سرکاری ہسپتال کوئٹہ اور اعلیٰ حکام 

تحریر: شہک جان رند

آج میرا موضوع  قصاب خانے یعنی ہمارے نجی ہسپتال ہیں۔ ان ہسپتالوں کی کارستانیوں سے میں آپ اور اس معاشرے کا ہر فرد واقف ہے اور ہو بھی کیوں نہ ہم میں سے ہر ایک کا پالا ان ہسپتالوں سے پڑاہے اور ہم رو دو کر ہی یہاں سے باہر نکلے ہیں پر  مجبوری لے  کر واپس ان ہی قصاب خانوں کارخ کرنا پڑتا ہے_

 دکھ کی بات تو یہ ہے یہاں پوچھنے والا کوئی بھی نہیں اور ہو بھی کیوں بڑے لوگ تھوڑی نہ ان سرکاری ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں بیمار هو ئے تو باہر کے ممالک کا رخ کرلیا باقی غریب مرے یا جیے کسی کو کیا فرق۔ وہ تو صرف ہلکے سے الفاظ میں افسوس کرتے ہیں اور بہت بار تو افسوس تک بھی نہیں ہوتا۔

غریب آخر جائے تو جائے کہاں وہ مہنگے پرائیوٹ ہسپتالوں کا خواب میں بھی تصور نہیں کر سکتا تو پیچھے بچتے ہیں ہمارے سرکاری  ہسپتال  ہیں اور وہ غریب وہاں جاتا ہے اور الٹا مزید بیمار ہو کر ہی آتا ہے۔ ان ہسپتالوں میں سے ایک ہمارا سول ہسپتال کوئٹہ  بھی ہے کوئٹہ شہر کا دوسرے نمبر کا بڑا ہسپتال ہے پر میں اسے قصاب خانہ کہوں گا جہاں بنائی تو صرف پانچ روپے کی پرچی ہے اور کہنے کو ہے بھی فری ہسپتال پر ایک کینلولا تک بازار سے منگوایا جاتا ہے،  آپ ایمرجنسی میں ہسپتال چلے جائیں آپ کو  پیناڈال سے لے کر ڈرپ تک بازار سے خود لانا پڑے گی، ابھی ہے یہ فری ہسپتال ۔

 آپ دو دن کسی بھی وارڈ میں داخل ہو کر دیکھیں آپ کو کہیں بھی صفائی نہیں ملے گی ،واش روم گندگی اور غلاظت کے ڈھیر سے بھرے پڑے ہیں اور ہوں بھی کیوں نہ پانی واش رومز میں نام کا نہیں۔آپ ٹھیک ہونے کے بجائے الٹا ہزار نئی بیماریاں واپس ساتھ لے کر نکلتے ہیں_

 آپ ایک سے دوسری بار نرس کو بلا  کر کچھ پوچھ لیں آپ سے نرس اتنی بری طرح پیش  آئے گی کہ آپ کی دوبارہ ہمت نہیں پڑے گی اس کو بلانے کی۔ ساراسارا دن آپ کو مردوں کا هجوم نظر آئے گا فیمیل وارڈ میں۔ آپ کو رات کو وارڈ میں کوئی ڈاکٹر نہیں ملے گا وه آرام سے اس وقت تشریف لائے گا جب مریض ایمرجنسی میں آئے گا۔

 صفائی کرنے واے سے لے کر تمام اعلی حکام تک اپنی مستی میں مست  نظر ائیں گئے جس ہسپتال میں آپ کو پیشاب سے لے کر خون ٹیسٹ تک کی رقم ادا کرنی پڑے کیا وه ہسپتال فری ہوا؟

یہ قصاب خانہ ہے جہاں جو غریب آیا اس کی اچھے سے کھال اتاری گئی ۔ کل میں نے ایک خبر شیئر کی کیوں کہ بچے کے والد کے مطابق تین دن تک تو کوئی پوچھنے والا نہیں تھا، چالیس ہزار  کسی طری بچے پر اپنی چیب سے خرچ کیے ہیں، ہماری کوئی امداد کرنے والا نہیں اور کل ڈاکٹروں کے مطابق بچے کو ڈسچراج کر دیا جائے گا اس ہسپتال میں میڈیکل ویرفیکیشن کے لیے بھی رشوت لی جاتی ہے جو میں نے اور میرے دوستوں نے انکے عملے کو ادا کیے۔

 بات یہاں ختم نہیں ہوتی، انہوں نے میرے میسج کا اسکرین شاٹ لے کر لوگوں کو میسج دیا میں، جھوٹ بول رہا ہوں اگر انکا ہسپتال اتنا صاف شفاف ہے تو اپنے بچوں کی ٹریٹمنٹ کیوں سی ایم ایچ اور کراچی سے کرواتے ہیں، بچے کے ساتھ تصویر لے کر فوٹوسین کے بجائے عوام کی خدمت کرنی چاہیے نہ کہ اسے  انا کا مسلہ بنانا چائیے، میری گزارش ہے  وزیراعلی بلوچستان سے کہ غریبوں کے حال پر رحم کیا جائے اور نہ صرف سول ہسپتال بلکہ اس جیسے اور بھی ہسپتالوں کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کی جائے۔ میری چیف جسٹس بلوچستان،  نیب بلوچستان اور ایف آئی اے سے درخواست ہے سول ہسپتال کوئٹہ کا دورہ کریں ۔


افکار و نظریات: سرکاری ہسپتال کوئٹہ اور اعلیٰ حکام