اسلامی  اتحاد  اور غیرت

           تحریر... گلزار حسین

     کہا تو یہی جاتا ہے کہ اتفاق میں برکت ہوتی ہے, اسی برکت کو مد نظر رکھتے ہوۓ ہی OICکا قیام عمل میں لایا گیا, جب یہ تنظیم اچھی طرح سے کام کرنے لگی تو اسلامی ممالک نے دن دگنی رات چوگنی ترقی کی اور مسلمان کا تشخص بحال کیا, اس تنظیم کی اعلی کارکردگی کی وجہ سے ہی جہاں مسلمانوں کا لہو ارزاں تھا وہ مہنگا ہوگیا بلکہ لہو بہنا ہی بند ہوگیا اسلام کے جھنڈے گاڑ دیے گۓ, اس لیے اس تنظیم نے ان گنت مسلمانوں کی زندگیوں کو بچاکر عظیم ہونے کا تمغہ بھی جیت لیا.

اس سب کے بعد کعبے کے پاس بیٹھے ولیوں نے کہا نہیں OICٹھیک طرح سے مسلمانوں کے حقوق کے لیے کام نہیں کرسکی ہمیں ایک نئی جماعت بندی ایک نیا اتحاد ایک نئی محبت میں بندھ جانا چاہئیے ہم اسلامی ممالک کا ایک گٹھ بنائیں, ہم مسلم ممالک کو ایک پلیٹ فارم پہ مل کر فرقہ واریت اور تعصب کی لڑائیوں سے آزاد ہوکر نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک امت بن جانا چاہئیے اور اس کے لیے کسی ہونہار سپاہ سالار کی ضرورت بھی ہے جو کہ پریشانی کی بات نہیں کیونکہ پاکستان کے زندہ دل مرد مومن چیف آف آرمی سٹاف راحیل شریف سپاہ سالاری کے عہدے کےلیے نہائیت قابل شخص ہیں ۔

یوں یہ مسلم اتحاد قائم ہوا اور اس کے اہم مقاصد مندرجہ ذیل طے پاۓ

, 1. دنیا کے تمام مسلمانوں کے جان و مال کی حفاظت کی ضمانت

2. کشمیر کو آزاد کرانے کے لیے نان مسلم ممالک سے رابطے قائم کرنا

3. فلسطین اور شام میں ہونے والے مظالم کو روکنے میں خاص کردار ادا کرنا

4. جو اسلامی ملک مسلمانوں کے تحفظ کی خاطر اس اتحاد کا حصہ نہ بنے گا اس پہ کفر کا سرعام فتوی لگایا جاۓ گا اور اس کو نان مسلم کہا جاۓ گا.

5.  بیت المقدس کو یہودیوں سے لے کر مسلمانوں کے حوالے کرنا,

6. ایک مسلمان کا بھی اگر خون بہا تو اس پہ قصاص لینے کےلیے اتحاد میں شامل تمام ممالک کو ساتھ دینا ہوگا

7. اس اتحاد میں رنگ و نسل اور فرقہ واریت کے فروغ کو جڑ سے ختم کرکے نبی پاک کے فرمان کے مطابق مسلمان آپس میں بھائ بھائ ہیں اور سب برابر ہیں کا معیار قائم کرنا ہوگا

8. سب سے اہم مقصد جو بھی نان مسلم ملک کہیں پہ بھی مسلمانوں کی غیرت اور عزت کی دھجیاں اڑائیں تو سب نے مل کر ان سے سفارتی و تجارتی تعلقات ختم کردینا ہونگے کیونکہ عزت و غیرت سے مہنگی چیز دنیا میں کوئ نہیں۔ 

یہ مقاصد صحیح ہیں یا غلط لیکن خیالی ضرور ہیں, اس اتحاد نے تو یہاں تک باور کرایا کہ مسلمان تو مسلمان دنیامیں کہیں بھی انسانیت کا قتل عام نہیں ہوگا اور اگر ہوگا تو اس کی مذمت کی جاۓ گی اور انسانی تقاضوں کو پیش نظر رکھ کر تعاون فراہم کیا جاۓ گا.

         یہ بات ہر بندہ جانتا ہے کہ  سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت اسلام کے پیروکاروں کو زبح کیا جارہا ہے اور اس کو شاید دہشت گردی کا خاتمہ سمجھا جارہا ہے,  اصل میں دہشت گردی کچھ نہیں بلکہ نان مسلم خاص کر امریکہ, اسرائیل اور انڈیا کا بنایا ہوا لفظ ہے جسے وہ اپنی فلموں میں آتنگ واد بھی کہتے ہیں درحقیقت دہشت گردی امریکہ سے شروع ہوتی ہے وہیں سے اس ظلم کی جڑیں نکل کر مسلمانوں کا قتل عام کرتی ہیں اور بس....!

بڑی ہی شرم کی بات ہے, کہ صرف تین ملک انڈیا, اسرائیل اور امریکہ نے اسلامی اتحاد کو نتھ ڈال کر مہاریں پکڑ رکھی ہیں, حالانکہ ایک مرد مومن سو کفار پہ بھاری ہے تو کیا وجہ یا تو دین کا صرف نام استعمال کیا گیا ہے یا پھر کافر کی پاور بڑھ گئ ہے,  وجہ کیا ہے سعودی,  ایرانی,  افغانی, تورانی,  پاکستانی بھائیو   !

مسلمانوں کے خون کی اتنی ارزانی کہ حفاظ کرام معصوم چھوٹے چھوٹے بچوں کو بے گناہ موت کے گھاٹ اتار دیا جاۓ اور اور اسلامی اتحاد کی غیرت کے جنازے نکل پڑے, یہ سوال آزادی کا نہیں, یہ سوال خون کا بھی نہیں, یہ مسئلہ دولت کا بھی نہیں

یہ بات ہے غیرت کی بات !

خدا کی قسم اس اسلامی اتحاد اور اس سے جڑے نہ جڑے ہر مسلم کی غیرت کی بات ہے. مسلمان ممالک کے سربراہوں کو چاہئیے کہ بچوں کی شہادتوں کا بدلہ لیں یا پھر شی میل بن کر تالیاں بجائیں ادھر سر کٹے, ادھر مسلمان خواتین سے ریپ ہوں اور تم بیٹھ کے تالیاں بجانا بس. یہ OIC اور اسلامی ممالک کے اتحاد کی غیرت پہ سوالیہ نشان ہے ؟


افکار و نظریات: اسلامی اتحاد اور غیرت