کالا باغ ڈیم

جب بھی ملک میں توانائی کا بحران شدت اختیار کرتا ہے ،نئے ڈیموں کی تعمیر کی ضرورت پر زور دینے کیساتھ ساتھ اس سلسلے میں غفلت برتنے پر موجودہ اور سابقہ حکمرانوں پر خاصی تنقید بھی کی جاتی ہے اور جب بھی نئے ڈیموں کی تعمیر کی بات ہوتی ہے تو کالاباغ ہر جگہ موضوع بحث بن جاتا ہے ، کالا باغ منصوبہ پر ضیاء الحق دور میں شد و مد کے ساتھ کام کے آغاز کا فیصلہ ہوا بلکہ ابتدا ء میں ڈیم کی سائٹ پر کچھ نہ کچھ کام بھی ہوا تاہم اس دوران خدائی خدمتگار تحریک کے بانی خان عبدالغفار خان(باچا خان) اور اے این پی کے رہبر تحریک خان عبدالولی خان نے اس کی مخالفت میں آواز بلند کی ان ہی دنوں سندھ کی جانب سے بھی مخالفانہ صدائیں بلند ہونی شروع ہوئیں اور یوں یہ منصوبہ متنازعہ بن گیا،بعد ازاں محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں محمد نواز شریف کی حکومتوں کے دوران اس ڈیم کی مخالفت اور بھی بڑھ گئی اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ پنجاب کے سوا باقی تینوں صوبوں کی اسمبلیوں نے متعدد مواقع پر کالاباغ ڈیم کی مخالفت میں متفقہ قرار دادیں بھی پاس کیں کالاباغ ڈیم نے درحقیقت قومی اتحاد و یکجہتی کو نقصان پہنچایا جبکہ سیاسی پارٹیوں کی منافقت بھی آشکارا کی مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی جو خود کو قومی سیاست کی علمبردار سمجھتی ہیں، بھی کالاباغ ڈیم کے معاملے پر خود کو صوبائیت کے خول سے نکال نہ سکیں دونوں بڑی جماعتیں پنجاب میں کالا باغ ڈیم کی حمایت کا اعلان کرتیں اور اس کے حق میں بڑے بڑے جلوس نکالتی تھیں، لیکن خیبر پختونخوا اور سندھ میں یہی دونوں جماعتیں خود کو کالا باغ ڈیم کی سب سے بڑی مخالف ثابت کرنے کیلئے کوشاں رہتیں۔

صوبہ خیبر پختونخوا کی سب سے بڑی قوم پرست جماعت عوامی نیشنل پارٹی اس معاملے میں دو قدم آگے بڑھ گئی اور اس نے اپنے منشور میں کالا باغ ڈیم کی مخالفت کا نقطہ شامل کیا ، اے این پی کی مخالفت کی شدت کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ خان عبدالولی خان نے متعدد مواقع پر کالا باغ ڈیم کی تعمیر کی صورت میں اسے بم سے اڑانے کی دھمکیاں دیں ،اس طرح جب وہ سیاست سے ریٹائرڈ ہوئے تو انہوں نے جس آخری اجتماع سے خطاب کیا وہ بھی کالا باغ ڈیم مخالف جلسہ تھا۔

کالا باغ ڈیم کا منصوبہ پاکستان کی سیاست اور معیشت میں پراسرار حیثیت حاصل کرچکا ہے کیونکہ ڈیم کے حامی حلقے یہ ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں کہ ڈیم کی مخالفت محض سیاسی بنیادوں پر کی جارہی ہے اور تکنیکی لحاظ سے کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے کسی صوبے کو کوئی نقصان پہنچنے کا امکان نہیں جبکہ دوسری جانب کالا باغ ڈیم کے مخالف حلقے اس ڈیم کو صوبہ خیبر پختونخوا ، سندھ اور بلوچستان کے مفادات کا قاتل اور پاکستان کی سلامتی اور یکجہتی کا مخالف منصوبہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

عوامی نیشنل پارٹی بر سر اقتدار آئی تو کچھ عرصہ بعد اس نے یہ دعویٰ کیا کہ کالا باغ ڈیم منصوبہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے دفن کردیا گیا ہے ،لیکن جب سے لاہور ہائی کورٹ میں کالاباغ ڈیم سے متعلق کیس کی سماعت شروع ہوئی ہے ،اے این پی کی تشویش بڑھتی جارہی ہے، یہی وجہ ہے کہ جب عدالت نے کالا باغ ڈیم سے متعلق اعتراضات کو سیاسی قرار دیتے ہوئے ان سیاسی اعتراضات کو مذاکرات کے ذریعے ختم کرنے کی بات کی تو اے این پی نے اس پر شدید احتجاج کیا اور لاہور ہائی کورٹ کے فیصلہ کو تخت لاہور کا پیغام قراردیتے ہوئے واضح کیا کہ یہ منصوبہ ملک کے تین صوبوں کی جانب سے مسترد شدہ اور مدفون منصوبہ ہے، اس لئے لاہور ہائی کورٹ اپنے فیصلہ پر نظر ثانی کرے کیوں کہ کالا باغ ڈیم کو ئی آئینی یا قانونی مسئلہ نہیں کہ عدلیہ اس کی تشریح کرے بلکہ یہ فنی مسئلہ ہے اور اس کے سیاسی پہلو بھی ہیں ۔

کالاباغ ڈیم درحقیقت پانی کی تقسیم کا منصوبہ ہے جس کے ذریعے پنجاب دیگر صوبوں کے حصے کے پانی پر قابض ہونا چاہتا ہے اسی لئے دیگر تینوں صوبے اس کی مخالفت کررہے ہیں ،لہٰذا عدالتوں کو ایسے فیصلوں اور کیسوں کی سماعت سے گریز کرنا چاہیے کیوںکہ ان کی وجہ سے عدالتیں متنازعہ ہوجائیں گی،حالانکہ اے این پی نے ہمیشہ عدلیہ کی آزادی کے لئے جدوجہد کی اور 12 مئی کو کراچی میں سب سے زیادہ خون اے این پی ہی کے کارکنوں کا بہا تاہم لاہور ہائی کورٹ نے متنازعہ اور رسوائے زمانہ کالاباغ ڈیم کے حوالے سے کیس کی سماعت کرتے ہوئے جو فیصلہ دیا ہے اس سے بے چینی پیدا ہوگئی ہے ایسے فیصلوں سے علاقائیت کو فروغ ملے گا۔

عوامی نیشنل پارٹی کی قیادت کا یہ بھی کہنا ہے کہ کالا باغ ڈیم کے متبادل کے طور پر کٹ زارا ڈیم اور بھاشا ڈیم موجود ہیں جن سے ملک کی سو سالہ ضروریات پوری ہوسکتی ہیں چنانچہ اگر کالا باغ ڈیم کے ملک دشمن منصوبے کی تعمیر کی کوشش کی گئی تو اے این پی آئینی وقانونی طریقوں کے علاوہ سیاسی طور پر اس کا راستہ روکے گی اور اس کی مخالفت میں کسی بھی حد تک جانے سے گریز نہیں کرے گی ،،۔ دسمبر2005ء میں سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے اعلان کیا کہ وہ پاکستان کے وسیع تر مفاد میں کالا باغ ڈیم تعمیر کرکے رہیں گے تاہم ڈیم کے مخالف حلقوں کے احتجاج کے بعد انہیں بھی پیچھے ہٹنا پڑا ،26 مئی 2008ء کوموجودہ وزیر اعظم ( اُس وقت کے وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی ) راجہ پرویز اشرف نے اعلان کیا کہ کالا باغ ڈیم کبھی تعمیر نہیں کیا جائے گا کیوں کہ خیبر پختونخوا ، سندھ اور دوسرے متعلقہ فریقین کی مخالفت کے باعث یہ منصوبہ قابل عمل نہیں رہا ہے ۔

اگرچہ کالا با غ ڈیم سے حاصل ہونے والے فوائد میں بجلی کی پیداوار اور زراعت کے لئے پانی کا ذخیرہ کرنا شامل ہیں ،لیکن ڈیم کی تعمیر سے ماحول پر پڑنے والے مضر اثرات ،اس کے ذریعے ایک بڑی آبادی کی ممکنہ ہجرت اورزرعی زمینوںکا بنجر ہونے سمیت ڈیم منصوبے کے مخالف حلقوں نے اس منصوبے سے حاصل ہونے والے فوائد کے مقابلے میں اس کے نقصان کو زیادہ بہتر طورپر اجاگر کیا ہے، یہی وجہ ہے کہ ڈیم کے مخالف تینوں صوبوں میں اس منصوبے سے متعلق عوامی رائے ہموار ہوسکی ہے نہ مستقبل میں ہموار ہوتی نظر آرہی ہے ۔


افکار و نظریات: کالا باغ ڈیم