پی ٹی آئی بمقابلہ ایم ایم اے

ادارتی نوٹ

خیبر پختونخوا میں مذہبی جماعتیں بہت موثر ہیں ، ان کی طاقت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ  2002 میں ایم ایم اے کے نام سے ملک کی 6 بڑی دینی جماعتوں نے  کے پی کے میں  حکومت  بنائی تھی ،اس وقت مذہبی تنظیموں کے  اتحاد میں مولانا فضل الرحمن کی جمعیت علمائے اسلام (ف)جماعت اسلامی ،جمعیت علمائے اسلام (س)مرکزی جمعیت اہل حدیث ،جمعیت علمائے پاکستان(نورانی) اور علامہ ساجد نقوی کی تحریک اسلامی شامل تھی ۔

اس وقت بھی ایم ایم اے فعال ہے لیکن اس وقت پی ٹی آئی نے ایم ایم اے کا زور توڑنے کے لئے مولونا سمیع الحق کو گلے لگا لیا ہے۔نجی ٹی وی چینل ’’ جیو نیوز‘‘کے مطابق مولانا سمیع الحق سینیٹ انتخابات میں خیبر پختونخوا سے حصہ لیں گے اور ہ پی ٹی آئی ان کو مکمل سپورٹ کرے گی۔ گزشتہ سال نومبر میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور جمعیت علمائے اسلام (س) سربراہ عمران خان نے ملاقات کی تھی جس میں انتخابی اتحاد کا عمل طے پایا تھا۔

اب  مولانا سمیع الحق نے پاکستان تحریک انصاف کی حمایت کا فیصلہ  کر کے  دینی جماعتوں کو مشکل میں ڈال دیا ہے ، تاہم دوسری طرف مولانا سمیع الحق طالبان کے سرپرست مانے جاتے ہیں اور یہ بھی امکان ہے کہ ان کے پی ٹی آئی سے روابط پی ٹی آئی کی مقبولیت میں کمی کا باعث بنیں ۔

مولانا سمیع الحق اور عمران خان کے دیرینہ تعلقات اگرچہ کسی سے ڈھکے چھپے نہیں لیکن عوام میں طالبان اور دیگر دہشت گردوں کی ناپسندیدگی کی وجہ سے مولانا سمیع الحق کے پی ٹی آئی سے نزدیک ہونے کے عمل سے پی ٹی آئی کی عوامی ساکھ کو دھچکا لگ سکتا ہے۔  


افکار و نظریات: پی ٹی آئی بمقابلہ ایم ایم اے