شیطانی مثلث کی ایک جیو پولیٹیکل پلاننگ

وائس آف نیش

امریکی صدر کا اسرائیلی دارالحکومت کے حوالے سے قدم بلاشبہ ایک جیو پولیٹیکل پالیسی اور اسرائیل کو محفوظ بنانے کے منصوبے کاحصہ ہے.اس وقت امریکہ ، اسرائیل اور عرب ممالک پر مشتمل مثلث اس پلاننگ میں شریک ہے.

1۔اس مثلث کی کوشش یہ ہے کہ قدس کو پہلے صرف عربوں کا مسئلہ بنایا جائے اور ایران کو اس سے دور کیا جائے تاکہ اسرائیل کو ایران کی طرف سے درپیش خطرات کو مزید بڑھنے سے روکا جائے۔

۲۔یمن ، بحرین ، شام و عراق کی طرح اس خطے میں اسرائیل دشمن عوامی و عسکری قوتوں پر مکمل حملے کئے جائیں تاکہ اسرائیل ایک محفوظ ریاست بن سکے۔ اور عرب دنیا دفاعی اعتبار سےمکمل طور پر امریکہ و اسرائیل کی مرہون منت ہوجائے۔

3۔اسرائیل کو عرب اور مسلمانوں کی دشمنی کے خانے سے نکال کر اسے عربوں اور مسلمانوں کے ساتھ اسٹریٹجک پارٹنرشپ کے خانے میں داخل کیا جائے.

4- اسرائیل کو قبول اور اسکے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کئے جائیں اور اسے خطے میں قیام امن وامان کا محور قرار دیا جائے.

5- مقاومتی بلاک بالخصوص ایران وحزب اللہ کو اُمت کا دشمن اور امن وامان کے لئے خطرے کا محور قرار دیا جائے.

6- آزادی بخش اور استعماری قوتوں کے خلاف برسر پیکار مقاومت کرنے والی تنظیموں کو دہشتگرد ثابت کیا جائے.

7-جب اسرائیل کی تنہائی ختم ہوجائے گی تو فقط قضیہ فلسطین اور قدس شریف رہ جائے گا اسے بھی سیاسی اعتبار سے سرد خانے میں پھینک دیا جائےگا۔

8- جب امریکی صدر شہر قدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دیدیں گے تو جنھیں قدس وفلسطین سے امیدیں وابستہ تھیں ان پر بھی پانی پھر جائے گا.

9- امریکی اعلان کے بعد ابتداء میں عرب ممالک سعودی وغیرہ بھی تھوڑا شور مچائیں گے. اس کے چند دن، ہفتے یا مہینے بعد نرم بیانات اور مایوسانہ تحلیل و تجزیے آنے شروع ہو جائیں گے۔

زیادہ کاپی پیسٹ کئے جانے والے

حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

یہ جنازے قضا ہو گئے خان

ایک اقلیّت طاقتور لوگوں کی

تعجب ہے ایسی ملت پر

عربوں کی ایران سے نفرت کی وجہ

اسرائیل اور ایک پروپیگنڈہ


افکار و نظریات: news, twitter, islamic, face