۔ مختصر عرصہ کے لئے تجریش رہے۔ پھر خیابان فاطمی اور حجاب روڈ کے درمیان ایک سادہ سے اپارٹمنٹ میں رہنے لگے۔
اخلاص میرے رازوں میں سے ایک راز ہے۔ میں اسے اپنے بندوں میں سے اس کے دل میں ڈالوں گا جسے دوست رکھتا ہوں گا۔(معراج السعادہ)۔ جنگی علاقے کا دورہ کرنے شلمچہ(عراقی سرحد) آئے ہوئے تھے۔ پیدل چل رہے تھے۔ ایک ساتھی نے کہا آقای رئیسی کو خاردار تاروں کی طرف لے آئیں تاکہ ان کی ایک اچھی سے تصویر لے سکیں۔ آقای رئیسی نے ہماری بات کو سن لیا۔ یہی وجہ تھی وہ واپس مڑے اور اپنا رستہ تبدیل کرلیا۔ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں۔ خداوند متعال کا فرمان ہے! لوگ(عوام) میرا خاندان ہے اور میرے عیال ہیں۔ پس میرے نزدیک محبوب ترین وہ شخص ہے جو ان کے ساتھ مہربان تر ہو اور ان کی ضروریات کو پورا کرنے کی کوشش کرتا ہو۔(کافی ج 2)۔
حکومتی سربراہان کو چاہیئے، کہ اپنی عوام سے گہرا اور نزدیک سے رابطہ برقرار رکھیں۔ اپنی قوم و ملت سے احساسات و جذبات کا رابطہ برقرار ہونا چاہئے۔ ملکی سربراہان کو چاہیئے کہ وہ اپنی عوام سے عشق و محبت کیساتھ پیش آئیں۔ اربعین (چہلم امام حسین علیہ السلام) کا موقع تھا اور ہم آقای رئیسی کے ساتھ مہران بارڈر پر تھے۔ جب لوگوں کو پتہ چلا تو وہ ان کی طرف آئے۔ سیکورٹی والوں نے لوگوں کو نزدیک آنے سے روکنے کی کوشش کی۔ جوانوں کو نزدیک نہیں آنے دے رہے تھے۔ پہلی دفعہ تھا کہ جب میں آقای رئیسی کو سخت ناراض دیکھا۔ سیکورٹی والوں کو سختی سے کہا کہ کہ عوام کو مت روکیں۔
عوام کی خاطر کسی بھی رکاوٹ کو قبول نہیں کرتے تھے۔امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں! خودپسندی سے اپنے آپ کو بچاؤ ، اور لوگوں کی داد و تعریف سے بچے رہو۔ اس حالت میں شیطان موقع تلاش کرتا ہے تاکہ وہ نیک لوگوں کی نیکیوں کو نیست و نابود اور ختم کردے۔
سید ابراہیم رئیسی زمانہ طالب علمی سے ہی اچھے کردار سے آراستہ تھے۔ صاف دل کے مالک اور ہر طرح کے کھوٹ سے پاک تھے۔ اس زمانے ان کے ساتھ کبھی بس پر تو کبھی پیدل جمکران جایا کرتے تھے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ، ان کے ساتھ مانوسیت بڑھتی گئی۔ وجہ یہی تھی کہ وہ سادہ زیست تھے۔ وہ طالب علم تھے تب بھی اور جب وہ چیف جسٹس اور پھر حرم امام رضا علیہ السلام کے متولی بنے تب بھی ان کا ظاہر و باطن ایک ہی تھا کوئی فرق نہیں آنے دیا۔
بعض لوگ عہدہ ملتے ہی اپنی اصلیت بھول جاتے ہیں اور اپنے آپ کو کوئی بڑی چیز سمجھنے لگتے ہیں۔ لیکن سید ابراہیم رئیسی کسی بھی طرح کے غرور و تکبر کا شکار نہیں ہوئے۔ جتنے بھی عہدے ملے انہوں نے اپنا معیار تبدیل نہیں کیا۔ اپنے مقام اور مرتبے کا ناجائز استعمال نہیں کیا۔ ہنسی مزاح اور دوستانہ ماحول میں رہتے اور اپنے لئے کسی مقام و مرتبے اور پروٹوکول کے قائل نہیں تھے۔ مولا علی علیہ السلام فرماتے تھے" بے شک مجھے خدا نے اپنی مخلوق کے لئے امام قرار دیا ہے اور میرے لئے یہ واجب قرار دیا ہے کہ اپنے اوپر سختی کروں۔کھانے ، پینے اور لباس پہننے کے معاملے میں معاشرے کے کمزور ترین لوگوں کی طرح رہوں۔
یہ جو ہم ملکی سربراہان کو سادہ زندگی بسر کرنے کی نصیحت کرتے ہیں وہ اسی لئے ہے کہ عوام کو یقین دلائیں کہ سربراہان اپنی تجوریاں بھرنے کے چکر میں نہیں ہیں؛ اس سے لوگوں کو اپنے سربراہوں سے امید وابستہ ہوتی ہے اور عوام کا اعتماد بڑھتا ہے۔ ایک حکومتی سربراہ جو ایک چھوٹی پوسٹ پر براجمان ہوتا ہے اور ہمیشہ اسے یہ فکر لاحق ہوتی ہے کس طرح اپنا بینک بیلنس اور جیب بھر سکے۔
ہر وقت دولت کو جمع کرنے کے چکر میں ہے۔ کبھی یہاں ہاتھ پڑا کبھی وہاں۔ سوچتا ہے کس طرح عوام کا مال ہتھیایا جائے۔ فقط اپنے پیٹ کی فکر ہوتی ہے۔ جبکہ دوسری طرف وہ عوامی نمائندہ ہے جسے اپنی فکر نہیں بلکہ ہر لمحے عوام کے مسائل حل کرنے کی فکر ہوتی ہے۔ ان دونوں میں بہت فرق ہے۔( آیت اللہ خامنہ ای)۔قانونی طور پر بھی آقای رئیسی کو اجازت تھی کہ جو پراپرٹی بغیر کسی مالک کے ہے۔ اس اپنے استعمال میں لا سکیں۔ سب کچھ ان کے اختیار میں تھا۔ لیکن دنیا کے مال سے صرف ایک اپارٹمنٹ تھا جسے قسطوں پر لیا تھا۔ ایک عام اور سادہ زندگی، جس طرح کسی ملک کا عام باشندہ بسر کرتا ہے۔
امام باقر علیہ السلام نے عمر بن عبد العزیز کو نصیحت فرمائی " اپنے دروازے کو عوام کے لئے کھلا رکھو اور لوگوں کی اپنے تک رسائی(پہنچ) آسان بناؤ"(بحار الانوار ج 46) انقلاب اسلامی کی ابتداء ہی سے امام خمینی رح تاکید کیا کرتے تھے کہ خاک نشینوں، پابرہنہ اور محروم لوگوں کی دادرسی کی جائے۔ حکومتی عہدیداروں کو تاکید کیا کرتے تھے اشرافیہ والی زندگی سے پرہیز کریں۔ امام کی یہ نصیحت ہمیں فراموش نہیں کرنی چاہئے۔(امام خمینی کی برسی پر خطاب 2011).
آیت اللہ رئیسی کو ٹیلیگرام سے دو قسم کے پیغام وصول ہوتے تھے۔ایک لوگوں کی حرم سے تبرک (غذا) کی درخواست کہ جو ان کے کہنے پر دی جاتی تھی اور دوسرے خصوصی میسج ہوتے تھے۔ بہت سارے لوگ جو بنیادی ضروریات سے محروم ہوتے تھے اور مشکلات کا شکار ہوتے تھے۔ ہرطرف سے مایوس ہو کر جب امام رضا علیہ السلام کی بارگاہ میں توسل کیا کرتے تھے۔ وہ بیوائیں جو یتیموں کی کفالت کے لئے اور وہ عام شہری مزدور جو کام کی تلاش میں دربدر ہورہے ہوتے تھے، ان کی درخواستیں تھیں۔ چینل کے ایڈمن کو حکم دے رکھا تھا ان درخواستوں کو فوری طور پر سسٹم میں درج کیا کریں تاکہ مسائل حل کرنے میں دیر نہ ہو۔ اس وقت تک ذاتی طور ان مسائل کو فالو اپ کرتے، جب تک ان مسائل کو حل نہ کرلیتے۔
مالک اشتر رض کے نام خط میں مولا علی علیہ السلام نے فرمایا!" پھر اپنے عہدیداروں کے بارے میں نظر رکھنا اور ان کو خوب آزمائش کے بعد منصب دینا، کبھی صرف رعایت اور جانبداری کی بنا پر انہیں منصب عطا نہ کرنا۔ اس لئے یہ باتیں نہ انصافی اور بے ایمانی کا سر چشمہ ہیں اور ایسے لوگوں کو منتخب کرنا جو آزمودہ و غیرت مند ہوں۔ ایسے خاندانوں میں سے جو اچھے ہوں اور جن کی خدمات اسلام کے سلسلے میں پہلے سے ہوں کیونکہ ایسے لوگ بلند اخلاق اور بے داغ عزت والے ہوتے ہیں۔
حرص و طمع کی طرف کم جھکتے ہیں اور عواقب و نتائج پر زیادہ نظر رکھتے ہیں۔ پھر ان کی تنخواہوں کا معیار بلند رکھنا، کیونکہ اس سے انہیں اپنے نفوس کے درست رکھنے میں مدد ملے گی، اور اس مال سے بے نیاز رہیں گے جو ان کے ہاتھوں میں بطور امانت ہوگا۔
ملکی انسپکشن ادارے کی جب سربراہی سنبھالی تو اس کی حالت ناگفتہ بہ تھی۔ حتی ادارہ بنیادی ضروری سہولیات سے بھی محروم تھا۔ تین سو ملازم تھے کہ جن کی ماہانہ تنخواہ بہت ہی کم تھی۔ کام کرنے کے لئے صرف ڈیڑھ سو میز درکار تھے۔ باری باری ملازمین بیٹھ کر کام انجام دیتے تھے۔ دس سال بعد جب اس ادارے کو خیر باد کہا تو ادارے کی ملازمین کی تنخواہ میں خاطر خواہ اضافہ ہوچکا تھا۔
ہر کسی کو معلوم ہوچکا تھا کہ ادارہ کتنی اہمیت کا حامل ہے اور کتنا ضروری ہے۔ ان کے جانے کے تھوڑے ہی عرصے بعد اس ادارے کو ایک نئی بلڈنگ میں منتقل کردیا گیا جو آقای رئیسی کے کہنے پر بنائی گئی تھی، لیکن کبھی بھی اس عمارت میں ایک سربراہ ہونے کے ناطے چکر نہیں لگایا۔ یہ ان کی عاجزی و انکساری تھی کہ کام اخلاص کیساتھ کرتے تھے نہ کہ لوگوں کی داد و تحسین کے لئے۔
(مضبوط) حکومت کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ امور کی انجام دہی میں ہوشیاری سے کام لے۔(غررالحکم ص 341) آیت اللہ خامنہ ای نے سرکاری ملازمین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میری آپ تمام بہنوں اور بھائیوں سے گزارش ہے! اپنے کام کے دائرہ کار میں پوری توان کو بروئے کار لائیں۔ اگر حکومتی مشینری کے تمام ارکان اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کریں اور اخلاص کے ساتھ اپنی ڈیوٹی کو انجام دیں، تو ملک بڑی تیزی کے ساتھ ترقی کی راہوں پر گامزن ہوگا۔
انسپکشن ادارے کے کارکنان اور عہدیداروں سے عمومی ملاقات کے بعد آیت اللہ خامنہ نے آقای رئیسی سے خصوصی ملاقات کی۔ اس دوران سپریم لیڈر نے انہیں مشورہ دیا کہ اپنے ادارے کی نظارت کے لئے بھی کوئی داخلی نظارت کا نظام ہونا چاہیئے جو انسپکشن کے عہدیداران کی مانیٹرنگ کرے۔ سر جھکائے نہایت ہی عاجزی جواب دیا! چھے ماہ ہونے کو ہیں، ہم نے اس کام کا آغاز کردیا ہے۔ ایسا نظام تشکیل دیا ہے کہ نامحسوس طریقے سے جانچ پڑتال ہوتی رہے۔ اپنے کام کی رپورٹ سپریم لیڈر کے سامنے پیش کی۔ ان کی اس تدبیر سے رہبر کے لبوں پر مسکراہٹ آئی اور شکریہ ادا کیا۔
اے پیامبرﷺ! جو قیدی تمہارے قبضے میں ہیں ان سے کہدیں کہ اگر اللہ کو علم ہوا کہ تمہارے دلوں میں کوئی اچھائی ہے تو جو تم سے (فدیہ میں) لیا گیا ہے وہ تمہیں اس سے بہتر عطا کرے گا اور تمہیں معاف کرے گا اور اللہ بڑا بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے۔ (انفال:70) انقلاب اسلامی کے ابتدائی سالوں میں پارلیمنٹ کے سرکردہ 72 اراکین شہید ہو جاتے ہیں۔منافقین کے گروہ نے اس کاروائی کو انجام دیا تھا۔ اسی گروہ کے افراد جیلوں میں قید بھی تھے۔
اسی مناسبت سے امام خمینی رح نے ایک تقریر میں کہا: "میں جیل کے حکام اور عدالتی عہدیداروں سے ایک بات عرض کرتا ہوں، ایسا نہ ہو قیدیوں کیساتھ ناروا سلوک شروع کردیا جائے، اور ہوش و حواس سے کام نہ لیا جائے۔ اگرچہ یہ قیدی اسی گروہ سے ہیں لیکن کہیں ایسا نہ ہو خدا نخواستہ ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک روا رکھا جائے۔ احترام اور اطمینان کے ساتھ اس عمل کو انجام دیں۔ لیکن عدالت ان کی فائلوں کی توجہ کے ساتھ جانچ پڑتال کرے، ان سے تفتیش اور سوال وجواب کریں۔ محکم انداز سے اپنے کام کو انجام دیں۔
جو گروہ منافقین کے افراد قید میں تھے۔ "فروغ جاوداں" نامی آپریشن کی ناکامی سے آگاہ ہوچکے تھے۔ ان قیدیوں نے منصوبہ بنایا کہ جیسے بھی ہو عدلیہ سے منسلک اہم افراد کو ٹارگٹ کیا جائے۔ حتی جیل میں موجود چمچوں سے تیز دھار چاقو بنائے گئے۔ سید ابراہیم رئیسی ان کی ہٹ لسٹ پر تھے۔ جب اپنے قتل کی پلاننگ کا معلوم ہوا تو خاموش رہے۔ کوئی اقدام نہیں کیا۔ منافقین کے اس رویے کے باوجود انہوں نے حکم دے رکھا تھا کہ اگر منافقین اپنے رویے میں ذرہ برابر بھی تبدیلی لے آئیں اور پشیمانی کا اظہار کریں تو ان سے اسلامی رواداری سے پیش آیا جائے۔
حکمرانوں کے لئے زیبا نہیں ہے کہ وہ ان تین کاموں میں کوتاہی برتیں۔ سرحدوں کی حفاظت کو برقرار رکھنا، عوام کے حقوق کو پامالی سے بچانا، اور اپنے کام کے لئے صحیح لوگوں کا انتخاب کرنا۔ (تحف العقول، ص 319)۔مالک اشتر کے نام خط سے ایک اور جملہ کہ مولا علی علیہ السلام نے فرمایا!" اپنے عہدیداروں کے کاموں کو توجہ کے ساتھ دیکھتے رہنا، ان پر نظر رکھنا، سب سے پہلا کام ان کی خوب چھان بین کرکے انہیں منصب سپرد کرنا، جانبداری کی بنیاد پر نہیں بلکہ اہلیت کی بنیاد پر منصب سپرد کرنا، کسی رکھ رکھاؤ اور رعایت کی بنیاد پر منصب نہ دینا۔ کیونکہ یہ باتیں ناانصافی اور بے ایمانی کا کا سر چشمہ ہیں۔ کسی اہل کو عہدہ دینا۔ فلاں میرا دوست ہے، میرا رشتہ دار ہے! اس بنیاد پر کبھی بھی انتخاب نہ کرنا۔ انتخاب کرتے ہوئے ذاتی پسند ناپسند اور تعصب سے کام مت لینا۔ اہل و فکر ونظر سے مشورے کے بعد اس عمل کو انجام دینا۔
جب ان کو انسپکشن ادارے کی سربراہی ملی تو کام کرنے والے جو سیاسی اختلاف کی بناپر دوسری پارٹی سے تھے، ان کو پریشانی ہوئی کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ انہیں آقای رئیس نکال دیں یا کوئی مشکل کھڑی کریں۔ لیکن انہوں نے پورے دس سال ان اہل افراد سے بھرپور تعاون کیا اور کام کروایا۔ وہ صرف زبانی نہیں کہتے تھے عملی طور پر بھی اس بات کے قائل تھے کہ افراد اہل ہونے چاہئیں، چاہے ان کی کسی بھی سیاسی پارٹی سے وابستگی ہو۔
رسول خداﷺنے فرمایا! کسی بھی مسلمان نے اگر مسلمانوں کے ایک گروہ کی خدمت کی تو خداوند متعال ان کی تعداد کے برابر بہشت میں ان کے لئے خدمت گزار عطا فرمائے گا(الکافی ج 2، ص 207)۔ ملکی صدر کے لئے ضروری ہے۔ عوام کی قدر جانتا ہو اور لوگوں سے قربت رکھتا ہو، لوگوں کے مسائل حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہو، اور ملکی پوٹینشل اور وسائل کو اس طرح استعمال کرے کہ قوم ان مواقع سے بھرپور استفادہ کرے۔سید ابراہیم رئیسی! چاہے زمانہ طالب علمی تھا یا کسی بھی ادارے کی ذمہ داری، ایک لمحے کے لئے بھی اپنی عوام سے جدا نہیں تھے۔ ہمیشہ نماز جمعہ اور نماز جماعت میں لوگوں کے ساتھ شریک ہوتے۔
لوگوں کے مسائل سے آشنائی اسی ذریعے سے ہوتی تھی۔ لوگوں کے ساتھ براہ راست رابطہ رکھتے تھے۔ اپنی ذمہ داری کے دوران عوام سے براہ راست ملاقات کے لئے ایک دن مخصوص کرتے تھے۔ لوگ پہلے سے اپنی رجسٹریشن کروا لیتے۔ پھر مخصوص دن میں لوگوں کو دعوت دی جاتی کہ اپنے مسائل بیان کریں۔ ایک دن میں سینکڑوں لوگوں کے مسائل سنتے، جہاں تک ممکن ہوتا، ان کے مسائل و مشکلات حل کرنے کی کوشش کرتے۔مولا علی علیہ السلام فرماتے ہیں: خدا کی طاعت و بندگی تک وہی پہنچ سکتا ہے جو پوری توان و قدرت کے ساتھ کوشش کرے۔(غررالحکم ح 6009).
آنے والے صدر مملکت کے لئے جو چیز ضروری ہے وہ یہ ہے کہ اپنے پورے وجود کے ساتھ اپنی عوام کے کاموں کو انجام دے۔ آقای رئیسی نے ایک جگہ تقریر کرنا تھی۔ جب وہ تقریر کے لئےسٹیج پر گئے تو ان کے محافظ کے پاس بیٹھے ایک شخص نے کہا: کاش ان کے لئے ایک کرسی کا بندوبست کردیتے اور سید بیٹھ کر تقریر کرتے۔ اس نے کہا! آپ ان کی ظاہر پہ نہ جائیں، ان کی داڑھی سفید ہے لیکن ابھی جوان ہیں۔ جذبے سے معمور ہیں۔ پھر مسکراتے ہوئے کہنے لگا انہوں نے ہمیں بوڑھا کردیا ہے۔ صبح پانچ بجے سے رات گیارہ بجے تک کام میں مصروف رہتے ہیں۔
بعض انسان ایسے ہیں کہ جب انہیں منصب ملتا ہے تو ان کی اصلیت ظاہر ہوتی ہے۔ اندر کی رزیلت اور کم ظرفی آشکار ہوجاتی۔ غرور وتکبر کا اظہار ہونے لگتا ہے اور عوام کو کیڑے مکوڑے سمجھا جانے لگتا ہے۔ غرور و تکبر کا شکار وہی لوگ ہوتے ہیں جو اپنے اندر ذلت و خواری کا احساس کرتے ہیں۔ ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے اندر جھانکیں اور اپنی کمیوں ، کوتاہیوں پر ایک نظر ڈالیں۔ وہ لمحہ یاد کریں کہ جب ہم کوئی قابل ذکر شے نہ تھے اور اس کریم خالق نے اشرف بنا دیا۔
اپنی ظاہری طاقت و قدرت اور عہدے سے دھوکہ نہ کھائیں۔ انسان یہی سے مغرور بنتا ہے۔ اگر انسان خود اپنے بارے فکر کرتا رہے اور اسے معلوم ہو کہ وہ کیا تھا، کہاں ہے اور اسے کہاں جانا ہے تو کبھی خودپسندی اور خود محوری کا شکار نہیں ہوگا۔ گیارہ سال سے آقای رئیسی سے نزدیک سے ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ آخری دفعہ انہیں آیت اللہ نوری ھمدانی کے دفتر میں گہ شپ ہوئی تھی۔ دو تین پہلے پھر ان سے ملاقات ہوئی۔ لیکن اب وہ متولی حرم امام رضا علیہ السلام کے عظیم منصب پر فائز تھے۔
ان کی شخصیت میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں تھی۔سوائے اس کے کہ اب ان کے داڑھی سفید ہوچکی تھی اور چہرہ نورانی۔ اسی طرح مقبول و محبوب، ہنس مکھ، خوش باش، لوگوں کے مسائل کو حل کرنیوالے، دلکش اور مٹے ہوئے انسان۔سچ پوچھو تو میں اپنی خوشی چھپا نہیں سکتا تھا۔
ایک متولی کو سر سے عمامہ اتارے، حرم امام کے ایک گوشے میں مناجات کے عالم میں آنسو بہاتے ہوئے دیکھتا ہوں۔ وہ میری آنکھوں کے سامنے ہے، عوام کے درمیان بغیر کسی حفاظتی گارڈ کے، ایک عظیم منصب پر فائز شخصیت کے سامنے لوگ بلند مرتبہ عہدیداروں کی شکایت بیان کرنے میں جھجک محسوس نہیں کرتے۔ انہوں نے اپنے اور عوام کے درمیان فاصلہ ایجاد نہیں کیا۔ یہی وجہ تھی کہ ان کے جنازے میں مرد و زن ،بچے، بوڑھے ،انقلابی اور روشن خیال سبھی کہہ رہے تھے اے خدایا! ہم گواہی دیتے ہیں کہ ہم نے ان سے سوائے نیکی کے کچھ نہیں دیکھا۔

سلام ہو ابراہیم پر

فیڈ بیک


افکار و نظریات: daily, weekly, news, monthly