مولانا کا کچھ خرچ ہی نہیں ہوا

 تحریر: اشرف سراج گلتری

اٹھارویں صدی میں انگلستان نےبرصغیر پر قبضہ جمالیاتھا۔ جنہوں نے تاجِ برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے کے لئے قربانیاں دی تھیں، سزائیں بھگتی تھیں، جیلیں کاٹی تھیں ، ان کی اولادیں آج بھی فخر سے یومِ آزادی پاکستان مناتی ہیں۔

لیکن جو انگریزوں کے قدموں میں جا کر بیٹھ گئے تھے، ہندووں کے ساتھ مل گئے تھے ، جو دارالعلوم دیوبند سے لے کر سعودی عرب تک قائداعظم کو کافراعظم کہہ رہے تھے وہ لوگ آج  پاکستان کو غلامی کا طعنہ دے رہے ہیں۔

افسوس کی بات ہے کہ جن کے پورے کے پورے مسلک نے ہی قیام پاکستان کی مخالفت کی تھی اور جنہوں نے پاکستان کی آزادی کی خاطر ایک نعرہ تک نہیں لگایا تھا بلکہ الٹا قائداعظم کو کافراعظم اور پاکستان کو کافرستان کہا تھا ،اُن کی اولادیں آج پاکستان کی وارث بنی ہوئی ہیں اور وہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان غلام ہے اور ہم نے اسے پاکستانی فوج سے آزادی دلانی ہے۔

پاکستانی فوج در اصل ہندوستان اور اسرائیل کی آنکھوں میں کانٹا بن کر کھٹک رہی ہے ،  یہ لوگ ماضی میں بھی یہود و ہنود کے ایجنٹ تھے اور آج بھی انہی کے اشارے پر پاکستانی فوج کے خلاف زہر اگل رہے ہیں۔

 آج عالی شان محلات میں بیٹھ کر مرغن غذائیں کھانے والا مولانا فضل الرحمن آزادی کی قدرومنزلت سے اس لئے غافل ہیں کہ ان کے آباو اجداد نے پاکستان کی خاطر  ایک نعرہ تک نہیں لگایا۔

اگرمولانا کے آباواجداد بھی اس آزاد ریاست کےلئے اپنے حصے کادیا جلا تے  تو مولانا کو بھی کچھ پتہ ہوتا کہ پاکستان کی آزادی کتنی بڑی نعمت ہے۔

اس آزادی کی قیمت فقط وہ لوگ جانتے ہیں جنہوں نے قربانیاں دی ہیں۔ تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے ، جن کے باپ دادا نے کل کو پاکستان کی مخالفت کی تھی آج ان کی اولاد افواج پاکستان کی مخالفت کر رہی ہے۔

 ہم کل بھی اپنی مسلح افواج کے ساتھ کھڑے تھے اور آئندہ بھی اپنی پاک فوج کے دم بدم کھڑے رہیں گے، البتہ اب ان لوگوں کو سوچنا چاہیے کہ جو ایم ایم اے کے اتحاد کے نام پر مولانا  کی چھتری تلے جمع ہوئے تھے کہ وہ بھی افواج پاکستان کے خلاف ہیں یا پاکستان کے محافظوں کے ساتھ ہیں۔


افکار و نظریات: مولانا کا کچھ خرچ ہی نہیں ہوا