اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات کیا ایران میں بھی عرب بہار آنے کوہے؟ *تحریر: محمد حسن جمالی* کیا ایران میں بھی عرب بہار آنے کوہے؟ یہ عنوان ہے آئی بی سی پر چھپنے والے ایک کالم کا، آئی بھی سی نے کچھ عرصے سے ایک مخصوص لابی کو کوریج دینے کی مہم چلارکھی ہے اور یکطرفہ طور پر مواد چھاپ رہی ہے ، جس کا ثبوت یہ کالم بھی ہے۔ ہم قارئین کو یہ یاد دلانا چاہتے ہیں کہ صداقت کسی بھی تحریر کی جان ہوتی ہے - حقائق پر مبنی تحریر یں ہی فکری و نظریاتی اور معلوماتی سرمایہ ہوتی ہیں - صحافت کا شعبہ بہت مقدس ہے- قلم کی حرمت کا خیال رکھتے ہوئے امانت اور صداقت کی پاسداری بہر حال ضروری ہے- چند روز قبل آئی بی سی اردو پر صداقت سے تہی غیر حقیقت تجزئیے پر مبنی عمر فاروق نامی ایک صاحب کی ایک تحریر نگاہ سے گزری، انہوں نے اپنی تحریر کا عنوان رکھا ہے( کیا ایران میں عرب بہار آنے کو ہے؟ ) ۔ یہ عنوان ہی اس بات کا پتہ دینے کے لئے کافی ہے کہ ایران کے بارے میں قلم کار کی معلومات صفر ہیں – ایران کا شمار عربی ممالک میں نہیں ہوتا کہ وہاں عرب بہار آئے گی اور نہ ہی ایران میں عربوں کی طرز پر اوباش بادشہوں کی آمریت کا تصور پایا جاتا ہے۔ پوری دنیا جانتی ہے کہ ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی سے پہلے ایران پر نہ فقط خزاں چھائی ہوئی تھی بلکہ پورا ایران رضاشاہ پہلوی کے ہاتھوں ظلمت کدہ بنا ہوا تھا- اہلِ ایران کے بقول ایرانی معاشرے میں انصاف ناپید تھا، ظلم کا بول بالا تھا، لوگ اغیار کے غلام مطلق تھے، عوام کو نہ اظہار رائے کی آذادی تھی اور نہ ہی امور مملکت میں مداخلت کرنے کا اختیار – ہاں فحاشی اور عریانی کے اظہار پر کوئی پابندی نہیں تھی- بے راہ روی ،فسق وفجور اورعریانی کا دور دورہ تھا- بلکہ مغربی ثقافت وتہذیب کی تقلید کرتے ہوئے جو جتنا فحاشی پھیلانے میں کردار ادا کرتا شاہ کے ہاں وہ اتنا ہی محبوب ومقرب قرار پاتا اور رضا شاہ اسے انعام واکرام سے نوازتا – ایرانی سماج میں عورت اپنا اعلی وارفع مقام کھوچکی تھی، وہ یا خرید وفروخت کی چیزوں کے لئے اشتہار بنتی تھی اور یا پھر للچائی ہوئی نظروں کے لئے تسکین کا ذریعہ بن چکی تھی- انقلاب سے قبل کا ایران بھی آج کے بعض مسلم ممالک کی طرح امریکہ کا مرید اور نوکر تھا- ایران کی پوری ثروت سے امریکہ استفادہ کرتا تھا- ایران کا قومی خزانہ خائن باد شاہ کے ہاتھوں میں تھا اور وہ اسے دونوں ہاتھوں سے امریکہ و مغرب کی خدمت کئے لُٹا رہا تھا، شاہی جشن منائے جارہے تھے اور عیش و عشرت میں قومی سرمائے کو پانی کی طرح بہایا جاتا تھا۔ اڑھائی ہزار سالہ جشن تاج پوشی میں، جس میں دنیا کے تمام ممالک کے حکمرانوں اور سرکردہ شخصیتوں کو مدعو کیا گیا تھا، جس قدر شراب استعمال کی گئی اس کی مثال کہیں نہیں ملتی۔ رقص و سرود اور عیش و عشرت کی محفلیں گرم ہوئیں اور بیش قیمت تحائف اور نذرانوں سے مہمانوں کو نوازا گیا۔ قومی سرمائے کو عوامی فلاح و بہبود پر خرچ کرنے کے بجائے عیش و عشرت اور لہو و لعب کی باتوں میں بربادکیا رہا تھا۔ ملک کے عوام بھوکے مررہے تھے اور غیر ملکی بینکوں کے شاہی کھاتوں میں روز بروز اضافہ ہورہا تھا۔ جب شاہ ایران سے فرار ہوا اس وقت اس کے نام سے بائیس ارب ڈالر امریکہ اور سوئزرلینڈ کے بینکوں میں جمع تھے – لیکن جب ایران میں اسلامی انقلاب آیا تو اپنے ہمراہ عوام کے لئے بہار بھی لایا۔ظلم کا خاتمہ ہوا ،عدل کا نظام قائم ہوا، طبقاتی تفریق مٹ گئی، شاہ اور گدا کا فرق ختم ہوگیا ، ایرانی قوم کو بدمعاش اوع عیاش بادشاہوں کی جگہ امام خمینی جیسے متقی اور عارف کی سرپرستی اور قیادت نسیب ہوئی، جس کا فائدہ یہ ہوا کہ ایرانی قوم کو اسلامی حکومت کے زیر سایہ عزت وسربلندی کی زندگی نصیب ہوئی- پس آئی بی سی اور عمر فاروق صاحب اگر تعصب کی عینک اتار کر دیکھیں تو انہیں بھی پتہ چل جائے گا کہ عقلائے عالم امریکہ اور یورپ کی غلامی کو بہار نہیں کہتے بلکہ آزادی اور استقلال کو بہار کہا جاتا ہے اور اسلامی انقلاب کے بعد آج تک ایرانی قوم کی زندگی بہار میں ہی گزررہی ہے – پهر آگے چل کر میاں عمر فاروق لکھتے ہیں کہ ( 2011 کے اوائل میں جب مشرق وسطی کے ملکوں تیونس، مصر، یمن اور لیبیا میں حکمرانوں کے خلاف احتجاجی تحریکیں شروع ہوئیں ......ایران نے اس عرب بہارکابھرپورفائدہ اٹھایا عراق میں امریکہ کی مددسے اپنی حکومت قائم کی،شام میں جب عرب بہارکے جھونکے آئے توایران بشارالاسدکے ساتھ کھڑاہوگیا۔ کیا کہنے لکھنے والے کے اور کیا کہنے چھاپنے والوں کے- بھلا جھوٹ اور تعصب کی بھی کوئی حد ہوتی ہے، ایک طرف سے رائٹر نے لکھا ہے کہ عرب بہار کا بھرپور فائدہ اٹھاکر ایران نے عراق میں امریکہ کی مدد سے اپنی حکومت قائم کی اور دوسری طرف سے لکھا ہے" شام میں جب عرب بہار کے جھونکے آئے تو ایران بشار الاسد کے ساتھ کھڑا ہوگیا " ایسی متضاد باتوں اور ایسے احمقانہ اور بچگانہ جھوٹ پر آئی بی سی اور عمر فاروق دونوں داد کے مستحق ہیں اور یقینا اردو صحافت کی عظمت کو سلام کرنے کا جی چاہتا ہے کہ جہاں صحافت کی آڑ میں اس طرح کی بے سروپا باتیں بھی چھپ جاتی ہیں۔ ان کی خدمت میں اتنا عرض کرنا کافی ہے کہ جناب والا پروپیگنڈہ کرنے کے لئے بھی عقل درکار ہوتی ہے اور تعصب عقل کو کھا جاتا ہے, پہلے اپنی عقل سے تعصب کا غلاف اتاریں اور پھر بات کریں۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ صدام حکومت کا تختہ کویت کی وجہ سے الٹا گیا تھا نہ کہ ایران کی وجہ سے اور شام میں ایران نے بشار الاسد کے ساتھ کھڑے ہو کر امریکہ و سعودی عرب کو ڈنکے کی چوٹ پر شکست دی ہے ۔ آپ حقائق کو بیان کریں نہ کہ حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کریں۔ صدام حکومت کے خاتمے میں عرب ریاستوں نے امریکہ کی مدد کی ہے چونکہ صدام نے کویت پر حملہ کیا تھا جبکہ شام کی مدد ایران نے کی ہے چونکہ شام اسرائیل کے ساتھ برسرِ پیکار تھا۔ اس کے علاوہ قلم کار سرفراز حسینی کی تحریر کے مطابق عراق شام اور لبنان ایسے محاذ ہیں جو براہ راست ریاست جمہوری اسلامی ایران کی خارجہ و دفاعی پالیسی کا ہر اول دستہ اور ریڈ لائن ہیں، ایران اگر عراق شام اور لبنان کے محاذ پر امریکہ، اسرائیل اور حواریوں سے شکست کھا جاتا ہے تو پھر اس کے اپنے نظریاتی اور جغرافیائی وجود کو براہ راست خطرات لاحق ہو جاتے ہیں لہذا چاہتے نا چاہتے بھی ایران کو اس جنگ میں کودنا پڑا۔ پھر موصوف نے اپنی تحریر کو آگے بڑھاتے ہوئے ایک جگہ لکھا ہے کہ عرب دنیا کا موقف ہے کہ ایران کا جارح ایجنڈہ ان کے لئے خطرنا ک ہے۔ ایران براہ راست شام کے اندر لڑائی میں مصروف ہے۔ عراق میں اس کے جارحانہ عزائم کی عملی شکل نمایاں ہے۔ اسی طرح لبنان میں اس کی ” پراکسی ” جنگ جاری ہے۔ غزہ ، یمن اور بحرین میں اس کی جارحیت کے مظاہر ہیں۔ بھلا اس سے زیادہ کیا تعصب برتا جا سکتا ہے، قارئین خود بتائیں کہ عرب ریاستوں کے لئے ایران کا ایجنڈہ جارحانہ ہے یا اسرائیل کا۔ یہ تو ایران ہے جس کی بدولت اسرائیل ڈر رہا ہے اور عرب ریاستوں کو مسلمان سمجھتے ہوئے آگے بڑھنے سے ہچکچا رہا ہے - اگر ایران نہ ہوتا تو اسرائیل عربوں کو ریوڑھ کی طرح ہانک رہا ہوتا۔ ایران نے ساری دنیا خصوصاً عرب عوام کو بیدار کیا ہوا ہے اور انہیں اسرائیل کے خلاف ہمت اور حوصلہ دلا رہا ہے، اسرائیل کو متعدد مرتبہ شکست دینے والی حزب اللہ کی پشت پر کوئی عرب ملک نہیں بلکہ ایران ہی ہے۔ ایران ایک اسلامی ملک ہونے کے ناطے ساری دنیا کے مظلوم مسلمانوں کا دفاع کرنے کو اپنے لئے ضروری سمجھتا ہے اگر آج دیکھا جائے تو غزہ یمن اور بحرین کے مسلمانوں سے ذیادہ مظلوم کون ہے اگر درد دل سے ان کی مادی اور معنوی کوئی ملک مدد کررہا ہے تو وہ ایران ہے- کہنے کو اسلامی ملک تو سعودی عرب بھی ہے مگر افسوس آج یمن کے لاکھوں مسلمان سعودی عرب کے بموں کی زد میں خاکستر ہوچکے ہیں اور یہ سلسلہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا تو جناب عمر فاروق ذرا خدا کو حاضر رکھ کر بتائیے کہ غزہ یمن اور بحرین میں امریکہ اسرائیل اور ان کا اتحادی وصمیمی دوست سعودی عرب جارحیت کررہا ہے یا ایران ؟ آخر میں مضمون نگار نے گزشتہ دنوں مہنگائی کے خلاف ایران میں ہونے والے عوامی احتجاج کو غلط رنگ دے کر پیش کرنے کی کوشش کی ہے اور قارئین کو یہ تاثر دینے کی سعی لا حاصل کی ہے کہ ایران میں انقلاب" عوامی امنگوں کے خلاف ہے- ایرانی عوام کو ایران کا موجودہ نظام پسند نہیں- جب کہ ایسا بالکل نہیں- ایران کی بعض جگہوں میں پچھلے ہفتے بڑھتی ہوئی مہنگائی اور کچھ مالی اداروں کی بے ضابطگیوں کے خلاف کچھ لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا, جو کسی بھی جمہوری ملک میں عوام کا حق بنتا ہے - لیکن ایران کے داخلی وبیرونی دشمنوں نے اس موقع کو غنیمت جانا اور ان احتجاجات کو مشتعل ہجوم اور بے حجاب خواتین کا احتجاج بنا کر پیش کرنے کی مذموم کوشش کی – آئی بی سی سمیت عالمی میڈیا حرکت میں آیا اور عمر فاروق جیسے کالم نگاروں نے خوب اپنی بھڑاس نکالی لیکن وہ شاید بھول رہے ہیں کہ ایران کا اسلامی انقلاب ایک شعوری، عقلی، علمی، ثقافتی اور دینی انقلاب ہے ، یہ ایسا انقلاب نہیں کہ جو انڈوں کی قیمتوں کے بڑھ جانے یا کسی بے حجاب خاتون کے سڑک پر نعرے لگانے سے ختم ہو جائے گا۔ وہ شمع کیا بجھے جسے روشن خدا کرے
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
statelife اسٹیٹ لائف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
انشورنس پالیسی
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/7/23 - 2026/8/22
2026/6/22 - 2026/7/22
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
آرشيو
افکار و نظریات: کیا ایران میں بھی عرب بہار آنے کوہے
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں