قائد کے نظریات پر خطِ تنسیخ

نگران وزیراعظم کے پریشان کُن بیان کے بعد ضرورت ہے کہ صاحبانِ علم و فضل قائداعظم محمد علی جناح کی شخصیت اور نظریات کا علمی و منطقی طور پر دفاع کریں۔ یہ ہمارے فرزندِ پاکستان اور قائداعظم کے نظریاتی وارث ہونے کا تقاضا ہے۔
______
✍️ ۔۔۔ ایم اے راجپوت
_______
ہمیں سب سے پہلے قوم اور قائد کے درمیان پائے جانے والے فرق کو جاننا چاہیے۔ اگر کہیں پر خدا نخواستہ کوئی قوم اپنے قائد کے پیچھے چلنے کے بجائے اس سے آگے نکلنے کی کوشش کرے،اس کے نظریات کی مخالفت کرے،اس کی طرف سے پیش کردہ راہنما اصولوں کی مخالفت کرے،اس کے راستے سے ہٹ کر جدا راستہ اپنا لے تو پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسی قوم در اصل قائد اور قوم کے فرق کو ہی نہیں جانتی۔
قائد عربی زبان کا لفظ ہے ۔قائد کا معنی رہبر ہے ۔انگریزی میں قائد کو لیڈر کہتے ہیں ۔قائد کا کام اپنی قوم کی رہبری کرنا ہوتا ہے اور قوم کا کام اپنے قائد کی رہبری و راہنمائی کے مطابق عمل کرنا ہوتا ہے ۔ لہذا قائد اس وقت تک قائد ہوتا ہے جب تک قوم اس کے پیچھے چل رہی ہو، اس کے نظریات کو قبول کرتی ہو ۔اس کی راہنمائی میں آگے بڑھے، اس کے بتائے ہوئے راستے کو اپنے لیے نصب العین سمجھے، اور اس کے بتائے ہوئے اصولوں کو اپنے لئے روڈ میپ قرار دے۔
جہاں تک حضرت قائد اعظم محمد علی جناح رحمت اللہ علیہ کی قیادت اور رہبری کی بات ہے تو ان کی قائدانہ صلاحیتوں کو تو گاندھی جی و انگریزوں جیسے مدّمقابل بھی تسلیم کرتے تھے اور ان کی قائدانہ صلاحیتوں کی معترف ساری ہندوستانی قوم بھی تھی، تبھی تو پاکستان بنا تھا۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ قائد اور رہبر قوم کا باپ ہوتا ہے اور اسی وجہ سے حضرت قائد اعظم رحمت اللہ علیہ کو بابائے قوم کا لقب بھی دیا گیا۔ بائے قوم یعنی قوم کے باپ۔ ایک نظریاتی باپ کی مخالفت در اصل اس قائد کے وژن پر خطِ تنسیخ کھینچنا ہوتا ہے۔
ہمارے قائد اعظم یعنی ہمارے نظریاتی باپ نے جب اسرائیل کے وجود کی نفی کردی تو پھر ہم میں سے کوئی بھی یہ جرائت نہیں کر سکتا کہ وہ قائداعظم کے نظریات پر خطِ تنسیخ کھینچے۔
رہی بات یہ کہ قائد اعظم رحمت اللہ علیہ کی مخالفت اور نافرمانی کفر ہے یا نہیں ؟
تو ظاہر ہے کہ کفر نہیں لیکن ملک و قوم سے غدّاری اور آئین و قانون سے بغاوت ضرور ہے۔ کیا آئین پاکستان سے بغاوت کُفر ہے؟
یہ بات بھی خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ کسی بات یا عمل کے کفر نہ ہونے کا مطلب یہ بھی نہیں ہوتا کہ ہم اسے اپنا لیں۔ مثلا مومن کی غیبت کرنا ،کسی پر تہمت لگانا ،جھوٹ بولنا اور دوسروں کے خلاف پروپیگنڈہ کرنا وغیرہ کفر نہیں اور اسی طرح چوری،ڈاکہ،زنا ،حرامخوری اور قتل و غارت جیسے اعمال بھی کفر نہیں لیکن گناہ اور جرم تو ہیں۔ جرم اور گناہ کفر ہو یا نہ ہو اس کا ارتکاب انتہائی خوفناک عمل ہے۔
حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:حکومت کفر سے تو چل سکتی ہے لیکن ظلم سے نہیں ۔
اسی طرح یہ نکتہ بھی بہت اہم ہے کہ اگر ہمارے لئے اپنے قائد اعظم اور بابائے قوم کی مخالفت اور نافرمانی کر لینا آسان ہو گیا تو پھر ان کے بعد اور ان سے نیچے کی شخصیات اور اداروں کی مخالفت و نافرمانی تو اور بھی آسان ہو جائے گی۔ بعض اداروں کے مخالفین کو بھی موقع مل جائے گا۔وہ کہیں گے کہ پاکستان کی مخالفت بھی تو کفر نہیں پاک فوج کی مخالفت بھی تو کفر نہیں، جج کے فیصلے کی مخالفت اور نافرمانی بھی تو کفر نہیں،فلاں سرکاری افسر کے حکم کی مخالفت بھی تو کفر نہیں،قانون کی مخالفت بھی تو کفر نہیں،ٹیکس نہ دینا بھی تو کفر نہیں،بل ادا نہ کرنا بھی تو کفر نہیں، ووٹ نہ دینا بھی تو کفر نہیں ۔؟!
مانا کہ قائد اعظم کی مخالفت اور نافرمانی کفر نہیں لیکن ان کی مخالفت و نافرمانی ،نافرمان و مخالف شخص کی پاکستانیت کو ضرور مشکوک بناتی ہے ۔

نظریاتی تحریریں

ہمیں وٹس ایپ پر جوائن کریں


افکار و نظریات: google, daily, Voice, tv