عمران خان کا سجدہ

محبوب اسلم

عمران خان کے سجدہ جہالت نے سوشل میڈیا میں ایک طوفان کھڑاکردیا۔ عمران خان کی اندھی تقلید کے مرض میں مبتلا پارٹی کے ٹائیگرز نے ھرطرح سے عمران خان کی اس چول کو سپورٹ کرنے کی کوشش کی اور اس ضمن میں ایسی ایسی دور کی کوڑیاں لایں گئیں کہ الامان والحفیظ۔ مثال کے طور پر یہ بونگی ماری گئی کہ عمران خان نے سجدہ تعظیمی کیا اور چوکھٹ کو صرف چوما تھا۔ لیکن یار لوگوں نے فوراً ایک اور ویڈیو شئیر کر دی کہ عمران خان اپنی ضیعف العتقادی میں چوکھٹ سے بہت پہلے کہیں مزار کی سیڑھیوں پر بھی سجدہ ریز تھے۔ 

میں عمران خان کی اس چول کو اھمیت نہ دیتا اگر وہ اس ملک کی وزارت عظمی کی دوڑمیں شامل نہ ھوتا۔ اسطرح کا بندہ جو وزارت عظمی کے حصول کیلئے قبروں پر ماتھا ٹیک دےوہ وقت آنےپر کہاں کہاں ماتھا نہیں ٹیکےگا۔ ایک تو وہ پہلے ھی ایمپائیر کی انگلی کے چکر میں اپنے بائیس سال کے کلمے کے ورد پر یو ٹرن لے چکا ھے اور اب وہ کھل کر مدد اللہ کی نہیں بلکہ الیٹیبلز کی چاھتا ھے اور نیشنل میڈیا پر بیٹھ کر نہایت بے شرمی سے کہتا ھےکہ یہ امیدوار کرپٹ ھیں یا نہیں وہ یہ نہی جانتا لیکن ٹکٹ وہ ان ھی الیکٹیبلز کودیگا۔۔۔اب بندہ پوچھے ایاک نعبد وایاک نستعین کا بھلا مطلب کیا ھے؟؟؟

اچھا اس بات کو جانے دیں۔۔قوم شاید سو چھتراورسو پیاز کھانے کی عادی ھو چکی ھے۔۔۔سو اللہ مالک ھے۔ لیکن کچھ اچھے خاصے معقول افراد نے اس چول کے سجدے پر تکفیری اور شیعہ کی بحث شروع کی تو مجھ سے رھا نہ گیا۔ جناب یہ مزاروں پر سجدے اسلام کا حصہ کبھی نہیں تھے اور انکا تعلق وھابی فرقے سے جوڑنا یا اسکا تعلق اھل تشیع سے جوڑنا بالکل نامناسب امر ھے۔ اسلام کی تعلیمات قرآن اور سنت کی روشنی میں اظہرمن الشمس ھیں۔

مثال کے طور پر میرا رب العزت سورة الزمر میں ارشاد فرماتا ھے:

 خبردار ،  دین خالص اللہ کا حق ھے۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے اس کے سوا دوسرے سرپرست بنا رکھے ہیں  ( اور اپنے اس فعل کی توجیہ یہ کرتے ہیں کہ  )  ہم تو ان کی عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ وہ اللہ تک ہماری رسائی کرا دیں ، اللہ یقینا ان کے درمیان ان تمام باتوں کا فیصلہ کر دے گا جن میں وہ اختلاف کر رہے ہیں۔ اللہ کسی ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو جھوٹا اور منکر حق ہو(آیت-3)

یوں یہ نقطہ واضح ھوگیا کہ اللہ کا دین ”خالص“ ھونا چاھئے اللہ کیطرف رسائی یا شفاعت کے چکر میں چوکھٹوں کو تعظیماً سجدہ کرنا یا چومنا اللہ کے”خالص“ دین  میں ملاوٹ والی بات ھے۔ یہ بات بھی ملحوظ خیال رکھیں کہ عبادت اور سجدے کا آپس میں گہرا تعلق ھے۔ میرارب سورة الحج میں فرماتا ھے:

 اے ایمان والو! رکوع سجدہ کرتے رہو اور اپنے پروردگار کی عبادت میں لگے رہو اور نیک کام کرتے رہو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ ۔ (آیت 77)

غور کریں کہ میرا رب فرماتا ھے کہ رکوع اور سجدہ اور عبادت میں مشغول رھو۔ یعنی رکوع اور سجدہ عبادت کا کالازمی جز ھیں اور دین خالص اللہ کا حق ھے تو یوں غیر اللہ کے سامنے شفاعت یا برکت کی غرض یا فیض پانے کی جستجو میں تعظیماً سجدہ ریز ھونا اللہ کی عبادت اور اسکے خالص دین میں خیانت والی حرکت ھے۔

دوسری طرف اللہ رب العزت شفاعت کے بارے میں بھی بہت صاف صاف احکامات دے رھاھے۔ مثلاً سورة یونس میں اللہ رب العزت فرماتا ھے: 

 یہ لوگ اللہ کے سوا ان کی پرستش کر رہے ہیں جو ان کو نہ نقصان پہنچا سکتے ہیں نہ نفع ۔ اور کہتے یہ ہیں کہ یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں۔ اے محمد ، ان سے کہو   کیا تم اللہ کو اس بات کی خبر دیتے ہو جسے نہ وہ آسمانوں میں جانتا ہے نہ زمین میں؟ پاک ہے وہ اور بالا و برتر ہے اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔(آیت 18)

یوں یہ صاف صاف ظاھر ھوگیاکہ اللہ تعالی کے ھاں کوئی سفارش اور شفاعت قابل قبول نہیں یہ پیر فقیر اور دیوی دیوتا انسان کو کوئی نفع یانقصان نہیں پہنچا سکتے اور یہ طرز عمل صریحاً شرک ھے۔  سورة یونس میں ھی اللہ تعالی فرماتے ھیں کہ:

 حقیقت یہ ہے کہ تمہارا ربّ وہی خدا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا ،  پھر تختِ حکومت پر جلوہ گر ہوا اور کائنات کا انتظام چلا رہا ہے۔کوئی شفاعت ﴿سفارش﴾ کرنے والا نہیں ہے اِلّا یہ کہ اس کی اجازت کے بعد شفاعت کرے۔ یہی اللہ تمہارا ربّ ہے لہٰذا تم اسی کی عبادت کرو۔ پھر کیا تم ہوش میں نہ آؤ گے(آیت 3)

ذراغور کریں کہ رب العزت فرماتا ھے کہ کوئی شفاعت کرنےوالا نہیں ھے الٌا یہ کی اللہ تعالی پہلے اسے اجازت دے اور ھم احادیث کی روشنی می بخوبی یہ بات جانتے ھیں کہ یہ شفاعت کا مقام۔۔۔مقام محمود صرف رسول اللہ کی ذات اقدس کو حاصل ھے جن پر اللہ کی خاص نظر کرم ھے اور خود اللہ رب العزت ان پردورد بھیجتا ھے۔ اور یوں ان تمام نیک ھستیوں کا جن کے مزاروں پر عمران خان اور پنکی ییرنی جیسےضیف العقیدہ لوگ سجدہ ریز ھیں اور چوکھٹیں اور سیڑھیاں چوم رھے ھیں۔۔۔

میرا رب العزت ان ھستیوں کو قیامت کے دن کھڑاکریگا اور یہ نیک ھستیاں وھاں ان ضیف العقیدہ لوگوں سے برات کااظہار کرینگیں۔ مثلاً اللہ تعالی سورة یونس ھی میں فرماتا ھےکہ:

 جس روز ہم ان سب کو ایک ساتھ ﴿اپنی عدالت میں﴾ اکٹھا کریں گے ،  پھر ان لوگوں سے جنہوں نے شرک کیا ہے کہیں گے کہ ٹھہر جاؤ تم بھی اور تمہارے بنائے ہوئے شریک بھی, پھر ہم ان کے درمیان سے اجنبیت کا پردہ ہٹا دیں گے  اور ان کے شریک کہیں گے کہ تم ہماری عبادت تو نہیں کرتے تھے۔ ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ کی گواہی کافی ہے کہ ﴿ تم اگر ہماری عبادت کرتے بھی تھے تو ﴾ ہم تمہاری اس عبادت سے بالکل بے خبر تھے ۔ اس وقت ہر شخص اپنے کیے کا مزا چکھ لے گا ،  سب اپنے حقیقی مالک کی طرف پھیر دیے جائیں گے اور وہ سارے جھوٹ جو انہوں نے گھڑ رکھے تھے گم ہو جائیں گے۔(آیات 28-30)

غور کیجئے کہ کسطرح بابا فریر اس پنکی پیرنی اور عمران خان کو پہچاننے سے بھی انکار کر دینگے۔ اور انکے سجدے اور چوکھٹیں چومنےسے واقف تک نہ ھونگے۔ اور انکا جھوٹ اوریہ شفاعت کا دھوکہ وھاں آخرت میں غائب ھو جائیگا۔

اب آٰئیے ذرا اس بات کا پتہ چلائیں کی یہ شرک کی لعنت شروع کیسے ھوئی تو قرآن پاک اس سلسلے میں بھی ھماری رھنمائی کرتا ھے۔ اللہ رب العزت سورة التوبہ میں فرماتا ھے کہ:
 
 انہوں نے اللہ کی بجائے اپنے احبار  ( یعنی یہودی علماء )  اور راہبوں  ( یعنی عیسائی درویشوں )  کو خدا بنا لیا ہے ۔    اور مسیح ابن مریم کو بھی ، حالانکہ ان کو ایک خدا کے سوا کسی کی عبادت کرنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا ۔  اس کے سوا کوئی خدا نہیں ۔  وہ ان کی مشرکانہ باتوں سے بالکل پاک ہے ۔ (آیت 31)

اب ان اقوام کاموازنہ اگر ھم اپنی توھمات اور ضیف العتقادی سے کریں تو معاملہ بالکل صاف ھو جاتاھے کہ ھمارے اپنے پیر اور اولیاؑ اکرام کے مزاروں پر سجدےاور ان کی قبروں پر بوسے وھی مکروہ عمل ھے جو ھم سے پہلی والی امتوں نےاپنے اپنے نیک لوگوں کیلئے جاری رکھا اور اللہ کے عذاب کی حقدار ٹھہریں۔۔۔تو پھر ھمارےساتھ اللہ تعالی کا معاملہ مختلف کیونکر ھوگا؟؟؟

اور آخر میں رسول اللہ (ص) کی ایک حدیث جوانکےبستر مرگ سے تعلق رکھتی ھے صاف ظاھر کرتی ھے کہ خود انھیں اس بات کا خدشہ تھا کہ کہیں بین یہی معاملہ انکی اپنی امت ان کے ساتھ روا نہ رکھے۔ صحیح مسلم کی حدیث ھے کہ:
 
۔ حضرت جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : میں نے نبیﷺ کو آپ کی وفات سے پانچ دن پہلے یہ کہتے ہوئے سنا : ’’ میں اللہ تعالیٰ کے حضور اس چیز سے براءت کا اظہار کرتا ہوں کہ تم میں سے کوئی میرا خلیل ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا خلیل بنا لیا ہے ، جس طرح اس نے ابراہیم علیہ السلام ‌ ‌ کو اپنا خلیل بنایا تھا ، اگر میں اپنی امت میں سے کسی کو اپنا خلیل بناتا تو ابو بکر کو خلیل بناتا ، خبردار! تم سے پہلے لوگ اپنے انبیاء اور نیک لوگوں کی قبروں کو سجدہ گاہیں بنا لیا کرتے تھے ، خبردار! تم قبروں کو سجدہ گاہیں نہ بنانا ، میں تم کو اس سے روکتا ہوں۔ (صحیح مسلم # 1188)۔

یوں قرآن اور حدیث کی روشنی میں یہ بات ثابت ھو گئی کہ مزاروں پر سجدے اورعقیدت کے بوسےسب خرافات کا حصہ ھیں اوراللہ کی عبادت اور اسکے خالص دین کی خیانت کرنے کے مترادف ھے۔ اسکا تعلق کسی وھابی یا شیعہ مکتب فکر سے نہیں ھے بکہ یہ قرآن اور حدیث سے ثابت ھے۔

جو مزار موجود ھیں وھاں سجدوں اور چوکٹھوں کو چومنا ایک قبیح عمل ھے اور اللہ تعالی کی نافرمانی کے زمرے میں آتا ھے اللہ تعالی ھمیں اس مکروہ اور قبیح عمل سے محفوظ رکھے۔ آمین۔

والسلام


افکار و نظریات: عمران خان کا سجدہ