جماعتِ اسلامی سے ڈرئیے!
تحریر : چمن آبادی

نہ آسمان گرا اور نہ زمین پھٹی۔ گزشتہ روز ننکانہ صاحب میں قیامت کا منظر تھا۔مشتعل ہجوم نے پولیس کی حراست سے چھین کر ایک شخص کو وحشیانہ تشدد کر کے مار ڈلا۔ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا۔ایسا ہمارے ہاں ہونا اب معمول بن چکا ہے۔ جنونی مُلّائیت کو ہمارے ہاں پاپائیت کا درجہ حاصل ہے۔ ایسا کرنا در اصل اپنے گناہوں کو بخشوانے اور جنت میں جانے کیلئے ضروری ہو گیا ہے۔ جن لوگوں نے ہماری ایسی تربیت کی ہے وہ ہر قانون سے بالاتر ہیں۔ یہی تو وجہ ہے کہ معاویہ اعظم طارق کی مانند اُن کا نام فورتھ شیڈول کی لسٹ میں بھی ہو تو وہ سارایورپ آرام سے گھوم لیتے ہیں اور احسان اللہ احسان کی طرح ہزاروں پاکستانیوں کا خون بہانے کے بعد آرام سے فوجی بیرکوں سے منزل مقصود پر پہنچا دئیے جاتے ہیں۔
دوسری طرف مولوی صاحب نے توہین صحابہ بل کے نام پر جو گُل کھلائے ہیں، ان کا نتیجہ ایسے پُرتشدد واقعات میں مزید اضافہ ہی نکلے گا۔ جماعتِ اسلامی ویسے بھی پاکستانیوں کی پُشت میں خنجر گھونپنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتی۔ بنگلا دیش کی علیحدگی کے بعد سو جماعت کا یہ وار بھی کارگر ثابت ہوا۔
گزشتہ دنوں ابتسام الٰہی ظہیر سمیت متعدد مولویوں کے متعدد کلپس سوشل میڈیا پر دیکھے گئے جن میں انہوں نے پنجاب کے نومنتخب نگراں وزیر اعلٰی محسن نقوی پر توہین صحابہ کا الزام لگایا ہے۔

توہین مذہب کے نام پر اب جس کا دِل کرے جسے چاہے مار دے۔ الزام لگانے والے سے کوئی یہ بھی نہیں پوچھ سکتا کہ کہ جو تمہارے نزدیک صحابی ہونے کا معیار ہے کیا وہی دوسرے کے نزدیک بھی ہے؟ اور کیا دوسرا آدمی تمہارا غُلام ہے کہ وہی تمہارے من پسند لوگوں کے آگے جھکتا پھرے؟

اس سے بڑی انسانیت، عقیدےاور مذہب کی کیا توہین ہوگی کہ کچھ لوگ عقل و منطق اور دلیل کے بجائے صرف اپنی داڑھیاں لمبی کر کے دوسروں کو زبردستی اپنا غُلام بنانا چاہتے ہیں؟

یہ توہین مذہب کا پھندا لئے دندناتے پھر رہے ہیں، جسے چاہتے ہیں اُسے موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں۔
ایک بات یاد رہے کہ شیعہ فقہاء اور مراجع عظام نے صریح الفاظ میں مُسلمانوں کے مقدسات کی توہین کو حرام قرار دیا ہے۔ صحابہ کرام اور اہل بیت عظام ع کے محترم ہونے کے بارے میں دو رائے نہیں ہیں لیکن پہلے توہین صحابہ کا مفہوم و مصداق ہر ایک کے لیے واضح اور روشن ہونا چاہیے۔

قومی اسمبلی میں توہین صحابہ کی سزا مقرر ہونے سے پہلے پاکستان میں بسنے والے تمام مسلمان مکاتب فکر کے جید علماء اور فقہاء پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو صحابہ اور توہین صحابہ کی جامع اور مانع تعریف پیش کرئے۔

توہین کرنے اور اپنے مذہبی اعتقادات کو نسل نو تک منتقل کرنے میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔

افسوس کی بات تو یہ ہے کہ اس ملک کے ازلی دشمن جنہوں نے قائد اعظم کو کافر اور دوقومی نظریے کو باطل کہا تھا ایک مرتبہ پھر نئی چال کے ساتھ ارض پاک کو اس کے بیٹوں کے خون سے رنگین کرنے کی ٹھان چکے ہیں۔ اب تک پاکستان میں جتنے قتل و غارتگری ہوئی اسی ملک دشمن ٹولے کے ہاتھوں ہوئی وہ مساجد و امامبارگاہوں، جلوس عزا، اولیاء اللہ کے درباروں اور عیدگاہوں میں ہوتی رہی تھی لیکن قومی اسمبلی سے توہین صحابہ و اہل بیت بل کے پاس ہونے کے بعد اذیت و آزار، قید و قتل کا سلسلہ باقاعدہ قانونی شکل اختیار کرچکا ہے۔

پاکستان میں اب یہ لوگ اپنے مذموم مقاصد کیلئے ملکی قانون کو استعمال کریں گے۔مجھے نہیں پتہ کہ مُلکی سلامتی کے ادارے اس وقت ستوپی کر سو رہے ہیں یا لسّی پی کر۔ البتہ ننکانہ واقعے کی پُرتشدد ویڈیو نے ہر حسّاس مزاج اور باشعورپاکستانی کی نیند حرام کر دی ہے۔

ڈرئیے اس وقت سے کہ جب ریاست سے لوگوں کا اعتماد اٹھ جائے، جوابی کارروائیاں ہونے لگیں، لوگ اینٹ کا جواب پتھر سے دینے پر مجبور ہوجائی، تنگ آمد بجنگ آمد کی صورتحال میں جماعتی اسلامی تو سانحہ بنگلہ دیش کی طرح اپنا کام دکھا جائے اور باقی پاکستانی اپنے زخم چاٹتے رہ جائیں۔

ڈرئیے اس وقت سے کہ پھندے کا رُخ اُلٹا مُڑ جائے۔ اگرآپ کسی اور سے نہیں ڈرتے تو جماعتِ اسلامی سے ضرور ڈریے اس لئے کہ مُلکی حالات ایک مرتبہ پھر ۱۹۷۱ جیسے ہیں اور جماعتِ اسلامی کا کردار بھی ایک مرتبہ پھر ۱۹۷۱ جیسا ہی نظر آ رہا ہے۔

آپ کی پسند: جماعتِ اسلامی اور دھوکہ دہی


افکار و نظریات: جماعتِ اسلامی سے ڈرئیے