محبوب اسلم

ذرا  ذہن پر زور ڈالیں اور بتائیں کیا ہمارے معاشرے میں یہ پھول جیسی زینب بیٹی پہلی بار درندگی کا شکار ھوئی؟ کیا ھم اسطرح کی خبریں گاھے بگاھے پڑھتے بڑے نہیں ھو گئے۔ تو آخر یہ ناسور ھمارے معاشرے میں پروان کیوں چڑھ رھا ھے؟ بلا شبہ یہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناکامی ھے۔ لیکن اس سے بھے بڑھکر یہ مسئلہ ھے ھماری اخلاقی اقدار کا زوال پذیر ھونا ھے۔

 اپنی اردگرد نظر دوڑائیں۔۔۔ٹی وی ڈراموں سے پرنٹ میڈیا اور پھر انٹر نیٹ اور سوشل میڈیا تک ھر طرف عریانیت، جنسی کلچر، اور ذو معنی مواد کا ڈھیر موجود ھے۔ اور معاشرہ اس بدبودار ڈھیر کو ترقی اور روشن خیالی کے زمرے میں قبول کر چکا ھے۔ ھم ایک طرف معاشرے میں ترقی کے حصول کیلئے شخصی آزادی کی آڑ میں یہ اخلاق باختہ مواد قبول کر چکے ھیں لیکن دوسری طرف الحمداللہ ھم نہ تو کھلم کھلا مغرب کا وہ آزاد جنسی معاشرہ بن سکے ھیں جہاں بیٹیاں اور بیٹے سرعام اپنے بواۓ فرینڈز اور گرل فرینڈز کا تعارف کرواتے ھیں۔ اور نہ ھی ھمارا لا اینڈ آڈر کا سسٹم ایسے کسی واقعہ میں فوری ردعمل کے قابل ھے۔ یوں ھم بحثیت قوم ایک چوں چوں کا مربہ ھیں اور کوئی اخلاقی، معاشرتی اور قانونی پالیسی واضح نہیں۔ یہی وجہ ھے کہ ھر کچھ ماہ بعد ھمارے معاشرے میں یہ دلسوز واقعات دھراۓ جاتے ھیں اورھم رو پیٹ کر چپ ھو جاتے ھیں۔

 آخر ھمارا قومی کلچر ھے کیا؟ ھم آدھا تیتر اور آدھا بٹیر بن چکے ھیں-یوں بد نصیب زینب کا واقعہ ھمارے ضمیر کو جنھجھوڑتا ضرور ھے لیکن اسکاحل سیاسی پوائنٹ اسکورنگ میں نہیں ھے۔ اس مسئلے کا حل ھم سب کی ذمہ داری ھے۔ یہ والدین، اساتذہ، حکومت، اور معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری ھے۔ والدین کو بچوں کی تربیت اور ان حساس موضوعات پر تعلیم اور بات ضرور کرنا چاھئے۔ بچوں کو اس بات کا ادراک ھونا چاھئے کہ کوئی اجنبی اور جان پہچان کا فرد انھیں کیسے چھو سکتاھے اور کیسے نہیں۔ والدین کو اپنے بچوں کیساتھ کوالٹی ٹائم گذارنا چاھئے۔ والدین اپنی ذمہ داری سے مستثنی قرار نہیں دئیے جاسکتے۔

 اساتذہ کی ذمہ داری ھے کہ وہ طلبا کو اپنے بچوں کیطرح سمجھیں اور ان پر نظر رکھیں اور انکی اخلاقی تربیت کو بھی ملحوظ خیال رکھیں۔ حکومت کا فرض ھے کہ اس سلسلے میں انتہائی سخت قانون سازی کریں اور اس پرعملداری یقینی بنائے۔ اسطرح کے درندہ صفت مجرمان کو عبرت ناک سزا دے اور نمونہ عبرت بنا دیا جاۓ۔ انٹر نیٹ سائٹز کو ریگولیٹ کرے اور عریانیت کے کلچر کی روک تھام کرے۔

 اور بحثیت معاشرہ ھمیں اجتماعی طور پر عریانیت کے کلچر کو فروغ نہیں دینا چاھئے۔ لچر اور اخلاق باختہ تقریبات، اسٹیج ڈراموں اور دیگر عوامل کا کھل کر بائیکاٹ کرنا چاھئے۔ ھمیں اپنی شناخت اسلامی تعلیمات اور تاریخ پر استوار کرنا ھے۔ یاد رکھیں دنیاوی ترقی کا مطلب کپڑوں کے اختصار اور اخلاقی مادر پدر آزادی میں ھرگز پنہاں نہیں ھے۔

 اور اس دلسوز واقعہ پر اب سیاسی پارٹیوں کی لیڈروں کی موقعہ پرست سیاست کو بھی ناکام بنائیں۔ یہ سب اپنی اپنی ذمہ داریاں جس بھونڈے طریقے سے نبھاتے رھے ھیں وہ ان سب کی ماضی کی کارکردگیوں سے عیاں ھے۔ ھاں یہ ضرور ھے کہ حکومت میں بیٹھی جماعت پر اضافی ذمہداری عائد ھوتی ھے کہ مجرموں کی سرکوبی بہرحال انکے دائرہ اختیار میں شامل ھے۔

 اور آخر میں آئیے اپنی بیٹی زینب امین کیلئے دست دعا بلند کریں اور اللہ اسکے والدین کو صبر جمیل عطا فرماۓ۔ آمین۔

والسلام

 


افکار و نظریات: ہم سب قاتل ہیں