عزاداری اور معاشرہ
🖋️ سیّدہ امیر فاطمہ رضوی ایڈوکیٹ


احترامِ محرم یا احترام ایامِ عزاء بالعموم سوا 2 مہینے کی عزاداری بالخصوص یکم محرم الحرام سے 20 صفر تک (چہلمِ امامِ حسن ع و شہیدانِ کربلا) اور معصُومین علیہم السلام کی شہادت/یومِ وفات بشمول ایامِ فاطمیہ و مولا علی کی تواریخ پہ ہمارے خانوادے کی روایات👇🏻
ہمارے گھروں یعنی ہمارے گھر و خاندان اور کنبے عزائی برادری محلے و معاشرے کے زیادہ تر گھرانے شامل ہیں۔ بہرحال ہمارے گھروں محرم الحرام میں بالکل نئے کپڑے نہیں پہنے جاتے اور نہ ہی نئے کپڑے سِلوائے جاتے ہیں اور نہ ہی بازار سے خریدے جاتے ہیں اور اگر محرم الحرام میں لباس، برقعہ، عبایا اور چادر وغیرہ کی ضرورت درپیش ہوتی ہے تو ایامِ عزاء یعنی محرم الحرام کے شروع ہونے سے پہلے سلائی یا خریداری مکمل کرکے 1 یا 2 مرتبہ پہن کر یا دھوکر نئے کپڑوں کے نئےپن کو ختم کرکے ہی ایامِ عزاء میں پہنا جاتا رہا ہے۔ اسی طرح نئے چپل جوتے اور پرس وغیرہ بھی ایامِ عزاء میں نہیں خریدے جاتے تھے۔ اپنی ذاتی آرائش و زیبائش یعنی make-up وغیرہ بھی نہیں کیا جاتا ہے اور نہ ہی ناک کان چھِدوائے جاتے رہے ہیں اور ہی زیورات پہنے جاتے رہے ہیں اور نہ ہی بیوٹی پارلر جایا جاتا ہے۔ اور نہ ہی گھر پہ بیوٹیشن کو بلواکر یا خُود سے بھی اپنی غیرضروری زیب و زینت اور آرائش و زیبائش نہیں کی جاتی ہے اور نہ ہی زیورات خریدے جاتے ہیں اپنی ذاتی اور گھر کی آرائش و زیبائش کے لیے کسی بھی قسم کی کوئی نئی خریداری نہیں کی جاتی ہے۔ اور نہ ہی نیا گھر اور نئی گاڑی اور نئی چیزیں خریدی جاتی ہیں اور نہ ہی نئے گھر یا کاروبار کے لیے نئی دکان آفس یا کسی نئی عمارت/بلڈنگ کی تعمیر شروع کی جاتی ہے اور نہ ہی گھر اور کاروبار کے لیے دکان، آفس یا کسی عمارت/بلڈنگ کی از سرِنو مرمت یا رنگ و روغن اور گھر کی آرائش و زیبائش/سجاوٹ کی جاتی ہے۔ سوائے مجالس و جلوس عزاء اور عزاداری کے انتظامات کے لیے نئی چیز خریدی جاسکتی ہے۔

میں نے اپنے بچپن میں یہ بھی دیکھا ہے کہ اکثر گھرانے محرم الحرام کی آمد سے قبل نئے نکور کپڑے سِلوانے سے پرہیز کرتے ہوئے اپنے پُرانے دُوسرے ہلکے رنگوں کے کپڑوں کو رنگ ریز سے سیاہ/کالے رنگ میں کروالیتے تھے یا پھر خُود ہی گھر میں کپڑے کو کالا رنگ چڑھا لیتے تھے اگر ماضی ہم میں سے کبھی کوئی بھی فرد بالکل نیا نکور لباس محرم الحرام میں مجبوراً پہن لیتا تھا تو اس بات کو بہت برا سمجھ کر بے احترامی کا مرتکب سمجھا جاتا تھا۔ گو کہ اب اس روایت کا زیادہ خیال نہیں کیا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں ایامِ عزاء اور بالخصوص سوا 2 مہینے گھر میں یا باہر جاتے وقت بھی محرم میں لال، پیلا، گلابی رنگ اور ان رنگوں کی فیملی سے کوئی بھی شیڈ نہیں پہنا جاتا۔ مثلاً ہم ہلکا سا بھی گُلابی رنگ یا بہت ہلکا سا بھی پیلا یااورنج یا شاکنگ پنک یا سرخی مائل رنگ یا چمکتے ہوئے سرخی مائل براؤن رنگ یا گلابی رنگ جھلکتے ہوئے رنگ کے لباس/کپڑے و برقعے یا چادر نہیں پہنتے ہیں۔ بس کالا، سفید، ہرا، نیلا، سرمئی اور خاکستری رنگ اور ان رنگوں کی فیملی کے ہلکے یا گہرے شیڈز پہن سکتے ہیں۔ بالعموم سیاہ سادے یا ہلکے رنگ کے لباس پہنے جاتے ہیں اور بالخصوص مجالس و جلوس عزاء میں شرکت کے لیے سیاہ/ کالے کپڑے/لباس پہنا جاتا ہے اور خواتین بالعموم اور ایامِ عزاء میں بالخصوص پردے اور اسلامی حجاب کے لیے سیاہ/کالا حجاب برقعہ عبایا چادر پہننا پسند کرتی ہیں۔ یہ یاد رہے کہ اسلام میں پردہ کا حکم تو ویسے بھی ہمیشہ کے لیے ہے۔ اسی لیے محرم میں مجالس و جلوس عزاء میں شرکت کے لیے پردے کا بہت زیادہ خیال کیا جاتا ہے۔ بہت شوخ یا زرَق برَق اور دیدہ زیب لباس یا بہت فیشن ایبل اور بےحجابی والے لباس ہرگز نہیں پہنے جاتے۔ بےحیائی اور بےحجابی کے لباس یا بےپردگی کے ساتھ تو ویسے بھی کسی وقت بھی پہن نامحرم کے سامنے آنا گناہ ہے۔

اس کے علاوہ ایامِ عزاء میں گھر، کاروبار اور گاڑی کے متعلق کوئی نیا کام، نیا معاہدہ یا کسی نئے سفر کرنے یا تفریحی سفر کرنے سے بھی مکمل پرہیز کیا جاتا رہا ہے۔
ایامِ عزاء اور معصُومین علیہم السلام کی شہادت کی تواریخ پہ کوئی خوشی کی تقریب اکیلے منانا یا تقریب/محفل /gathering میں کسی کو مدعو کرنا یا کسی دُوسرے کے مدعو کرنے پہ شادی یا کسی بھی خُوشی کی تقریب میں شرکت کرنا یا کسی کو تحفہ دینا یا تحفہ قبول کرنا ممنوع سمجھا جاتا تھا اور سوائے عزائی مجلس و جلوس اور عزائی تبرک و نذر و نیاز و حاضری کے علاوہ کسی بھی قسم کی دعوت کرنے یا دعوت قبول کرنے سے بھی سخت پرہیز کیا جاتا رہا ہے اور کسی کی بھی کامیابی یا خُوشی یا سالگرہ کے موقع کو ذاتی طور پر اکیلے منانے/ celebrate کرنے یا کسی محفل یا تقریب یا gathering کرنے سے یا کسی کے مدعو کرنے پہ شرکت کرنے سے بھی سخت پرہیز کیا جاتا رہا ہے۔
کسی بھی شادی کے لیے رشتہ ڈھونڈنا یا رشتہ کی بات کرنا یا رشتے کے لیے جانا یا بات پکی یا شادی کی تاریخ طے کرنا، منگنی یا نکاح، شادی، ولیمہ، نئے گھر یا حج و عمرے کا ولیمہ، محفلِ میلاد یا کسی بھی دعوت سے پرہیز کیا جاتا رہا ہے۔
نئے سال یا نئے موسم یا کسی تہوار یا رسم و رواج کو منانے یا خُوشی کی وِشز و مُبارک-بادیاں دینے یا سالگرہ کرنے یا سالگرہ کی وِشز یا مبارک یعنی (Birthday wishes) اور سالگرہ کا یا کسی بھی خُوشی یا کامیابی کا کیک کاٹنے اور چراغاں کرنے سے بھی سخت پرہیز کیا جاتا رہا ہے۔ بچے/بچی کی پیدائش، پیدائش کی رسموں کی خُوشی، چَھٹی، چِلّے یا سنت کی celebration، عقیقہ، ناک کان چِھدوانا اور ناک کان چِھدوانے کی خُوشی منانا یا تقریب کرنا، امتحان میں کامیاب ہونے یا نئی جاب ملنے اور کسی بھی کامیابی کے جشن یا کسی بھی طرح کی خُوشی و کامیابی کی مبارک سلامت کرنے یعنی مبارک باد لینے یا دینے سے سخت پرہیز کیا جاتا رہا ہے۔
اسی طرح کسی بھی طرح کی پکنک، سیر سپاٹے، تفریح، تفریحی سفر، انجوائے-منٹ اور مُوڈ اچھا کرنے اور ماحول بدلنے یا مُنہ کے ذائقے یعنی لذتِ کام و دہن کے لیے باہر جاکر کھانے یا ریفریشمنٹ یعنی ڈائننگ-آؤٹ سے بھی پرہیز کیا جاتا رہا ہے یعنی سوگ کے دنوں یا ایامِ عزاء میں ہم لوگ باہر کھانے پینے یا ریفریشمنٹ کرنے یا کرانے یا کسی کے ساتھ بھی باہر کھانے پینے یا کِھلانے پلانےکو اچھا نہیں سمجھتے ہیں اور کسی بھی ہوٹل یا ریسٹورنٹ میں یا کسی بھی آؤٹ لیٹ کے لگثری فوڈز کھانا پسند نہیں کرتے
عزائی سفر کے دوران ہوٹل یا ریسٹورنٹ یا انتظامیہ کی طرف سے کھانا پینا تبرک و نذر و نیاز و حاضری میں مِلنے والی کھانے پینے کی تمام چیزیں باخوشی اور بصد احترام کھائی جاتی ہیں اور کسی بھی مجبوری کی وجہ سے دورانِ سفر بھوک لگنے کی صورت میں نارمل کھانے پینے کی اشیاء خرید کر کھالیا جاتی تھیں۔ ایامِ عزاء میں غم و سوگ کی کیفیت کو محسوس کرتے ہوئے لگثری اور اعلیٰ قسم کے کھانے اور پر لطف ماحول میں انجوائے کرتے ہوئے کھانا پسند نہیں کیا جاتا۔

ایامِ عزاء میں ہم لوگ کڑاہی اور کڑہاؤ میں بننے والے فرائڈ آئٹم نہیں کھا سکتے ہیں اور فرائڈ آئٹم خرید کر گھر لاکر بھی نہیں کھاسکتے اور نہ ہی گھر میں پکاسکتے ہیں۔ مثلاً مچھلی، جھینگا، پُوری، کچوری، پُوری-پراٹھے، انواع و اقسام کے پراٹھے، کڑہی پکوڑے، گول گپے، مٹھائیاں، انجوائے منٹ اور ریفریشمنٹ کے لیے چاٹ/سموسے پکوڑے اور مختلف قسم کے رول۔
گھر سے باہر جاکر یا گھر پہ لاکر یا گھر میں deal منگواکر اعلیٰ قسم کے مہنگے یا اعلیٰ درجے کے کھانوں سے یا لگثری فوڈز سے پرہیز کیا جاتا رہا ہے مثلاً پِزا، بروسٹ، تکہ، چرغہ، سجّی، برگر، زِنگر برگر، مختلف ذائقوں کے سپر ڈُوپر قسم کے سینڈوچز وغیرہ وغیرہ اور مختلف قسم کی آئسکریمز، فالودے، قلفیاں، کولڈ ڈرنک اور کولڈ ڈیزرٹ یا مختلف قسم کے کیک یا مختلف سوئٹ ڈیزرٹ حلوے مٹھائیاں وغیرہ وغیرہ۔
احترامِ محرم میں غم مناتے ہوئے محرم کے پہلے عشرے میں بالخصوص 7 محرم سے 10 محرم الحرام تک مسہری/بیڈ یا تخت یا پلنگ پہ لیٹنے اور سونے کو بھی اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا۔ ان دنوں میں فرشی بستر پہ آرام کیا جاتا تھا اور فرشی دسترخوان پہ کھانا کھایا جاتا تھا۔ 9 اور 10 کے درمیانی رات یعنی شبِ عاشور اور عاشور کے دن سونے اور آرام کرنے سے بھی پرہیز کیا جاتا تھا۔

میں نے اکثر اپنی مرحُومہ نانی اور اکثر کنبے و برادری کے دُوسرے بزرگوں کو بیڈ/مسہری، تخت اور پلنگ کو ایکطرف کھڑے کردینے یا پلنگ کو اُلٹا کر فرش پر رکھتے ہوئے دیکھ کر یہ معلوم ہوا تھا کہ ہم ایسا اس لیے کرتے ہیں کہ کوئی بھی شخص جانے انجانے میں ایامِ عزاء بالخصوص یکم یا دہم محرم الحرام کے دوران پلنگ پہ چڑھ کر نہ بیٹھ جائے۔ یعنی بُلند ہوکر شان دار طریقے یا انتہائی آرام دہ کیفیت میں بیٹھنا اور لیٹنا احترامِ محرم الحرام کے منافی سمجھا جاتا تھا۔
سارے ایامِ عزاء اور محرم الحرام کی عزاداری کے سوا دو مہینے اور خاص طور پر محرم کے پہلے عشرے میں اور بالخصوص 7 محرم سے یومِ عاشور اور شام غریباں تک بہت زیادہ غم و حُزن کے ساتھ گریہ کرتے ہوئے مجالس جلوس اور عزاداری میں شرکت کی جاتی تھی۔
ہمارے بچپن میں سوا 2 مہینے کے لیے TV بند کردیا جاتا تھا۔ بس شامِ غریباں کی مجلس دیکھنے اور سننے کے لئے tv آن کیا جاتا تھا۔ اب بھی ایامِ عزاء میں تفریح (fun & enjoyment) کے لیے TV یا کسی سوشل نیٹ ورکنگ کی اسکرین پہ کوئی پروگرام نہیں دیکھا جاتا سوائے عزائی پروگرام یا صاف ستھرے معلوماتی یا علمی پروگرام یا اسلامی و تاریخی پروگرام اور خبریں وغیرہ بھی دیکھ لی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ گھر میں یا گھر سے باہر سینما و تھیٹر میں مُووی/فلم اور تفریحی پروگرام دیکھنے اور شرکت کرنے سے بھی سخت پرہیز کیا جاتا رہا ہے۔ جیسا کہ ہمارے مذہب میں مُوسیقی حرام ہے اسی لیے ہر وقت اور ایامِ عزاء میں بھی موسیقی/میوزک سُننے یا گانے بجانے کی محفل کرنا یا شرکت کرنا سخت گناہ سمجھ کر سخت ترین پرہیز کیا جاتا ہے۔ اسی طرح بہت زیادہ ہنسنے ہلّا گُلا اور غل غپاڑہ کرنے اور Fun & enjoyment کرنے سے بھی احتراز کیا جاتا رہا ہے۔
ہمارے گھر/گھروں کی مجالس و جلوس و تبرک و سبیل اور نذر و نیاز و حاضری میں شرکت کرنے والوں کو رسول اللّہ ﷺ کے خانوادے بالخصوص بنتِ رسولﷺ بیبی سیّدہ س اور رسولِ خدا ﷺ کے نواسے مولا و امام حسین ع کا مہمان سمجھ کر اچھی مہمان نوازی کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اور اپنے گھر کی عزاداری و مجالس اور نذر و نیاز کو بہت بہت اہمیت دی جاتی ہے اور کسی دُوسرے کے گھر جانے کی خاطر گھر کی مجلس، عزاء خانے نذر و نیاز کو لپیٹا نہیں جاتا یعنی پیٹھ نہیں دکھائی جاتی اور محرم الحرام کا چاند ہونے کے بعد عاشور تک اپنے گھر کا محرم اور محرم کی مجالس، عزاء خانہ اور نذر و نیاز چھوڑ کر کسی دُوسرے رشتہ دار یا عزیز یا کسی ملنے جلنے والوں کے گھر پہ جاکر ان کا مہمان بن کر رہنے سے بھی احتراز کیا جاتا رہا ہے۔
ہمارے گھر/گھروں کی مجالس کا تبرک یا نذر نیاز و حاضری کی چیز کسی مہمان یا شریکِ محفل کے مانگنے پہ ہم لوگوں میں ہی سے کسی فرد کے نہ دینے پر اور اپنے لیے یا اپنے گھر والوں کے کھانے کے لیے بچا کر رکھنے کو اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا یعنی ہم اپنی ذات یا اپنے گھر والوں کو مولا کے مہمان پہ ہرگز ہرگز ترجیح نہیں دے سکتے ہیں۔
اسی طرح نیاز و نذر اور حاضری کے نذر کے خاص برتنوں کا دھووَن سنک یا کسی سیوریج میں نہیں چھوڑا جاتا تھا بلکہ کسی چھوٹے برتن سے پانی ڈال کر نذر کی چیز سے سَنے ہوئے برتن کو دھوتے ہوئے کسی دوسرے برتن میں پانی جمع کرکے پھر یہ پانی کسی درخت یا پودے یا گھر کے کسی کونے یا کسی ویرانے کے کسی کونے میں ڈال دیا جاتا تھا۔ اسی طرح نذر و نیاز و حاضری و تبرک کی خراب ہوجانے والی چیزوں کو بھی احترام کے ساتھ گھر یا باہر کی کچی زمین کے اندر ہلکا سا گڑھا کرکے یا کسی ویرانے یا کسی کچی زمین یا قطعہ اراضی کے انتہائی کونے میں ڈالا جاتا تھا۔

ایامِ عزاء بالخصوص یکم تا دہم یعنی عاشورہ تک بیماری کا علاج کرنے یا کروانے سے احتراز بلکہ کافی حد تک پرہیز کیا جاتا ہے۔ میں نے اپنے بچپن میں اکثر یہ بھی دیکھا کہ ہماری مرحُومہ والدہ محرم کے 10 دنوں میں بالخصوص 7 محرم سے 10 محرم کے دوران شدید بیمار ہونے کے باوجود نئی دوا یا پہلے سے شروع کی ہوئی دوا کھانے سے بھی پرہیز کرتی تھیں۔ اکثر محرم الحرام کے دنوں میں نئے ڈاکٹر کے غیر ضروری وِزٹ یا پرانے ڈاکٹر کے غیر ضروری وِزٹ اور یا نیا علاج یا نئی دوا شروع کرنے یا غیر ضروری علاج معالجہ سے بہت زیادہ پرہیز کیا جاتا ہے سوائے اللہ نہ کرے کہ کوئی ایمرجنسی صُورتحال ہو، ایسی صورت میں فوری علاج کے لیے جایا جاسکتا ہے۔ کسی ہلکی پھلکی یا رُوٹین کی پرانی بیماری میں غیر ضروری علاج معالجہ کرانے کو اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا۔
پہلے زمانے میں احترامِ محرم الحرام کے پیشِ نظر، جن گھروں میں پُورا سال محرم الحرام سے پہلے شادی ہوچکی ہوتی تھی تو زیادہ تر اُن گھرانوں میں گھر کی نئی نویلی بیاہی ہوئی بیٹیوں یا بہوؤں کو محرم الحرام کا چاند دیکھنے سے لیکر محرم الحرام کے پہلے عشرے کے 7/8 یا 9 محرم تک یا پھر عاشورا یعنی 10 محرم تک یا امامِ عالیمقام حضرت امام حسین علیہ السلام اور شہیدانِ کربلا ع کے سوئم تک کے لیے اُنکے میکے بلایا یا بھیج دیا جاتا تھا۔ گوکہ اب یہ روایت دم توڑتی جارہی ہے۔
اسی طرح ایامِ عزاء میں اگر موسم بہت خوشگوار ہوجاتا اور بارش ہونے لگتی تو بھی برسات کے پکوان یا بہترین موسم کے انجوائے منٹ و تفریح کے کسی بھی طریقے کو اختیار کرنا پسند نہیں کیا جاتا۔ بس میانہ روی اور معتدل مزاجی سے ابرِ باراں کی رحمت سے فیضیاب ہوتے ہوئے ایامِ عزاء اور معمول کی سرگرمیوں میں مصروف رہا جاتا۔
محرم الحرام کا چاند ہونے سے عاشور تک کسی ملنے جلنے والے مریض کی رسمی عیادت اور رسمی مزاج پرسی اور کسی مرنے والے کی رسمی تعزیت کرنے سے بھی کسی حد تک احتراز کیا جاتا تھا۔
خدانخواستہ فیملی ممبر یا گھر کے کسی بھی فرد بزرگ یا بچے یا بڑے یا کسی کی بھی طبیعت خراب ہونے کی صورت میں مریض کا ضروری علاج معالجہ اور تیمارداری تو ضرور کی جاتی رہی ہے۔
اگر محرم کا چاند نکلنے سے عاشور تک کسی بھی اہل تشیع یا عزاداری کرنے والے اور احترامِ محرم الحرام کرنے والے گھرانے میں کسی کا بھی انتقال ہوجاتا تھا تو مرحُوم یا مرحُومہ کا سوئم، دسواں، بیسواں اور چالیسواں سب بالترتیب امامِ عالیمقام مولا حسین علیہ السلام کے سوئم، دسویں، بیسویں اور چالیسویں کے ہونے کے فوراً بعد ہی کیے جاتے تھے اور یہ روایت آج بھی باقی ہے۔

ہوسکتا ہے کہ کسی کو نفسِ مضمون یا ان روایات یا رسم و رواج پہ کوئی اعتراض ہو اور میں نے جو مذکورہ بالا روایات کے بارے میں مختصراً جائزہ پیش کیا ہے اب ان روایات میں سے کچھ روایات پہ بہت سے گھرانوں میں بہت زیادہ عمل نہیں ہورہا ہے یا کچھ روایات رفتہ رفتہ معدوم ہوتی جارہی ہیں مگر بہرحال کچھ روایات پہ زیادہ تر گھرانے عمل پیرا ہیں۔ بہرحال اگر آپ اور ہم ان تمام مذکورہ بالا روایات کے پیچھے پرانے زمانے کے سیدھے سادھے لوگوں کے سادہ سے اذہان کا سرسری سا بھی جائزہ لیں تو ان سب روایات کے اب تک نسل در نسل تسلسل سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ لوگ رسولِ پاک ﷺ اور اہلبیتِ اطہار ع اور نواسہء رسول ع اور ان کی عظیم شہادت اور کربلا کے شہیدوں کو بہت زیادہ احترام کے ساتھ خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ایام عزاء میں سوگوار رہ کر ان روایات پہ عمل کرتے ہوئے یہ بتاتے آرہے ہیں کہ رسولِ پاکﷺ اور اہلبیتِ کرام ع کی خوشی میں ہماری خوشی ہے اور ان کے غم میں ہمارا غم ہے بلکہ ان کے غم سے بڑا کوئی بھی غم نہیں۔ ہم، ہماری ذات، ہمارے ماں-باپ، ہمارے آباء و اجداد اور ہمارے خانوادے ہماری اولادیں اور ہماری آنے والی نسلیں ان پاک ہستیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کا غم مناتے ہوئے ان روایات پہ عمل کرتے ہوئے آنے والی نئی نسل کے لیے ان مخصوص ایامِ عزاء میں ان روایات کے ذریعے احترام کرنے کے رہنما اصول یا باقاعدہ قواعد و ضوابط یا ضابطہء احترام پیش کرتے رہیں گے۔


افکار و نظریات: عزاداری اور معاشرہ