اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات صحافت اور شہادت ساتھ ساتھ نذر حافی nazarhaffi@gmail.com ابھی ذیشان اشرف بٹ کا خون تازہ ہے، مقتول صحافی کا کفن بھی میلا نہیں ہوا کہ شیخوپورہ میں سیوریج کے منصوبے میں مبینہ طور پر غیر معیاری مواد استعمال ہونے کی کوریج کرنے والے ڈان نیوز کے رپورٹر پر تشدد کے بعد انہیں غیر قانونی طور پر مقامی جنرل کونسلر کے دفتر میں بند بھی کردیا گیا۔ ڈان نیوز کے مطابق شیخوپورہ پریس کلب کو شکایتی خط موصول ہوا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ گَھنگ روڈ کا سیوریج نظام تباہ ہوچکا ہے، جبکہ جنرل کونسلر کی ہدایات پر شہر کے چند علاقوں میں ہونے والے ترقیاتی کام میں استعمال ہونے والا مواد غیر معیاری ہے۔ جب رپورٹر اور ان کی ٹیم گھنگ روڈ پہنچی اور فوٹیج ریکارڈ کرنا شروع کی تو کونسلر رائے محمد خان اپنے عملے کے ہمراہ وہاں پہنچے اورصحافیوں پر تشدد شروع کر دیا کیمرہ مین اپنی جان بچاتے ہوئے جائے وقوع سے فرار ہونے میں کامیاب رہا جبکہ کونسلر ،بلال شیخ کا موبائل فون چھین کر انہیں گاڑی میں اپنے ڈیرے (دفتر) لے گئے۔ڈیرے پر بھی ڈان نیوز کے رپورٹر پر گنے سے تشدد کیا گیا اور بلدیاتی چیئرمین امجد لطیف شیخ کے دفتر میں محصور کر دیا گیا۔ یہ اس ملک میں پڑھے لکھے لوگوں کے ساتھ ہو رہا ہے، یہ سچ بولنے کی قیمت ہے ، یہ بے لاگ صحافت کا اجر ہے، یہ حق اور حقیقت کی خاطر قلم اٹھانے والوں کے ساتھ ہو رہا ہے۔ جب صحافی حضرات کے ساتھ یہ برتاو ہو رہا ہے تو آپ خود اندازہ کیجئے کہ عام عوام کے ساتھ مختلف اداروں میں کیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔ سچ بات تو یہ ہے کہ پاکستان میں صحافیوں پر تشدد اب روز مرہ کا معمول بن چکا ہے۔گزشتہ چند سالوں میں صحافیوں پر مختلف حلقوں کی جانب سے تشدد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔سال ۲۰۱۷ سے لے کر اب تک ان گنت صحافیوں کو ملک کے اطراف و کنار میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔اس تشدد کے جواب میں بعض اوقات چند روز احتجاجی جلسےجلوس ہوتے ہیں اور پھر معاملہ ٹھپ ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے یہ سلسلہ اب رکنے میں نہیں آتا۔ صحافیوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف اب ایک منظم احتجاج کی ضرورت ہے۔دوسری طرف یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ ایک انسان کی زندگی کے لئے جس طرح ہوا اور پانی کی ضرورت ہے اسی طرح ایک معاشرے کی زندگی کے لئےآزادی رائے، آزادی صحافت ،جمہوریت اور انسانی حقوق کی ضرورت ہے۔اگر معاشرے میں صحافت کا گلا گھونٹ دیا جائے گا، صحافیوں کو گولیاں ماری جائیں گی، انہیں اغوا کیا جائے گا اور ان پر تشدد کیا جائے گا تو ایسے معاشرے سے زندگی کی رمق بھی ختم ہو جائے گی۔ پاکستان میں آزادی رائے کوایک منظم لابی مسلسل کچل رہی ہے۔ عصرِ حاضر کے فرعون معاشرے کو غلام رکھنے کے لئے معاشرے کی اجتماعی سوچ کو مسل رہے ہیں، معاشرتی ڈکٹیٹر ایک طرف تو معاشرے میں کرپشن اور دیگر برائیوں کو خود رواج دیتے ہیں اور دوسری طرف اگر کوئی صحافی ان کی نقاب کشائی کرتا ہے تو جواب میں کہتے ہیں کہ سارا معاشرہ ہی ایسا ہے۔ سارے معاشرے کو برا کہنا درا اصل برے لوگوں کو بچانے کی ایک عمدہ چال ہے۔ ہمارے ہاں کچھ چالاک لوگوں نے عوام کو سیاسی بصیرت ، معاشرتی رواداری ا ور اخلاقی اقدار کے بجائے نعروں، ووٹوں اور سیٹوں کے پیچھے لگا رکھا ہے، جس کی وجہ سے عام آدمی کو عوامی رائے اور اپنے حقوق کا کچھ پتہ ہی نہیں۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ الیکشن ہوجانے کا نام ہی جمہوریت اور ووٹ ڈالنے کا نام ہی آزادی رائے ہے۔ لوگوں کو ذہنی طور پر اتنا محدود اور چھوٹا کر دیا گیا ہے کہ وہ حق اور سچ کہنے کے بجائے، پارٹیوں ، برادریوں ، مسالک اور شخصیات کی پرستش کرتے ہیں۔لوگ الیکشن میں بھی ایسے لوگوں کو ووٹ دیتے ہیں جو انسانوں سے زیادہ اپنے کتوں سے پیار کرتے ہیں اور جو انسانیت اور شرافت کے بجائے بدمعاشی اور دھونس پر فخر کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں کے پڑھے لکھے اور دانشمند طبقے کو اس حقیقت کو سمجھنے اور آگے سمجھانے کی ضرورت ہے کہ کبھی بھی ایک منظم لشکر اور مرتب سوچ یعنی ایک مستقل لابی کا مقابلہ ایک پراگندہ لشکر اور منتشر سوچ کے ساتھ نہیں کیا جا سکتا۔لوگوں کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ الیکشن میں زیادہ سیٹیں لینے اور زیادہ ووٹ لینے سے کسی کی انسانیت ، آدمیت اور شرافت میں اضافہ نہیں ہو جاتا، بلکہ معاشرے میں انسانیت، آدمیت اور شرافت کی حاکمیت کے لئے ضروری ہے کہ ہم تمام مسائل میں فاسق و فاجر لوگوں کی مخالفت کریں ۔ جولوگ اپنے ،ماں باپ ، اپنے ہمسایوں اور اپنے عزیزو اقارب سے زیادہ اپنے کتوں اور پالتو بدمعاشوں سے محبت کرتے ہیں وہ ہمیں کیا جمہوری اقدار سکھائیں گے اور ہمارے ساتھ کیا بھلائی کریں گے اور وہ ہمیں کیا آزادی رائے دیں گے! عوام کی بھلائی اسی میں ہے کہ عوام خود اپنے ساتھ بھلائی کرے، بھلے اور نیک لوگوں کا ساتھ دے اور بھلائی کے کاموں میں آگے بڑھنے سے قطعاً نہ کترائے۔ ہاں اس راستے میں ذیشان اشرف بٹ کی طرح ہماری جان بھی جا سکتی ہے اور بلال شیخ کی طرح کسی کو اغوا کر کے اس پر تشدد بھی کیا جا سکتا ہے لیکن یاد رکھیں حق اور سچ کے راستے میں جولوگ ڈٹ جاتے ہیں وہی تاریک راتوں میں روشنی کے ستارے بن کر چمکتے ہیں اور جو بِک یا ڈر جاتے ہیں وہ اپنے پیچھے سیاہ رات چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ آج بحیثیت قوم ہمارے ایک طرف وہ لوگ ہیں جو قوم کو مغرب کی طرز پر معاشرتی آزادی، آزادی رائے اور آزادی صحافت دینے کے دعوے کرتے ہیں جبکہ عملا ً عوام کو مصر کے فرعونوں کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور دوسری طرف ایسے لوگ ہیں جو عوام کی دینی رہبری اور قیادت کے دعویدار ہیں لیکن معاشرے میں آزادی رائے اور آزادی صحافت کی بھینٹ چڑھنے والے بے گناہ لوگوں کے خون سے لا تعلق رہتے ہیں۔ اب ملک ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑا ہے کہ جہاں ہم نے خود ہی اپنے معاشرے کی زندگی یا موت کا فیصلہ کرنا ہے،ہمارے دانشمند حضرات خواہ یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہوں یا دینی مدارس سے ، انہیں اپنے ملک میں معاشرتی آزادی، سماجی عدالت، عوامی حقوق اور رائے عامہ کی آزادی کے حوالے سے سکوت اختیار نہیں کرنا چاہیے۔ خصوصاً اگر دینی اداروں کے دانشمند معاشرے کی تعریف، معاشرتی آزادی، اظہارِ رائے ، رائے عامہ اور صحافت کے خدوخال کو علمی و عملی قالب میں عوام کے سامنے نہیں رکھیں گے اور ملی آزادی اور اظہار رائے کا تحفظ نہیں کریں گے تو رائے عامہ خود بخود غیروں کے آگے مسخر ہوتی چلی جائے گی۔ دینی اداروں کو چاہیے کہ آزادی صحافت کو وہ بھی اپنا مسئلہ سمجھیں اور صحافیوں کے بہنے والے خونِ ناحق کا نوٹس لیں، جس طرح ملک کی جغرافیائی سرحدوں پر لڑنے والے اس قوم کے مجاہد ہیں اسی طرح اس ملک میں کرپشن، بدعنوانی ، فراڈ اور دھوکہ دہی کو بے نقاب کرنے والے صحافی بھی عظیم مجاہد ہیں۔لہذا دینی حلقوں کی طرف سے صحافیوں پر ہونے والے تشدد پر خاموشی بلاجواز ہے۔ آئیے وطن عزیز سے کرپشن اور بدعنوانی کی سیاہ رات کے خاتمے اور آزادی رائے کی خاطر قربانیاں دینے والے صحافیوں کے حق میں ہر پلیٹ فارم سے آواز بلند کریں اور متحد ہوکر حکومت وقت سے مطالبہ کریں کہ وہ صحافیوں پر تشدد اور حملے کرنے والے مجرمین کو قرار واقعی سزا ئیں دے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ معاشرہ تو زندہ ہو لیکن صحافت مردہ ہو، ہمیں اس معاشرے میں صحافت کو زندہ رکھنے کے لئے عوام و خواص کے ساتھ مل کر جدوجہد کرنی ہوگی اور تمام پڑھے لکھے اور باشعور لوگوں کو معاشرتی دشمنوں کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بننا ہوگا۔یاد رکھئے !صحافت معاشرے کا دل اور دماغ ہے، صحافت زندہ رہے گی تو معاشرہ بھی زندہ رہے گا۔
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
statelife اسٹیٹ لائف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
انشورنس پالیسی
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/7/23 - 2026/8/22
2026/6/22 - 2026/7/22
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
آرشيو
افکار و نظریات: صحافت اور شہادت ساتھ ساتھ
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں