اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات اُف! مسلمان اور اسرائیل کی حمایت ثاقب اکبر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے یہ کہہ کر کہ اسرائیلیوں کو اپنی سرزمین کا حق حاصل ہے، دنیا کو حیران نہیں کیا بلکہ ان کے بیان کے بعد شاہ سلمان کے نام سے جاری ہونے والے بیان نے دنیا کو حیران کیا ہے، جس میں انہوں نے وضاحت پیش کی ہے کہ سعودی عرب فلسطینی عوام کے اس قانونی حق کی مکمل تائید کرتا ہے کہ ان کے لئے ایک آزاد ریاست کا قیام عمل میں لایا جائے، جس کا دارالحکومت بیت المقدس ہو۔ یہ حیرت اس لئے ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ابھی محمد بن سلمان کی مملکت کے امور پر سو فیصد گرفت نہیں ہوئی، یا پھر عالم اسلام میں شہزادے کے بیان کے بعد جو ردعمل سامنے آیا ہے، اسے کم کرنے کے لئے کسی بڑے نام کا سہارا ہی درکار تھا۔ سعودی عرب اور اسرائیل کے مابین اگرچہ بظاہر سفارتی تعلقات نہیں ہیں، لیکن دنیا سے اب یہ امر مخفی نہیں کہ دونوں کے مابین اس وقت سرگرم تعلقات موجود ہیں۔ دونوں کی نظر میں ان کا اصل دشمن ایران ہے اور دونوں کے نزدیک ان کا اصل سرپرست امریکہ ہے۔ شہزادہ محمد بن سلمان نے اس مسئلے میں اپنے اور شاہی خاندان کے نقطہ نظر کو گذشتہ دنوں امریکہ کے دورہ کے موقع پر واضح طور پر بیان کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی سلطنت کے قیام سے لے کر اب تک شاہی خاندان کے امریکہ سے سب سے زیادہ قریبی تعلقات ہیں۔ امریکی اخبار دی اٹلانٹک سے بات کرتے ہوئے شہزادہ محمد بن سلمان نے اسرائیلیوں اور فلسطینیوں دونوں کے لئے اپنی سرزمین کے حق کا ذکر کیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ یہودیوں کو اپنے آبائی علاقوں میں کم از کم جزوی طور پر ایک خود مختار ریاست کا حق ہے تو ان کا کہنا تھا کہ میرا نقطہ نظریہ ہے کہ تمام لوگوں کو حق ہے کہ وہ ایک پرامن ریاست میں رہیں۔ انہوں نے کہا کہ میری رائے ہے کہ فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کو اپنی اپنی زمین کا حق حاصل ہے، مگر ہمیں معمول کے تعلقات اور استحکام کے لئے ایک امن معاہدے کو یقینی بنانا ہوگا۔ غور سے دیکھا جائے تو محمد بن سلمان اور شاہ سلمان کے بیان میں فقط بیت المقدس کے فلسطینی دارالحکومت ہونے کا فرق ہے، لیکن جہاں تک دو ریاستی نظریئے کا معاملہ ہے تو دونوں نے اسے کو قبول کیا ہے، یعنی دونوں کے نزدیک اسرائیل ایک جائز ریاست کی حیثیت رکھتا ہے، جبکہ عربوں اور فلسطینیوں کا بنیادی موقف ماضی میں یہ رہا ہے کہ اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ فلسطین کی تمام آزادی پسند تحریکوں کا یہی نظریہ رہا ہے کہ اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے اور فلسطین فلسطینیوں کا ہے۔ عالم اسلام کا ہمیشہ سے یہ نقطہ نظر رہا ہے کہ باہر سے لائے گئے یہودیوں کو واپس اپنے اپنے علاقوں میں جانا چاہیے۔ البتہ تاریخی طور پر اس سرزمین پر پہلے سے موجود یہودیوں کا وطن فلسطین ہی ہے، وہ باقی فلسطینیوں کے ساتھ مل کر فلسطین کی ریاست میں زندگی گزار سکتے ہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس اصول کو مان لیا جائے تو فلسطین کی اصل آبادی کے تناسب کے مطابق مسلمانوں کی بھاری اکثریت کے بعد بڑی اقلیت مسیحیوں کی ہے اور ان کے بعد مختصر تناسب یہودیوں کا بنتا ہے۔ یہ امر قابل افسوس ہے کہ اس نظریئے سے پہلا انحراف الفتح نے کیا، جب مرحوم یاسر عرفات نے امریکہ کے ایماء پر اسرائیل کے ساتھ ایک امن معاہدہ کر لیا، جس کے تحت ایک نیم خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کو جائز تسلیم کیا گیا۔ اس کے پہلے صدر یاسر عرفات ہی ہوئے، لیکن بہت جلد انہیں معلوم ہوگیا کہ اس معاہدے کی روشنی میں کوئی حقیقی ”فلسطینی ریاست“ قائم نہیں ہوسکتی بلکہ اسرائیل کے ماتحت ایک نیم خود مختار بلدیہ ہی قائم کی جاسکتی ہے۔ وہ بہت جلد اس فریب سے باہر آگئے، لیکن اسرائیل نے ان کے صدارتی محل کا محاصرہ کر لیا، بجلی اور دیگر تمام ضروریات اس سے منقطع کر لی گئیں اور کہا جاسکتا ہے کہ یاسر عرفات کو ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرنے پر مجبور کر دیا گیا۔ آج حماس اور جہاد اسلامی نام کی آزادی کی تحریکیں الفتح کے قدیم نظریئے کے مطابق سرگرم عمل ہیں۔ وہ اسرائیل کے وجود کو ناجائز سمجھتی ہیں، لیکن ان کے مقابلے میں نام نہاد نیم خود مختار ریاست کے صدر محمود عباس کا وہی نقطہ نظر ہے، جس کا اظہار شاہ سلمان کے اصلاحی بیان میں کیا گیا ہے۔ اصولی طور پر امریکہ اور مغرب کا بھی یہی موقف رہا ہے اور ماضی میں یہ کہا جاتا رہا ہے کہ دو ریاستی نظریئے میں بیت المقدس بالآخر فلسطین کا دارالخلافہ ہوگا۔ اس کے مطابق اسرائیل کو بہرحال ایک جائز ریاست تسلیم کیا گیا ہے، لیکن گذشتہ برس اس دو ریاستی نظریئے کے تھیلے سے بلی اس وقت باہر آگئی، جب پہلے مرحلے میں صدر ٹرمپ نے اسرائیل کے دورے کے موقع پر کہا کہ دو ریاستی کے علاوہ یک ریاستی حل پر بھی بات کی جاسکتی ہے۔ یعنی فقط اسرائیل کی ریاست۔ ریاض میں ان کا جس طرح والہانہ بلکہ کہنا چاہیے عاشقانہ استقبال کیا گیا تھا اور جس انداز سے ان پر دولت نچھاور کی گئی تھی اور جیسے انہیں عالم اسلام کے نام پر منعقد کی گئی کانفرنس کا صدر بنایا گیا تھا، اس کے بعد اسرائیل پہنچ کر ایسی بات کا کیا جانا عین قرین قیاس تھا۔ دوسرے مرحلے میں صدر ٹرمپ نے امریکی سفارتخانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے کا اعلان کر دیا۔ بظاہر عالمی سطح پر اس کا کچھ نہ کچھ ردعمل ہوا، صدر ٹرمپ کو یقین آچکا تھا کہ اب تاش کے باون پتوں میں سے سارے کے سارے ان کے اپنے ہاتھ یا ایماء پر ہیں، اگر انہوں نے اسرائیل کی حمایت میں مزید بھی کوئی اقدام کیا تو کوئی ان کے راستے میں حائل ہونے والا نہ ہوگا۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان امریکہ کے لئے جس محبت اور جس وارفتگی کا اظہار کر رہے ہیں اور جس انداز سے سعودی تہذیب کو مغربی تہذیب سے ہم آہنگ کرنے کے لئے کوشا ںہیں، اس کے بعد ان کا اسرائیل کے وجود کو مذکورہ بالا طریقے سے تسلیم کرنا کس طرح سے تعجب خیز سمجھا جاسکتا ہے۔ عالمی سطح پر بعض لوگوں کو البتہ اس پر تعجب ہے کہ ان دنوں جبکہ اسرائیل ایک مرتبہ پھر وحشیانہ طور پر اسرائیلیوں کا قتل عام کرنے پر تلا بیٹھا ہے اور ابھی اس نے حال ہی میں بیس سے زیادہ نہتے فلسطینیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے، پانچ سو سے زیادہ فلسطینی ان دنوں میں اسرائیلی وحشت و بربریت کی وجہ سے زخمی ہوچکے ہیں، محمد بن سلمان کا ایسا بیان سامنے آیا ہے، جس میں فلسطین کی سرزمین پر اسرائیل کے وجود کی حمایت کی گئی ہے اور بیت المقدس کے ذکر کو پوری طرح نظرانداز کر دیا گیا ہے۔ البتہ ہمارے لئے یہ امر اس لئے تعجب خیز نہیں کہ ہم محمد بن سلمان کا طرز عمل پوری توجہ سے دیکھتے چلے آرہے ہیں اور چونکہ سعودی عرب کا مستقبل اب محمد بن سلمان ہی کے ہاتھ آنے والا ہے، اس لئے وہ دن دور نہیں جب اسرائیل کے بارے میں سعودی موقف ظاہراً بھی وہی ہو جائے گا، جو اس وقت تک امریکہ کا سامنے آچکا ہے، تاہم اس کا یہ نتیجہ ضرور نکلے گا کہ فلسطینی اور وہ مسلمان عوام جو ابھی تک اپنے حکمرانوں سے کچھ امیدیں لگائے بیٹھے ہیں، ان کی یہ امیدیں منقطع ہو جائیں گی۔ فلسطینیوں کی اس وقت جدوجہد اور ان کی تحریک میں آنے والے ابھار میں تو یہ دکھائی دیتا ہے کہ انہوں نے خطے کے عرب حکمرانوں سے اپنی امیدیں منقطع کر لی ہیں۔ دیگر ممالک کے مسلمان بھی اس حقیقت کو پوری طرح جان لیں گے، جب یہ ظاہری نقاب الٹ جائیں گے اور سچ پوری طرح آشکار ہو جائے گا تو مسلمان زیادہ جم کر اپنے دشمنوں کے خلاف کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہو جائیں گے۔ وقت کا پہیہ اسی طرف حرکت کرتا ہوا معلوم ہوتا ہے۔
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
statelife اسٹیٹ لائف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
انشورنس پالیسی
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/7/23 - 2026/8/22
2026/6/22 - 2026/7/22
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
آرشيو
افکار و نظریات: اُف, مسلمان اور اسرائیل کی حمایت
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں