اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات اپنے بچوں پر رحم کیجئے- - گل نوخیز اختر ہمارے دور میں پرائمری سکولوں میں داخلے کے وقت اکثر بچوں کی عمرکچھ زیادہ بتائی جاتی تھی کیونکہ چھ سال سے کم عمر کے بچے کو ’’کچی‘‘ میں داخلہ نہیں ملتا تھا۔آج کل میری آنکھیں پھیل جاتی ہیں جب میں اڑھائی سال کے بچے کو سکول جاتے دیکھتاہوں۔ والدین پریشان ہوئے پھرتے ہیں کہ کہیں بچے کی تعلیم کا ’’حرج‘‘ نہ ہوجائے۔ یہ چھوٹے چھوٹے بچے جو ابھی ٹھیک سے چلنا سیکھ رہے ہوتے ہیں کہ انہیں مونٹیسوری اور پری کلاسز اٹینڈ کرنا پڑ جاتی ہیں۔پچھلے دنوں مجھے ایک ایسے ہی سکول میں جانے کا اتفاق ہوا اور وہاں بچوں کی حالت دیکھ کرترس آنے لگا۔ ننھے منے سے بچے کلاس روم میں اونگھ رہے تھے‘ کچھ بیزار بیٹھے تھے اور کچھ موٹے موٹے آنسو بہا رہے تھے۔ یہ بچے جنہیں گھر کے ماحول سے آشنا ہونا چاہیے تھا ابھی سے سکول جانا شروع ہوگئے ہیں۔پتا نہیں ایسی کیا قیامت آگئی ہے کہ ہمیں جلد از جلد بچے کو سکول بھیجنے کی پڑی ہوتی ہے۔یہ ٹھیک ہے کہ تعلیم اور شعور اہم ہے لیکن کیا یہ سب چیزیں پانچ چھ سال کی عمر تک بچہ گھر میں نہیں سیکھ سکتا۔ اصل میں اکثرماؤں کو بھی آسانی ہوگئی ہے کہ بچے کو سنبھالنے کی بجائے اسے تعلیم و تربیت کے نام پر سکول بھیج دیتی ہیں اور خود اطمینان سے سٹار پلس لگا کربیٹھ جاتی ہیں۔ نوکری پیشہ خواتین کی مجبوری تو سمجھ میں آتی ہے لیکن اُن ماؤں کو کیا پرابلم ہے جو خود بچے کو گھر میں بہت کچھ سکھا سکتی ہیں۔ پچھلے دنوں مجھے ایک ایسے سکول کا اشتہار پڑھنے کا اتفاق ہوا جس میں سکول انتظامیہ نے ڈیڑھ سال کے بچوں کے لیے بھی کوئی انگریزی نام والی نئی کلاس شروع کی ہے۔ ایسے سکولوں کا بس نہیں چلتا کہ وہ بچے کو پیدا ہوتے ہی اپنی تحویل میں لے لیں۔ہر چیز کی ایک عمر ہوتی ہے‘ وہ بچے جنہیں بچپن میں ہی مدبر بنا دیا جاتا ہے وہ ساری زندگی اپنا بچپن تلاش کرتے رہتے ہیں۔ زمانے کی ترقی نے بچپن کی عمر بھی گھٹا دی ہے‘ پہلے بچپن آٹھ سے دس سال تک کا ہوتا تھا۔آج کل ایک ڈیڑھ سال میں ہی ختم ہوجاتاہے۔وہ بچے جن کی صحت کے لیے جی بھر کے سونا ضروری ہوتا ہے انہیں ماں کچی نیند سے اٹھا کر سکول کے لیے تیار کرنا شروع کر دیتی ہے۔ بچہ اپنے ابتدائی پانچ چھ سالوں میں جو کچھ سیکھتا ہے وہ گھر سے ہی سیکھتاہے اور اس میں ایک اعتماد پیدا ہوتاہے۔ دنیا میں کوئی سکول اڑھائی سال کے بچوں کو باتھ روم جانے کے عملی طریقے نہیں سکھاتا ‘ سونے کے آداب نہیں بتاتا‘ یہ سب چیزیں مائیں بتاتی ہیں اور انہیں سمجھنے میں بچے کو کچھ وقت لگتاہے اسی لیے پہلے وقتوں میں لازم تھا کہ بچہ شعور کی ابتدائی منازل طے کرنے کے بعد سکول میں داخل ہو تاکہ کم ازکم و ہ اپنا آپ سنبھال سکے۔ آج کل ایسا نہیں ہوتا۔بچے ڈائپرز پہن کر سکول آتے ہیں اور والدین بھاری فیسیں دے کر خوش ہوتے ہیں کہ ان کا بچہ چھوٹی سی عمر میں ہی آئن سٹائن بن رہا ہے۔ بچے جوں جوں تعلیم سے آشنا ہورہے ہیں‘ علم سے دور ہوتے جارہے ہیں۔ آپ کسی چھٹی یا ساتویں کلاس کے بچے کا نصاب دیکھئے‘ آپ کے ہوش اڑ جائیں گے۔ بچوں کی میتھ کی کتابیں دیکھ کر سر چکرا جاتاہے‘ لیکن خوشی ہوتی ہے کہ جو چیز ہم نے سولہ سالوں میں سیکھی ‘ وہ ہمارا بچہ سات سالوں میں سیکھ رہا ہے۔یہ وہ سوچ ہے جو ہمیں تصویر کا دوسرا رخ دیکھنے کا موقع نہیں دے رہی۔بچے بڑوں جیسی باتیں کرنے لگے ہیں‘ بڑوں والے ڈرامے دیکھتے ہیں‘ بڑوں والی فلمیں دیکھتے ہیں اور اکثر گھریلو معاملات میں بھی بزورِ دلائل اپنا حصہ ملانے کی کوشش کرتے ہیں۔ قصور ہمارا اپنا ہے‘ ہم نے بچے کو بچہ رہنے ہی نہیں دیا۔ہم خود تو چالیس سال کی عمر میں بھی بچپنا نہیں چھوڑتے لیکن اپنے بچوں کو اڑھائی سال میں ہی بزرگ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ توتلی زبان میں باتیں کرنے والا بچہ جب اٹھا کر سکول میں ڈا ل دیا جائے تو کیا یہ اس کے ساتھ ظلم نہیں؟؟؟ یہ وباء پورے ملک میں پھیلتی جارہی ہے اور دلیل یہ دی جاتی ہے کہ بچہ اتنی چھوٹی عمر میں کتابیں نہیں پڑھ رہابس سکول جاکر کھیل ہی کھیل میں سیکھنے کی کوشش کرتاہے۔ عالی جاہ! یہ چھوٹا بچہ روزانہ ٹائم پر اٹھے گا‘ ٹائم پر تیار ہوگا اور ٹائم پر سکول کے لیے روانہ ہوگا تواس کی زندگی میں بے ترتیبی کا حسن کہاں جائے گا؟؟ ؟ کچھ سال بعد اس نے سکول تو جانا ہی جانا ہے ‘ پھر اس کی چھوٹی چھوٹی شرارتوں کو ابھی سے تہذیب کے دائرے میں قید کرنے کی کیا ضرورت ہے؟کیاپانچ چھ سال کی عمر میں سکول جانے والے بچے بدتہذیب ہوجاتے ہیں؟ کیا تہذیب کا انحصار بچے کو چھوٹی عمر میں سکول بھیجنے میں ہی ہے؟کہیں یہ اپنے فرائض سے جان چھڑانے کی کوئی کوشش تو نہیں؟ چھوٹابچہ جو اپنے اردگرد کا ماحول بھی سمجھنے سے قاصر ہوتاہے اسے اتنی کم عمری میں ’’ڈیوٹی‘‘پر لگا دینا کہاں کا انصاف ہے؟؟؟ چھ سال کا بچہ جب سکول میں داخل ہوتاہے تو وہ بھی پہلے دن روتاہے‘ کچھ گھبراتاہے‘ لیکن اسے سمجھایا جاسکتاہے‘ بات کی جاسکتی ہے لیکن اڑھائی سال کا بچہ جو صبح دیر تک سونا چاہتا ہے‘ ماں سے لپٹا رہنا چاہتاہے‘ گھر میں اودھم مچانا چاہتاہے‘ بیڈ پر چھلانگیں لگانا چاہتاہے‘ ماں کی گود میں بیٹھنا چاہتا ہے اسے جب سکول جانے کا عادی بنا دیا جاتا ہے تو اس کی ساری شوخیاں‘ ساری کلکاریاں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دفن ہوکر رہ جاتی ہیں۔ یہ بچہ تہذیب تو سیکھ جاتاہے لیکن معصومیت سے عاری ہوجاتاہے۔جس عمر میں اسے کپڑوں کا تکلف بھی نہیں کرنا چاہیے اُس عمر میں وہ یونیفارم سے آشنا ہوجاتا ہے‘ ننگے پاؤں گھومنے کی خوشی چھین کر اسے کالے بوٹوں میں قید کردیا جاتاہے اور اوائل عمری سے ہی اس کے ذہن اس جملے کے عادی ہوجاتے ہیں’’چلو بیٹا! اب سو جاؤ صبح سکول کے لیے بھی اٹھنا ہے‘‘۔ ہ م سب اپنے بچوں کا بہتر مستقبل چاہتے ہیں‘ والدین کے ذہن میں بھی یہی ہوتاہے کہ شاید کم عمری میں بچے کو سکول بھیجنے سے ان کا بچہ زیادہ جلدی پڑھا لکھا ہوجائے گا حالانکہ حقیقت تو یہ ہے کہ ہم بچے کو علم سے آشنا کرنے کی بجائے نئی زبان سکھانے میں زیادہ دلچسپی لے رہے ہوتے ہیں۔ آٹھ سال کا بچہ اگر انگریزی میں بات کرے تو اِسے بخوشی علم کی معراج سمجھ لیا جاتا ہے‘ ان کی نسبت اردو بولنے والے بچے ناخواندہ شمار ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہمارے زمانے میں انگریزی کی ٹیویشن رکھنا پڑتی تھی‘ آج کل اردو کی رکھنا پڑتی ہے۔بچہ رومن اردو تو فٹافٹ لکھ لیتا ہے لیکن ’’اصل اردو‘‘ لکھنے کو کہا جائے تو اسے یہ بھی سمجھ نہیں آتا کہ ’’ہجے‘‘ کسے کہتے ہیں۔ تعلیم بہت ضروری ہے لیکن اس سے زیادہ تربیت ضروری ہے۔ اور تربیت سے یہ مراد ہرگز نہیں کہ دودھ پیتے بچوں کو مشینی زندگی میں دھکیل دیا جائے۔ جن بچوں کو گھر کی ضرورت ہے انہیں اپنی خوشیاں گھر میں منانے کا بھرپور موقع دیں‘ انہی کے دم سے گھر میں رونق ہوتی ہے ‘ انہی کی شرارتیں گھر کی جامد فضا کا سحر توڑتی ہیں۔۔۔انہیں کچھ دن تو یہ عیش کرلینے دیجئے‘ ایسا نہ ہو کہ جب یہ بچے بڑے ہوں اور کوئی ان سے پوچھے کہ بیٹا آپ بچپن میں کون سی شرارتیں کیا کرتے تھے اور یہ ہکا بکا رہ جائیں کہ شرارتیں کیا ہوتی ہیں؟؟؟۔
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
statelife اسٹیٹ لائف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
انشورنس پالیسی
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/7/23 - 2026/8/22
2026/6/22 - 2026/7/22
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
آرشيو
افکار و نظریات: اپنے بچوں پر رحم کیجئے
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں