غلام کون ہے ؟ 🙏

کشمیر کے متعلق بات کرتے ہوۓ

مجھے لکھنے میں بڑی ہی مشکل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے,

اتنی مشکل جیسے سورج کے سامنے چراغ بلکہ چراغ نہیں موم بتی رکھی جارہی ہو, یہ ایک ایسا موضوع ہے جس میں نہیں لکھ پارہا, حالانکہ لکھا جاسکتا ہے پوری پوری کتابیں لکھی جاسکتی ہیں, اچھا ہمت کرکے لکھ دیتے ہیں آپ بھی ہمت کرکے پڑھ لیجے اور ہمت سے ہی برداشت کیجے,

میرے دوستو ہماری زبانوں پہ نعرہ ہے کشمیر بنے گا پاکستان

یا کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے, کشمیر میں ہونے والے شرمناک اور افسوسناک واقعات پہ ہر پاکستانی کی آنکھ اشک بار نظر آتی ہے, ایسا کیوں ؟

کیونکہ یہ احساس انسانیت ہے,  احساس محبت ہے جس کی وجہ سے کشمیر ہی نہیں پورے جہاں میں جہاں بھی کسی انسان کو تکلیف ہوگی, ایک انسان کو تکلیف محسوس ہوگی اور وہ اس تکلیف کو کم کرنے کی کوشش بھی کرے گا . یہ تو بات ہے انسانیت کی.

لیکن ہم بطور مسلمان تو انسانیت سے محبت رکھنے والے اور خاص کر مسلم معاشرہ کے لیے تڑپنے والے ہوتے ہیں . وہ محبت انسانیت یا مسلم جزبہ کہاں ہے ؟  ؟   ؟

ایک بات کرنا چاہتا ہوں کہ کیا تم آزاد ہو ؟

اے کشمیر کو آزاد کرانے والو  !

کیا تم آزاد ہو ؟ ؟

آزاد تو وہ ہوتا ہے جو اپنے فیصلے اپنی مرضی سے کرے.

آزاد تو وہ ہوتا ہے جو جہاں چاہے اپنی مرضی سے زندہ رہ سکے,

آزاد تو وہ ہوتا ہے جو محبت کر سکے,  جو نفرت کر سکے.

آزاد تو وہ ہوتا ہے جو اپنی مرضی سے اپنی عبادت گاہ میں عبادت کر سکے,

کیا تم آزاد ہو,  کیا ہم آزاد ہیں.

جو عوام اپنی راۓ بیچتی ہو,

جو پڑھا لکھا اپنا ضمیر بیچتا ہو, جہاں بہن بیٹی کی بولی لگتی ہو,

جہاں کسی کو حق دے کر بھی ستایا جاتا ہو,

جہاں لکھاری رنگینیوں میں گم ہوجاتے ہوں,

جہاں صحافی جرائم چھپانے میں مدد دیتے ہوں,

جہاں ڈاکٹر خون بہاتے ہوں,

جہاں قانون صرف غریب کو پھنسانے کا جال ہو,

جہاں استاد انسانیت کا سبق پڑھانا بھول گیا ہو,

کیا اسے ہم آزاد کہیں گے ؟

جو ووٹر اپنی مرضی سے نہیں بلکہ وڈیروں کی مرضی سے زندگی گزارتے ہوں اسے تم آزاد کہو گے ؟ ؟ ؟ ؟ ؟ ؟ ؟

ہاں یہ تو ہے کہ سب ایک جیسے نہیں,  سب ایماندار نہیں,

تو سب بے ایمان بھی نہیں,

سب اگر غلام نہیں تو

سب آزاد بھی نہیں.

میں تو کہتا ہوں کشمیر آزاد ہے

ہم غلام ہیں,

کشمیریوں کو معلوم تو ہوتا ہے کہ انڈین گولی سامنے سے آۓ گی اور وہ شہید ہوجائیں گے,

انہیں یہ معلوم تو ہوتا ہے کہ ان کی ماں,  بہن یا بیٹی کی عزت انڈین کتوں کے ہاتھوں خراب ہوگی,

مگر.    .   .   .   . ! ! !

یہاں کسی کو پتہ ہی نہیں کہ کس کی عزت کیوں لوٹی جارہی ہے, کبھی قصور میں درندگی تو کبھی ملتان میں ریپ کی صورت میں,

یار ایمانداری سے بتاؤ تو صحیح کہ واقعی ہم آزاد ہیں

یا صرف ہمارے حکمران آزاد ہیں    ,

خدا کی قسم میرے سامنے ایسے ایسے واقعات وقوع پزیر ہوۓ جہاں امیر آزاد تھا جس کی عزت لٹی وہ غلام بن کے اسی امیر کے پاؤں چومتا رہا,  اگر سر اٹھاتا تو ایکسیڈینٹ کرواکے مروا دیا جاتا یا کسی کوچے سے نعش ملتی,

قتل نقیب یا زینب کا کیس ہمیں صاف بتا رہے ہیں کہ پاکستان کی عوام غلام ہے اور حکمران آزاد ہیں,

یہاں اس ملک میں جج آزاد ہے,

یہاں پولیس آزاد ہے,

یہاں فوج آزاد ہے,

یہاں ہر محکمہ آزاد ہے سواۓ عوام کے.  

کیا یہ جھوٹ ہے ؟

کیا ایسا آپ کے سامنے نہیں ہورہا,

اگر نہیں ہورہا تو خوش رہو تم آزاد ہو مگر میں کیسے کہوں

آج تک امجد صابری کی آواز گونج کر کہتی ہے کہ کیا ہم آزاد ہیں,

آرمی پبلک سکول

باچا یونیورسٹی,  گلشن اقبال پارک اور کتنے گمنام قتل مجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا ہم آزاد ہیں,

پھر میں ہمت کرکے کہتا ہوں

ہاں ہم آزاد ہیں اور کشمیر غلام,

جسموں کی آزادی کو نادان آزادی سمجھ بیٹھے ہیں

میں تو چاہتا ہوں روح آزاد ہوجاۓ

میں تو کہتا

خدا کی قسم اگر یہ آزادی ہے

تو میں جسم کی آزادی کو آزادی نہیں سمجھتا

کاش کہ ہم کشمیر کی طرح آزاد ہوتے,

جیسے وہ کسی کے زہنی غلام نہیں ویسے ہی ہم زہنی طور پہ بھی آزاد ہوتے

تب میں کہتا کہ کشمیر غلام ہے اور میں آزاد. 

مگر میں تو امریکہ کا,

برطانیہ کی Aids کا,

چائنا کے CEPEC کا,

سعودیہ اور ایران کے پٹرول کا  ,

اپنے MNAs کا اپنے MPAs  کا

اپنے بڑوں کا,  اپنے وڈیروں کا زر خرید غلام ہوں

اور کشمیر آزاد ہے کیونکہ کشمیر کو زہنی آزادی میسر ہے

ہر روز نیا خواب نۓ سپنے بنے جاتے ہیں کشمیر میں. 

مگر میں تو خواب نہیں دیکھ پاتا

میری سوچ تنگ کردی حکمرانوں نے

ہاں میں نوجوان ہوں,  ہاں میں آزاد کراؤں گا کشمیر کو,

کیا میں جس کی سوچ غلاموں والی سوچ ہے کشمیر کا ساتھ دے گی

نہیں جھوٹ ہیں سب نعرے,

جھوٹی تسلیاں,

کیونکہ کشمیر اب خود آزاد ہوگا

میں تو اپنی خواہشات کا غلام ہوں,

اور یہ سچ ہے کہ کشمیر آزااد ہے. .................

معاف کیجے گا,

میں غلام ہوں ,

تنگ سوچ

گھٹیا زہن ہے میرا  ,

مجھے آزاد کرادو

خدا کے واسطے

مجھے آزاد کرادو کہ میں آج کا نوجوان ہوں.

پھر میں کشمیر آزاد کراؤں گا,

لیکن کشمیر تو آزاد ہے میں غلام ہوں

تحریر == گلزار حسین فکشن رائٹر

بہاولپور


افکار و نظریات: غلام کون ہے