کڑوا اور کسیلا

جو قوم,  قوم کی بیٹیوں کو ننگا نچاتی ہو اور رقص کی محفلیں گھروں میں سجاتی ہو

قرآن کو غلافوں میں چھپاتی ہو

سر عام فحاشی کے اڈے چلتے ہوں

پولیس مجرموں کی رکھوالی ہو

اور ہاں جو قوم

زات پات, رنگ نسل اور مسالک پر سرکٹاتی ہو , درختوں اور دیواروں اور سایوں, جنوں بھوتوں سے ڈراتی ہو , وڈیروں اور جاگیرداروں سے گھبراتی ہو

آپ ہی بتائیں اسے یہ کیا حق حاصل ہے کہ وہ زینب کے لیے یازینت کیلیے انصاف کا مطالبہ کرے

بڑا عجیب لگا مجھے تب

جب میں نے یہ کہا کہ وہ ظالم تھے. میں نے یہ کیوں نہ دیکھا

کہ پاکستانی معاشرے میں میرے گھر کے ارد گرد شادیوں کے فنکشنز میں شرابیں پی کر

بندوقیں چلا کر قوم کی بیٹیوں کو ہر روز چادر یں اتار کر نچایا جاتا ہے اور تالیاں بجائ جاتی ہیں.جیبیں لٹائ جاتی ہیں ,

ہیلو! 

ہاں قارئین کرام!

آپ سے کہہ رہا ہوں آپ اور ہم اپنی آنے والی نسلوں کو کیا سکھا رہے اور جو سکھارہے ہیں کیا توقعات بھی وہی لگاۓ ہوۓ ہیں یا کچھ اور.

یہ بیج خدا کی قسم

ہم نے بویا ہے

اور خدا کی قسم

اسے ہم نے ہی تو کاٹنا ہے. زینب, زینب کا شور اب فیشن سا لگتا

ہے

بس کرو یار, بند کرو اس فیشن

کو.

ہاں اٹھانا ہے تو عملی قدم اٹھائیں. اپنے ملک میں اسلامی معاشرہ قائم کریں اور پھر شریعت کا نفاز کریں.

اگر بہن بیٹی کی بچی ہوئ عزت کی پامالی کا ڈر ہے تو قرآن کو غلافوں سے نکال کے اپنی زندگی میں اپنانا ہوگا,  اور ہمارے ارد گرد شادیوں پہ چھن چھن کرتی بیٹیوں کو چادر مہیا کرنا ہوگی. شرابیوں اور فحاشیوں کے اڈے مٹانا ہوں. انصاف ہر چوکھٹ پہ مہیا کیا جانا ہوگا.

میرا ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے جس کا مطلب ہے کہ

اللہ کے سوا کوئ عبادت کے لائق نہیں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے معصوم رسول ہیں.

مجھے اور میرے ملک کو میرے اپنوں نے لوٹا ہے میں کسی سے کیا کہوں. ملالہ بھی مصروف ہے

اور مختاراں بھی

تو میں یہ کڑوا سچ کس سےکہوں,  زرداری, نواز, عمران, قادری صاحب, فضل الرحمن, تو

مشغول سیاست ہیں. کس سے اپنے دل کا حال کہوں ؟

اس لیۓ میں نے یہی راستہ نکالا

کہ آپ سے یہ کڑوا اور کسیلا سچ بانٹ لوں. میرے اندر یہ میل کچیل تھا جو لکھ دیا,  ہوسکے تو دھو دیجے گا. میں بھی انسان ہوں. میرے بھی آنسو ہیں.  میں کس سے انصاف مانگوں

آپ ہی اسے برداشت کیجے.

مجھے تو شرم آتی ہے.

    تحریر محمد گلزار حسین

فکشن رائٹر, بہاولپور

 

 


افکار و نظریات: کڑوا اور کسیلا